جمال عبدالناصر کی آمد پر پشاور جانا:
۱۵؍اپریل: جمال عبدالناصررئیس متحدہ عرب جمہوریہ مصر کی آمد کے سلسلہ میں پشاور جانا ہوا۔اکثر احباب سے ملنا ہوا۔لوگوں کے شدید اژدہام اوربدنظمی کی وجہ سے ہوائی اڈہ پر موجود ہونے کے باوجود رئیس عرب کو دیکھ نہ سکے ان کی کار تیزی سے لوگوں کے ریلے میں گذری۔ رات برادرم عبداللہ کاکاخیل کی معیت میں پشاور ٹھہرا اور دوسرے دن شام کو گھر واپسی ہوئی۔
حقانیہ میں احقر کی تدریس کا آغاز اور مفوّضہ کتب :
۲۰؍اپریل: الحمدللہ آج سے دارالعلوم میں اسباق کا باقاعدہ آغاز کیا۔بندہ کے ذمہ مدرسہ کی جانب سے مندرجہ ذیل کتابیں لگادی گئیں: ونسئل اللہ التوفیق (۱) علم الصیغہ (۲) کنزاول (۳) نحومیر (۴)میزان الصرف (۵) مفید الطالبین (۶) نفحۃ العرب (۷) قدوری خارج میں زیردرس کتابیں (۸)فصول اکبری (۹) مرقات (۱۰) صغری کبریٰ بھی ہیں ۔رسم افتتاح دارالحدیث میں کی گئی۔
سالانہ جلسہ میں اکابرین کی شرکت اورانکے مبارک ہاتھوں سے احقر کی دستاربندی:
۲۳؍ اپریل: مولانا خیرمحمد صاحب مہتمم مدرسہ خیرالمدارس ملتان جلسہ میں شرکت کے لئے بعد ازنماز مغرب سندھ ایکسپریس سے پہنچے ۔
۲۴؍اپریل: صبح خیبرمیل سے مولانا محمدادریس صاحب کاندھلوی تشریف لائے۔ حضرت شیخ التفسیرمولانا احمدعلی لاہوری بوجہ ناگہانی علالت تشریف نہ لاسکے‘بعد از نماز ظہر جلسہ دستار بندی کا آغاز ہوا۔
مولانا غورغشتوی کی صدارت میں جلسہ :
اس موقع پر ناچیز کی بھی رسم دستار بندی بدستہائے مبارک مولانا نصیر الدین غورغشتویؒ ‘ مولانا خیر محمد جالندھری ودیگر اکابرین کی گئی۔ دیگر فضلاء کرام کی دستاربندی بھی ہوئی پھر مولانا ادریس صاحب نے مجمع سے خطاب کیا‘ شام کو مجلس مشاعرہ منعقد ہوا۔ پیرکی رات جلسہ کی تیسری نشست ہوئی جس میں مولانا خیر محمد جالندھری ‘ مولانا شمس الحق افغانیؒ اورعلامہ خالد محمود کی تقاریرہوئیں۔ اجلاس کی آخری نشست میں مولانا محمد علی جالندھری اور مولانا غلام غوث ہزاروی وغیرہ کے ارشادات سے علماء وطلباء اورعوام الناس مستفید ہوئے۔ جلسہ کے دیگر شرکاء میں مولانا عبدالحنان ہزاروی ‘ مولانا عبدالہادی شاہ منصور ،مولانا سیدگل بادشاہ طورو اورپشاور ‘مردان و بنوں اضلاع کے مدارس کے مہتممین شامل تھے۔
برادرم مولانا عبداللہ کاکاخیل اور مولانا قاری سعید الرحمن صاحب کاآج ہمارہے ہاں قیام رہا۔ اگلے روز واپس ہوئے۔
۲۹ اپریل: برادرم عبداللہ کاکاخیل کی کراچی روانگی ہوئی ‘ راولپنڈی تک رخصتی کے لئے میں بھی گیا اور شام کو