مدنی مدظلہم سے ملاقات ہوئی‘ شام تک انکے ساتھ رہا۔مولانا گزشتہ روز بذریعہ طیارہ کراچی سے تشریف لائے۔
رات چناب ایکسپریس میں اکوڑہ واپسی ہوئی۔
خان اعلیٰ اکوڑہ خٹک زمان خان کی رحلت:
۷جنوری: خان اعلیٰ محمد زمان خان خٹک رئیس اکوڑہ خٹک انتقال کرگئے۔
اگلے دن خان اعلیٰ کا نماز جنازہ عیدگاہ میں پڑھایا گیا اوراپنی مسجد کے جنوبی دروازہ میں بہ سمت قبلہ سپرد خاک کئے گئے۔
حضرت مدنی ؒکی مراقبہ ودعا میں شرکت:
۸جنوری: مسجد حکیم صاحب موضع گنڈیری مردان میں حضرت مولانا عبدالغفور صاحب کے مراقبہ ودعا میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔
۹جنوری: رات خیبرمیل سے حضرت مولانا مدنی عباسی براستہ ملتان واپس ہوئے ۔
پیرمانکی صاحب کا انتقال جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت:
۲۸جنوری: حضرت پیرصاحب امین الحسنات مانکی شریف مرحوم کا راولپنڈی میں وصال ہوا۔موصوف ۵جنوری کو کار کے حادثے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔اگلے روز جنازہ اورتدفین عمل میں آئی‘جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی‘ جن میں ملک بھر کے مشائخ علماء اور مرحوم کے رفقاء اور متوسلین کی کثیرتعداد بھی شامل تھی۔
اسلامیہ کالج اوریونیورسٹی کے کتب خانوں کا معائنہ اور قدیم نادر کتب ملاحظہ کرنا:
۳۰جنوری: صبح مردان سے براستہ چارسدہ پشاور روانگی ہوئی ‘راستہ میں حکیم مولوی عبدالحق (فاضل حقانیہ والد شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس حقانی )سے ملاقات کیلئے برادرم عزیز الرحمن حیدری کے ساتھ اتمانزئی اترے جہاں دو گھنٹے قیام کیا‘ اس دوران ’’ڈاکٹر خان‘‘ کی قبر بھی دیکھی (مرحوم بادشاہ خان کے بھائی گورنر مغربی پاکستان لاہور میں قتل کئے گئے تھے ) عصر کے بعد پشاور پہنچے‘ جہاں ماموں زاد بھائی عبیدالرحمن کی رفاقت میں مولانا عبدالقدوس استاد کلیہ الشریعۃ سے ملاقات ہوئی اور کل کیلئے اسلامیہ کالج کی لائبریری دیکھنے کا پروگرام طے ہوا رات کو ہ نور ہوٹل میں عبیدالرحمن کیساتھ ٹھہرے‘ اگلی صبح ۱۰ بجے مولانا عبدالقدس کی رہنمائی میں اسلامیہ کالج کی عظیم لائبریری جس میں عجیب وغریب علمی نوادرات‘ قدیم مخطوطات اور مختلف علوم وفنون کے بیشمار کتب موجود ہیں‘ دیکھنے کا موقع ملا۔ مولانا عبدالحق محدث دہلوی کے دست مبارک سے لکھے کتب اور بعض قدیم مصنفین کے تصنیفی دور کے لکھے ہوئے مخطوطات جیسے فتح الباری کا ایک نسخہ جوکہ اس کتاب کی تکمیل سے قبل کے دور کا لکھا ہواہے‘ نظر سے گزرے ‘ بعد میں پشاور یونیورسٹی کا مکتبہ جوکہ مولانا عبدالسبوح قاسمی کے زیرانتظام وانصرام چل رہا ہے (مولانا عبدالقدوس قاسمی ‘مولانا عبدالسبوح قاسمی ، دیوبند کے فضلاء مرحوم قاضی حسین احمد کے بڑے بھائی تھے) بھی جانا ہوا‘ وہاں