(د) حضرت میمونہؓ جس کی بہن سردار نجد کے گھر میں تھیں اس نکاح نے نجد میں صلح اور اسلام پھیلانے کے بہترین نتائج پیداکئے۔
(ھ) حضرت زینب بنت جحش کے نکاح نے تبنیّت (لے پالک بیٹے ) کے بت کو توڑا ،عقیدہ تبنیّت کو کھوکھلا کردیا مشرکین واہل کتاب کی درستی اس کے بغیر ممکن نہ تھی۔
(و) حضرت عائشہ صدیقہؓ نے حفاظت کتاب اللہ ونشراحادیث وتعلیم النساء کے بارہ میں فوق العادت کام کئے ‘ حضرات صدیقؓ وفاروقؓ کے دور خلافت کو زیادہ بابرکت بنایا۔کتب احادیث میں روایات کی تعداد ۲۲۱۰ صحیحین میں متفق علیہ ۱۷۴‘ صرف بخاری ۵۴ صرف مسلم ۶۷ دیگرکتب معتبرہ ۲۰۱۷ حدیثیں مروی ہیں جبکہ فتاویٰ حل مشکلات مسائل وغیرہ اس سے الگ ہیں۔
(ز) حضرت حفصہؓ سے مذکورہ فوائد بھی حاصل ہوئیں نیزحضرت عمرؓ کی دلجوئی بھی مقصود تھیں‘آپؓ کی مرویات ۶۰ہیں۔
(ح) حضرت سودہؓ حبشہ ہجرت کرچکیں توخاوند وہاں انتقال کرگیا آپ ؐ نے مصائب ختم کرنے کیلئے بعد ازوفات حضرت خدیجہؓ ، آپؓ سے نکاح کیا۔
(ط) حضرت زینب بنت خزیمہؓ احد میں خاوند کے شہادت کے بعد حضور ﷺ نے اِن سے نکاح کیا دو تین مہینے بعد از نکاح زندہ رہیں۔
(ی) حضرت ام سلمہؓ (ہند) بنت ابی امیہ۔ہجرت حبشہ ومدینہ کی سخت آزمائشیں پوری کیں ان تفصیلات کی وجہ سے آپ نے ان سے نکاح کیا۔ (رحمۃللعالمین ج۲ از مولانا قاضی سلیمان منصور پوری)
۱۹۶۰ ء کی ڈائری سے سوانحی احوال
یکم جنوری ۶۰ئ: پشاور بغرض ملاقات حضرت الشیخ مولانا عبدالغفور مدنی مدظلہ جانا ہوا ۔آج ان کی آمد ملتوی ہوگئی‘ اب پیر کے دن ساڑھے بارہ بجے طیارہ کے ذریعہ پہونچیں گے۔اکوڑہ پولنگ کا آغازہوا۔
۳جنوری: پشاور بعد از ظہر روانہ ہوا‘ رات برادرم عبداللہ کاکاخیل کے ہاں زیارت کاکاصاحب میں گذاری دوسرے دن صبح پشاور روانگی ہوئی۔
تنظیم فضلاء دیوبند پشاور ریجن کا اجلاس اورصدر کا انتخاب :
٭ تنظیم فضلاء دارالعلوم دیوبند ضلع پشاور کا اجتماع دارالعلوم حقانیہ میںوالد صاحب کی صدارت میں ہوا۔ تقریباً ایک سو علماء نے شرکت کیں ، مولانا (عبدالحق) نافع گل ریجن پشاور کے صدر منتخب ہوئے۔
مولاناعبدالغفور صاحبؒ عباسی مدنی کی صحبت میں:
جنوری: عبداللہ کاکا خیل کی رفاقت میں پشاو رجانا ہوا۔ نوتھیہ میں دس بجے کے قریب حضرت الشیخ مولانا عبدالغفور