ہےبلکہ یہ جو کچھ لازم آیا زید کے عقیدہ پرلازم آیا ہے کہ وہ عالم الغیب مانتا ہے نہ کہ حضرت تھانویؒ کے عقیدہ پر ۔ چنانچہ حضرت تھانوی رح ان تشبیہات کے بارہ میں اپنے رسالہ ” بسط البیان “ صفحہ (١۰، ١١) پر فرماتے ہیں ۔
میں نے یہ خبیث مضمون کسی کتاب میں نہیں لکھااورلکھنا تو در کنار میرے قلب میں بھی اس مضمون کا کبھی خطرہ نہیں گذرا ۔میری کسی عبارت سے یہ مضمون لازم بھی نہیں آتا ۔ جو شخص ایسا اعتقاد رکھے يا بلا اعتقاد صراحۃً يا اشارةً یہ بات کہے ؛ میں اس شخص کو خارج از اسلامسمجھتا ہوں کہ وہ تکذیب کرتا ہے نصوص قطعیہ کی اور تنقیص کرتا ہے حضور ﷺکی “ ۔
پھر حفظ الایمان صفحہ ۹/ میں یہ عبارت بھی موجود ہے کہ :” نبوت کے لئے جو علوم لازم وضروری ہیں وہ آپ کو بتمامہا حاصل ہو گئے تھے “۔
اپنی اس عبارت کے پیش نظر حضرت تھانوی ؒنے اعلی حضرت بریلوی کے اعتراض و اتہام کا جواب دیا ہے ۔ چنانچہ ”حفظ الایمان “ کی شرح بسط البنان “( ص ١۲) میں اس عبارت کو نقل کر کے فرمایا ہے کہ : ”انصاف شرط ہے جو شخص اس کو جمیع علوم عالیہ شریفہ متعلقہ نبوت کا جامع کہ رہا ہے کیا وہ نعوذ باللہ زید، عمرو ، صبی ، مجنون اور حیوانات کے علم مماثل آپ ؐکے علم بتلادےگا ؟ کیا زید ،عمرو وغیرہ کو یہ علوم حاصل ہیں ؟ یہ علوم تو آپ کے مثل دوسرے انبیاء وملائکہ علیہم السلام کو بھی حاصل نہیں “ ۔
اس تقریر سے معلوم ہو گیا ہوگا کہ عبارت مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ کے علم کے مشابہ معاذاللہ زید ،عمرو، بکر وغیرہ کے علم کو کہا کب گیا ہے ؟ کہ اپنے مفروضات سے ان پر بوچھار کی جائے۔ پھر آگے کی سطور میں تحریر فرمایا ہے ” اس شق پر جو محذور لازم کیا گیا ہے اس میں غور کرنے سے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ مشابہت کی نفی کی گئ ہے ۔ چنانچہ بعض مطلق علوم غیبیہ کے مراد لینے پر تو یہ خرابی بتلائ ہے کہ اس میں حضور ﷺکی کیا تخصیص ہے ؟ “ الخ
یعنی اس صورت میں آپ ؐکی تخصیص نہ رہے گی ؛ بلکہ زید ،عمرو ،بکر وغیرہ بھی اس صفت میں آپ ؐکے شریک ہو جائیں گے ۔ حالاں کہ آپ ؐ کی صفات خاصہ کمالیہ میں آپؐ کا
۱۸