بیچارہ علمی کمالات نبوت میں سے کسی کمال کا کیا مقابلہ کرسکتا،انسانیت میں سامنے نہیں آسکتا ؛ حالانکہ اسے ایک ایسے جزئیہ کا علم ہوگیا جوسلیمان علیہ السلام کو اسی کے بتانے سے ہوا۔ لہذا زید کا بعض علم غیب مراد لے کر سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہنا درست نہ ہوگا ،کیونکہ اس صورت میں زید حضرت فخردوعالم سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایسی چیز ثابت کرتا ہےجو درحقیقت کمالات نبوت میں سے نہیں بلکہ اس کے لیےایمان یا انسانیت بھی شرط نہیں ، توکیا اس صورت میں زید اپنے عقیدۂ "علم غیب" کی وجہ سے حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا مرتکب نہیں ہوگا، درآں حالے کہ وہ اپنے ذہن میں اسے مدح و منقبت خیال کیے ہوئے ہے؛ پس ایک صورت میں (علمِ غیب کلی مان کر) تو اس نے حضورؐ کو خدائے تعالٰی وحدہ لاشریک لہ کے برابر قرار دیدیا، جو شرک ہے۔ اور دوسری صورت میں وہ(علم غیب جزئی مان کر) حضرت فخر کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کی مدح و ثناء نہیں بلکہ تنقیص و توہین کررہا ہے؛ لہذا زید کو ایسے عقیدے اور قول سے توبہ لازم ہے۔
علاوہ ازیں اگر زید حضورؐ کو بایں معنی عالم الغیب کہے اور تاویل کرے کہ اس سے مراد عالم الغیب بلواسطہ عالم الغیب نہیں اور حضور بالواسطہ عالم الغیب ہیں تو یہ تاویل بھی رکیک تاویل ہوگی جس سے بات کی غلطی نہیں چھپائی جاسکتی اور نہ ایسی غلط بات کہنے کی کسی کو اجازت دی جا سکتی ہے ہے، کیوں کہ اس صورت میں (قطع نظراصولی غلط کاری کے) دین ایک کھلونا بن کر رہ جائے گا ،کہ اللہ تعالٰی کی جس کی صفت الوہیت کو کو چاہا کسی تاویل اور واسطہ بلا واسطہ کے فرق سے حضرت رسول اکرمﷺ کے لئے ثابت کردیا اللہ تعالٰی سے بالواسطہ کی نفی کردی اور حضورؐ کے لئے وہی صفت بالواسطہ ثابت کردی۔ یہ حاصل ہے حضرت مولانا تھانویؒ کے جواب کا؛ اس میں حضرت مولاناؒ نے کہیں بھی اپنا خود کا یہ عقید بیان نہیں فرمایا کہ غیب کی کی باتوں کا جیسا علم حضرت رسول اکرمﷺ کو ہے ایسا تو ہر بچہ اور ہر پاگل بلکہ ہر جانور اور چارپائے کو
۱۷