الاطلاع علٰی بعضها فلا يکون خاصۃ النبی ﷺ إذ ما من احد إلّا ويجوز ان يطلع علٰی بعض الغائبات الخ۔
الغرض جب مصنف ؒ نے ۱۳۴۲ ھ میں عبارت میں توضیح کرکے جڑ ہی کاٹ دی، تو پھر اس پرانی عبارت کو کہ اس میں بھی عقلاء کے لئے ان تحریفات کی گنجائش نہ تھی، مخلوق کے سامنے پیش کرکے مصنّفین سے نفرتیں دلاتے رہنا، نہ مصنف کی تبرّی و تحاشی کو دیکھنا، نہ جوابات دیکھنا، نہ توضیح کردہ عبارت کو دیکھنا آخر دیانت کا کونسا عمل ہے، جسے شب و روز کا مشغلہ بناکر رکھا جائے ۔
(۵) سوال: -
حضرت مولانا اسماعیل صاحب شہید دہلوی ؒ کی کتاب مسمی بہ " صراط مستقیم" موجود ہے، اس کی بھی ایک عبارت نے ذہن کو خلجان میں ڈال دیا ہے، ذہن میں ایک قسم کا تذبذب پیدا ہوگیا ہے کہ واقعی بریلوی لوگ جو کہا کرتے ہیں وہ سچ ہے یا غلط۔ اب میں پریشان ہوں کہ کیا کروں عبارت "صراطِ مستقیم " کی یہ ہے:
" صرفِ ہمت بسوئے شیخ و امثالِ آں از معظمین گوکہ جنابِ رسالت مآب باشند، بچندیں مرتبہ بدتر از استغراق در صورتِ گاؤ خر خود است کہ خیال آں بتعظیم وجلال بسویدائے دلِ انسان می چسپد بخلاف گاؤخر" (صراطِ مستقیم مطبوعہ مجتبائی ۹۵) ۔
یعنی ہمہ تن متوجہ ہوجانا پیر ومرشد یا ان کے مثل بزرگوں کی طرف، گوکہ حضرت رسالت مآب ﷺ ہوں، اپنے گائے اور گدھے کہ خیال میں ڈوب جانے سے بھی بدتر ہے، کیونکہ ان کا خیال انسان کے دل میں تعظیم اور بزرگی کے ساتھ آتا ہے، بخلاف گائے اور گدھے کے خیال کے ۔
نوٹ: جب رسول اللہﷺ کا خیال نماز میں آنا بدتر ہوا گائے اور گدھے کے خیال کے آنے سے، تو کیا نماز میں تشہد پڑھا جائے یا نہیں، جب کہ تشہد میں " السلام علیک ایھا النبی " موجود ہے، اس موقع پر کیا کیا جائے، تشہد پڑھا جائے اور
۲۰