Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق ربیع الثانی 1436ھ

ہ رسالہ

10 - 16
کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
	
گوگل کمپنی کی ویب سائٹ پر اشتہارات دینا
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ گوگل ایک انٹرنیٹ کمپنی ہے، جس کی ایک سائٹ یوٹیوب بھی ہے، گوگل کمپنی میں ایک اکاؤنٹ بنایا جاتا ہے، جب گوگل کمپنی اکاؤنٹ کی اپرول (اجازت) دیتی ہے، تو پھر اس سائٹ پر آڈیو ویڈیو نعتیں، آڈیو ویڈیو اسلامی بیانات اور ڈوکمنٹری ویڈیو اپ لوڈ کیے جاتے ہیں، گوگل کمپنی والے اس پر اشتہار لگاتے ہیں او رجس کا اشتہار ہوتا ہے گوگل والے اس سے پیسے لیتے ہیں، تو ان پیسوں میں اپ لوڈ کرنے والے (جس کو گوگل کمپنی اکاؤنٹ کی اپرول دیتی ہے) کو بھی پیسے دیتے ہیں، اپ لوڈ کرنے والے کے لیے ان پیسوں کا لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب…یوٹیوب (You Tube) گوگل کمپنی کی ویب سائٹ ہے اور ا س پر اشتہارات کے ذریعہ پیسے کمانے کا طریقہ وہی ہے جو ”گوگل ایڈسینس،(Google Adsense) کا ہے او رگوگل ایڈسینس کے ہی سارے قوانین کا اطلاق یوٹیوب پر بھی ہوتا ہے ، صورت مسئولہ میں جس کاروباری صورت کا ذکر کیا گیا ہے، اس کا تعلق چوں کہ گوگل ایڈسینس سے ہے، لہٰذا جواب سمجھنے سے پہلے ” گوگل ایڈسینس“ کے بارے میں جاننا ضروری ہے:
گوگل اپنے صارفین کو ایک سروس مہیا کرتا ہے، جس میں اگر کوئی شخص اپنے کاروبار، کمپنی یا ادارے کی انٹرنیٹ پر تشہیر کرانا چاہتا ہے تو گوگل اس معاملے میں اس کی اس ضرورت کو پورا کرتا ہے او رانٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹس پر اس کی تشہیر کرواتا ہے۔

مذکورہ صورت میں تین لوگ بنیادی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں:
اول: وہ جو اپنے ادارے، کاروبار یا کمپنی کی تشہیر کرانا چاہتے ہیں۔
دوم: گوگل۔
سوم: ویب پبلشر ، یعنی وہ شخص جس کی ویب سائٹ پر اشتہار چلتے ہیں۔

اب جو شخص اپنا اشتہار چلوانا چاہتا ہے، وہ گوگل سے رابطہ کرتا ہے او رگوگل اس سے ایک مخصوص رقم کے عوض ایک متعین مدت تک کا معاہدہ کرتا ہے، پھر گوگل وہ اشتہار ویب پبلشر کی ویب سائٹ پر چلاتا ہے او راسے فی کلک (اشتہار پر جتنی بار کلک ہو گا) یا بعض صورتوں میں امپریشن ( ویب سائٹ پر رش اور اس پر لوگوں کی آمد) کے حساب سے پیسے دیتا ہے۔

گوگل ایڈسینس کے مختصر تعارف کے بعد اب یہ جان لیں کہ ایڈسینس کا کام درج ذیل مفاسد کی وجہ سے درست نہیں ہے:
ویب پبلشر کی اجرت مجہول ہے، یہاں اجرت اس بات پر ہے کہ ویب پبلشر اپنی ویب سائٹ پر اشتہار لگائے گا اور اس پر اسے پیسے ملیں گے، لیکن وہ پیسے متعین نہیں، بلکہ معلق ہیں اور وہ معلق اس بات پر ہیں کہ جتنے کلک ہوں گے، اتنے پیسے ملیں گے، لہٰذا اجرت مجہول ہوئی، جس کی وجہ سے عقد جائز نہیں ہوا۔

یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ گوگل اگر ویب پبلشر کی ویب سائٹ ایک متعین وقت کے لیے اجرت پر لے لیتا، مثلاً ایک ما ہ کے لیے اور اس پر اشتہار چلاتا، تو اجرت متعین ہو جاتی اور عقد کے عدِم جواز کی یہ وجہ نہ بنتی، لیکن یہاں ایسا نہیں، بلکہ گوگل نے اجرت کو معلق کیا ہے کلک کے ساتھ اور وہ مجہول ہے۔

دوسری بات یہ بھی ہے بسا اوقات اجرت متعین نہیں ہوتی، بلکہ فی صد کے اعتبار سے مقرر ہوتی ہے، جو کہ دلالی کی صورت ہے کہ جتنے گاہک لاؤ گے، اتنے فی صد کے حق دار ہوگے، لہٰذا اگر دلالی کی صورت یہاں بھی ہو تو عقد جائز ہو سکتا ہے ، لیکن یہاں دلالی کی صورت بھی ممکن نہیں، کیوں کہ گوگل نے دلالی سے بھی منع کیا ہے کہ ویب پبلشر کسی کو اپنی ویب سائٹ پر لگے اشتہار پر کلک کرنے کا کہہ نہیں سکتا کہ تم میری ویب سائٹ پر لگے اشتہار کو کلک کرو، لہٰذا دلالی کی صورت بھی یہاں نہیں ہو سکتی۔

Publishers may not click their own ads or use any means to inflate impressions and/or clicks artificially, including manual methods.
Clicks on Google ads must result from genuine user interest. Any method that artificially generates clicks or impressions on your Google ads is strictly prohibited
Publishers may not ask others to click their ads or use deceptive implementation methods to obtain clicks. This includes, but is not limited to, offering compensation to users for viewing ads or performing searches, promising to raise money for third parties for such behavior or placing images next to individual ads.
(https://support.google.com/adsense/answer/48182?hl=en)

Don't click on your own Google ads.
If you'd like more information about one of the advertisers appearing on your site, please type the URL of the ad directly into your browser's address bar.
Don't ask anyone to click on your Google ads.
Encouraging users to click on your Google ads is strictly prohibited
(https://support.google.com/adsense/answer/23921?hl=en)

درج بالا عبارت میں گوگل نے اپنی ویب سائٹ پر اس بات کی وضاحت کی ہوئی ہے کہ ویب پبلشر نہ خود اس اشتہار پر کلک کر سکتا ہے، نہ اوروں کو اپنی ویب سائٹ پر لگے اشتہار پر کلک کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے اور نہ ہی آگے کسی کو کلک کرنے کا ٹھیکہ دے سکتا ہے، اس سے یہ بات بخوبی پتہ چل جاتی ہے کہ ویب پبلشر دلال کے طور پر کام نہیں کرسکتا۔

اجرت کے معاملے میں بھی گوگل نے یہ پابندی لگائی ہے کہ ویب پبلشر کو اجرت اس وقت دی جائے گی جب اس کی اجرت سو(100) ڈالر سے تجاوز کر گئی ہو، اس سے کم پر گوگل اسے اجرت نہیں دیتا، یعنی اجرت پانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ویب پبلشر نے کم ازکم سو ڈالر تک کا کام کیا ہے، اگر نوے ڈالر کا کام کیا ہو گا تو گوگل اسے اس وقت تک پیسے نہیں دے گا، جب تک اس کے سو ڈالر مکمل نہیں ہو جاتے، یہ شرط عقد کے منافی ہے اور اس قسم کی شرط کے ساتھ کیا جانے والا عقد درست نہیں۔

According to our Terms and Conditions, active accounts need to reach the payment threshold in order to qualify for a payment. Since we don't ever issue payments for less than this threshold, we don't allow publishers to select a form of payment until their earnings have reached this amount.
(https://support.google.com/adsense/answer/154018?hl=en)

درج بالا عبارت میں گوگل نے اجرت دینے کے حوالے سے اپنی پالیسی ذکر کی ہے کہ ایک مخصوص حد (کم از کم سو ڈالر) تجاوز کرنے کے بعد ویب پبلشر کو اجرت ملے گی، اس سے پہلے نہیں۔

جہاں تک یہ بات کہی جاتی ہے، گوگل ایڈسینس کا کام اس صورت میں جائز ہو گا جب اس میں اشتہارات خلافِ شرع نہ ہوں، تو وہ اس وقت ہے جب اصل عقد تودرست ہو، لیکن جب اصل عقد ہی درست نہیں تو پھر اس سے نکلنے والی فروعات تو کسی بھی قسم کی شرائط کے ساتھ جائز نہیں ہوں گی۔

یہ بات تو گوگل ایڈسینس سے متعلق ہوئی، اب چوں کہ یوٹیوب بھی گوگل کمپنی کی ہی ویب سائٹ ہے اور اس پر گوگل ویڈیو اشتہارات کی تشہیر کرتی ہے ، لہٰذا اس میں اور گوگل ایڈسینس کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہے ( ذیل میں دیے گئے یوٹیوب کے قوانین ملاحظ ہوں) بلکہ اس میں مزید خرابی یہ بھی ہے کہ اس میں چوں کہ ویڈیو اشتہارات ہوتے ہیں، جس میں عموماً جان دار کی تصویر ہوتی ہے، جو کہ حرام ہے ، لہٰذا جس نے ویڈیو یا آڈیو بنا کر یوٹیوب پر ڈالا ہو، اس نے اگرچہ اپنی ویڈیو میں جان دار کی تصاویر نہ ڈالنے کا اہتمام کیا ہو، لیکن یوٹیوب والے اشتہار ڈالتے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھتے، لہٰذا ایک تو شروع میں گوگل سے کیا جانا والا عقد بھی درست نہیں اور پھر بعد میں چوں کہ ویڈیو اشتہارات بھی خلاف شرع ہوں گے، یہ مزید اس عقد اور اس کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنے کے مفاسد میں سے ہے، لہٰذا یوٹیوب پر اپ لوڈ کرنے والے کے لیے گوگل کے ساتھ اس قسم کا معاملہ کرنا اور اس پر پیسے لینا مفسدِ عقد شرائط پائے جانے کی وجہ سے جائز نہیں اور اس سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے۔

Follow AdSense program policies and YouTube's Terms of Service
AdSense allows YouTube partners to get paid for monetizing their videos. To keep your YouTube partnership in good standing, you must follow both the AdSense program policies and YouTube's Terms of Service.
Violating these policies may result in your videos being removed, your AdSense account being disabled, and/or your partnership or even your YouTube account being suspended.
Here are some key policy violations to keep in mind, however make sure you read the policy thoroughly as well: Ad violations

    Clicking on your own ads for any reason
    Encouraging others to click your ads
    Using deceptive implementation methods to obtain clicks
    Using third-party sites and tools
    Employing or commissioning third party sites and tools to artificially or manually generate subscribers or views
    Embedding third party advertising, sponsorships, or promotions placed on or within your video content
    Selling your YouTube account and/or partner channel via third-party sites for monetary profit
    Manipulating or incentive others to click on video features such as "Like" or "Favorite"

(https://support.google.com/youtube/answer/1311392)

When do I get paid?
Once you've associated an AdSense account with your YouTube account, you can be paid when your earnings reach your local payment , as long as there are no holds on your account, monetization is not suspended for your channel, and you're in compliance with our policies.
For example, if you're located in the United States and your balance exceeds $100 at the end of November, we will send you a payment in December.
More information about specific payments can be found in the AdSense Help Center
(https://support.google.com/youtube/answer/72903?hl=en)

درج بالا عبارات میں یوٹیوب نے اشتہارات پر پیسے ملنے کے حوالے سے اپنے قوانین کی وضاحت کی ہے کہ اس حوالے سے اس کے قوانین گوگل والے ہی ہیں، جو اوپرمفسدہ نمبر اور مفسدہ نمبر میں بیان کیے جاچکے ہیں۔

بورڈ پر انبیاء کا ہنسی اور رونے والا چہرہ بنانا
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان کرام اس مسئلے کے متعلق کہ بورڈ پر انبیاء کاہنسی والا اور رونے والا چہرہ بنانا اور یہ کہنا کہ نبی ہنستے بھی ہیں اور روتے بھی ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ نامناسب حرکت گستاخی کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں؟

جواب… الله تعالیٰ نے ہمیں حدود شرع کے اندر رہ کر دین کے سیکھنے اور دوسروں تک پہنچانے کا مکلف بنایا ہے، حدود شرع سے تجاوز کرکے دین کی تبلیغ کرنا سراسر گم راہی اور ضلالت ہے۔

انبیائے کرام علیہم السلام کی ہستیاں جس تکریم، عظمت اور جلال کی حامل ہیں اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان مبارک شخصیات کی زندگی کے حالات کو پورے ادب واحترام کے ساتھ پڑھا، سنا اور عملی طور پر اپنایا جائے، نہ یہ کہ ان مقدس شخصیات کی کسی بھی زمرے میں گستاخی والا پہلو اختیا رکیا جائے، بورڈ پر کسی ذی روح کا چہرہ بنانا ایک تو تصویر کی وجہ سے ناجائز ہے، پھر انبیائے کرام علیہم السلام کاہنسی اور رونے والا چہرہ بنانا صریح گستاخی، گم راہی اور ضلالت ہے، لہٰذا ایسے ناجائز او رگم راہی کے اسباب سے توبہ واستغفار کی جائے۔

اضافی وارنٹی فروخت کرنے والی کمپنی کی ملازمت
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں کراچی میں رہتا ہوں او رمیں ایکسٹینڈڈ وارنٹی ( اضافی وارنٹی فروخت کرنے والی) کمپنی میں کام کرتا ہوں، اس کمپنی کا نام اسکوائر ٹریڈ ہے، ہمارا کاروبار تمام الیکٹرانک اشیا کی ( اضافی) وارنٹیاں لمبے عرصہ کے لیے فروخت کرنا ہے، مثلاً :اگر کوئی آدمی ٹی ، وی خریدتا ہے تو وہ ایکسٹینڈڈ وارنٹی کمپنی(اسکوائر ٹریڈ) سے تیس دن کے اندر اندر اضافی وارنٹی خریدسکتا ہے۔

ہمارا طریقہ کا ر یہ ہے، مثلاً: کوئی آدمی ایک ہزار ڈالر کی واشنگ مشین خریدتا ہے ( اور اس کے بعد ہماری کمپنی میں مزید وارنٹی خریدنے آتا ہے ) تو ہم اس کو تین سال کی اضافی وارنٹی سو ڈالر کی فروخت کرتے ہیں، تو اب اگر تین سال کے دوران واشنگ مشین میں کوئی ایسی خرابی آجائے جس کی مرمت پر اتنا خرچہ آئے جو کہ واشنگ مشین کی قیمت ( یعنی ایک ہزار ڈالر) سے کم ہو تو ہم اس کی مرمت کرتے ہیں او راگر مرمت کا خرچہواشنگ مشین کی قیمت سے زیادہ ہو تو ہم اسے ایک ہزار ڈالر واپس کرتے ہیں او ر اگر تین سال کے دوران واشنگ مین میں کوئی خرابی نہیں آئی تو پھر اس کی وارنٹی ختم ہو جائے گی اور اس کو سو ڈالر واپس نہیں دیے جائیں گے۔

جواب … صورت مسئولہ میں مذکورہ کاروبار نہ تو بیع ہے اور نہ ہی اجارہ، یعنی شرعی عقود ( معاملات) میں سے کسی عقد ( معاملہ) میں داخل نہیں، اسی طرح تین سال کے اندر خرابی نہ آنے کی وجہ سے اصل رقم بھی واپس نہیں کی جاتی، جو کہ درحقیقت انشورنس کی ایک نئی صورت ہے اور انشورنس چوں کہ غرر اور قمار (جوا) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے، لہٰذا مذکورہ کاروبار ناجائز ہے اور اس (اسکوائر ٹریڈ) کمپنی کے ساتھ معاملات کسی بھی صورت میں (مثلاً: ممبر بننا، ملازمت کرنا وغیرہ) جائز نہیں، جس سے بچنا ضروری ہے۔

کمپنی کا تیل فروخت کر لیا تو ادائیگی کی صورت کیا ہو گی؟
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ہذا میں کہ بندہ زونگ کمپنی کے ٹاور (کھمبا) پر ملازم ہے، کمپنی والے ہمیں جنریٹر کے لیے ڈیزل دیتے ہیں، جس سے بجلی نہ ہونے کی صورت میں ہم جنریٹر چلاتے ہیں، بندہ نے متعدد مرتبہ ڈیزل میں سے کچھ ڈیزل فروخت کرکے پیسے خود استعمال کیے ( میں اس کو اس لیے جائز سمجھتا تھا کہ زونگ کمپنی کا اصل مالک ( چین) ہے جو کہ کافر ہے او رکافر کا مال بلا اجازت استعمال کرنا جائز ہے ، یہ میرا ذاتی خیال تھا) ،پھر کسی کے بتانے پر پتہ چلا کہ میرا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، جس کے بعد بندہ نے اس عمل سے آئندہ کے لیے توبہ کی، مگر ماضی میں ڈیزل میں جو خیانت بندہ نے کی ہے اس سے پریشان ہوں۔

1..سوال یہ ہے کہ غلط فہمی میں کمپنی کا جو ڈیزل میں نے فروخت کیا ہے اس کی ادائیگی مجھ پر لازم ہے کہ نہیں ؟2.. اگر لازم ہے تو ادائیگی کی کیا صورت ہو گی؟

ادائیگی کی بظاہر تین صورتیں نظر آتی ہیں جو کہ انتہائی دشوار ہیں:
1..پہلی صورت یہ ہے کہ مالک کو استعمال شدہ ڈیزل کی قیمت دے دوں، مگر یہ ممکن نہیں، کیوں کہ کمپنی کا حقیقی مالک تو (چین) میں ہے ، ہماری معلومات کے مطابق جتنے بھی علاقائی، ضلعی اور صوبائی ذمہ داران ہیں ان میں سے کوئی بھی حقیقی مالک نہیں ہے، بلکہ آفیسران کی حیثیت سے ایک دوسرے پر نگران ہیں، لہٰذا حقیقی مالک تک فروخت کردہ ڈیزل کی قیمت پہنچانا میرے لیے ممکن نہیں ہے اور یہاں کے ذمہ داران کے متعلق غالب گمان ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ جس کو بھی میں رقم حوالہ کروں گا وہ اس کو مالِ غنیمت سمجھ کر خود کھائیں گے، کمپنی کے حقیقی مالک تک نہیں پہنچائیں گے۔

2..دوسری صورت یہ ہے کہ میں فروخت کردہ ڈیزل کی قیمت کمپنی کے مالک کے حق میں صدقہ کروں، یہ صورت بھی درست معلوم نہیں ہوتی، کیوں کہ ہماری معلومات کے مطابق زونگ کمپنی کا مالک غیر مسلم ہے اور غیر مسلم کے حق میں صدقہ شرعاً درست نہیں۔

3..تیسری صورت یہ ہے کہ اس رقم سے ڈیزل خرید کر کمپنی کے جنریٹر میں استعمال کروں او رکمپنی سے ملنے والا ڈیزل مہینہ، دو مہینے کے لیے نہ لوں، تو اس صورت میں دو مشکل پیش ہیں۔
    1..میرے اوپر جتنے ذمہ دار ہیں ( جن سے مجھے ڈیزل مل رہا ہے) وہ میرے حصے کا ڈیزل خود فروخت کرکے استعمال کریں گے، اس طرح میری وجہ سے ان کو گناہ کا موقع ملے گا۔
    2..دوسری مشکل یہ ہے کہ جب میں مہینہ، دو مہینے کے لیے اوپر کے ذمہ داران سے ڈیزل نہ لوں تو آئندہ وہ مجھے ڈیزل بند کرکے نہیں دیں گے۔
لہٰذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کا شرعی، تحقیقی جواب عنایت فرمائیں؟

جواب…صورتِ مسئولہ میں کمپنی کا جتنا ڈیزل آپ نے فروخت کیا ہے اس کی ادائیگی آپ پر لازم اور ضروری ہے، ڈیزل یا اس کی قیمت کی مالک یا کمپنی کو ادائیگی کی جو بھی ممکن صورت ہو اسے اختیار کیا جاسکتا ہے، چاہے، بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ، اس میں یہ بتانا ضروری نہیں کہ میں نے اتنا ڈیزل کمپنی کا فروخت کیا ہے اور یہ اس کا ضمان ہے، اس طرح آپ بری الذمہ ہو جائیں گے، پھر افسرانِ بالا اس میں تصرف سے خود گناہ گار ہوں گے۔

البتہ تیسری صورت کو اختیار کرنا بہتر ہے کہ آپ اس رقم کا ڈیزل خرید لیں او راسے تسلسل کے ساتھ استعمال نہ کریں، بلکہ کمپنی کے ڈیزل کے ساتھ ملا کر تھوڑا تھوڑا استعمال کرتے رہیں، تاکہ ڈیزل کی ادائیگی بھی ہو جائے اور افسرانِ بالا اس کو استعمال کرنے سے بھی بچ جائیں اور آپ کو ڈیزل بھی ملتا رہے۔

Flag Counter