ہوئے وہ چادر جسم سے کچھ الگ(ڈھیلی کرکے)رکھےتاکہ اُس کے کپڑے اُس کے جسم کو(چپک جانے اور چست ہوجانے سے)نمایاں نہ کریں اور اپنی آواز کو پست رکھے۔(الحاوی الکبیر:2/161)
اِسی کتاب میں اگلے صفحے کے اندر ہے:”وَالثَّانِيَةُ: أَنْ يَجْتَمِعْنَ فِي رُكُوعِهِنَّ وَسُجُودِهِنَّ وَلَا يَتَجَافَيْنَ، لِأَنَّ ذَلِكَ أَسْتَرُ لَهُنَّ وَأَبْلَغُ فِي صِيَانَتِهِنَّ “ ۔ ترجمہ:دوسرے وہ افعال جن کے اندر مرد و عورت کا فرق ہے ،وہ یہ ہیں کہ عورتیں اپنے رکوع اور سجدوں کو سمٹ کر اور اکٹھا ہوکر کریں اور اور اعضاء کو الگ (کشادہ)نہ رکھیں اِس لئے کہ یہ اُن کیلئے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے اور اِسی میں اُن کی زیادہ حفاظت ہے۔(الحاوی الکبیر:2/162)
علّامہ غمراویلکھتے ہیں:”وَيفرق الذّكر رُكْبَتَيْهِ وَيرْفَع بَطْنه عَن فَخذيهِ وَ مِرْفَقَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ فِِي رُكُوعه وَسُجُوده رَاجع للثَّلَاثَة وتضم الْمَرْأَة وَالْخُنْثَى أَي الْمرْفقين إِلَى الجنبين فِي جَمِيع الصَّلَاة“ ترجمہ:اور مَرد اپنے گھٹنوں کو رکوع اور سجدوں میں الگ رکھے اور اپنے پیٹ کو اپنی رانوں سے اُٹھاکر رکھے اور اپنی کہنیوں کو اپنے پہلوؤں سے الگ رکھے، اور عورت اور خنثیٰ پوری نماز میں اپنی کہنیوں کو (پہلوؤں سے)ملاکر رکھیں۔(السراج الوھاج:47)
العزیز شرح الوجیز میں ہے جوکہ ”الشرح الکبیر“کے نام سے معروف ہے :”والمرأة لا تفعل ذلك، بل تضم بعضها إلى بعضٍ فإنه أستر لها“۔ترجمہ:اورعورت مرد کی طرح یہ نہ کرے (یعنی سجدہ میں گھٹنوں اور کہنیوں کو پہلوؤں سے الگ نہ