Deobandi Books

مرد و عورت کی نماز کا فرق احادیث و فقہ کی روشنی میں

سالہ ہذ

14 - 28
تعالیٰ نے عورتوں کو ستر پوشی کا ادب سکھایا  اور اللہ کے رسول ﷺنے بھی عورتوں  کو اِسی کی تعلیم  دی ہے ، اور میں عورت کیلئے سجدوں میں یہ پسند کرتا ہوں کہ  وہ اپنے جسم کے بعض حصوں کو بعض کے ساتھ ملائے(یعنی سمٹ کر سجدہ کرے) اور اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ چپکالے اور ایسے سجدہ کرے جو اُس کیلئے زیادہ سے زیادہ ستر کا باعث ہو  اور اِسی طرح میں عورت کیلئے رکوع میں ،بیٹھنے میں اور نماز کے تمام افعال میں اِس بات کو پسند کرتا ہوں کہ وہ  نماز میں ایسے رہے جو اُس کیلئے زیادہ سے زیادہ سترپوشی کا باعث بنے اور میں اُس کیلئے یہ پسند کرتا ہوں  وہ اپنی بڑی چادر کو سمیٹے اور رکوع و سجدہ میں اُس کو جسم سے کچھ الگ(ڈھیلی کرکے)رکھےتاکہ اُس کے کپڑے اُس کے جسم کو(چپک جانے اور چست ہوجانے سے)نمایاں نہ کریں ۔(الاُمّ للشافعی:1/138)
الحاوی الکبیر میں ہے:”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فِي عَمَلِ الصَّلَاةِ ،إِلَّا أَنَّ الْمَرْأَةَ يُسْتَحَبُّ لَهَا أَنْ تَضُمَّ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ ،وَأَنْ تُلْصِقَ بَطْنَهَا فِي السُّجُودِ بِفَخذَيْهَا كَأَسْتَرِ مَا يَكُونُ،وَأُحِبُّ ذَلِكَ لَهَا فِي الرُّكُوعِ وَفِي جَمِيعِ عَمَلِ الصَّلَاةِ، وَأَنْ تُكَثِّفَ جِلْبَابَهَا وَتُجَافِيَهُ رَاكِعَةً وَسَاجِدَةً ؛ لِئَلَّا تَصِفَهَا ثِيَابُهَا،وَأَنْ تَخْفِضَ صَوْتَهَا“ترجمہ:نماز کے عمل میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں مگر یہ کہ عورت کیلئے مستحب یہ ہےکہ وہ اپنے جسم کے بعض حصےکو بعض کے ساتھ ملائے اور سجدوں میں اپنے پیٹ کو اپنی رانوں کے ساتھ ملائے زیادہ سے زیادہ ستر پوشی کرتے ہوئے ، اور میں عورت کیلئے رکوع میں اور نماز کےسارے اعمال میں اِسی (زیادہ سے زیادہ ستر پوشی)کو پسند کرتا ہوں،اور یہ بھی پسند کرتاہوں کہ عورت اپنی بڑی چادر کو اپنے اوپر اچھی طرح لپیٹے اور رکوع و سجدہ کرتے 
Flag Counter