Deobandi Books

مرد و عورت کی نماز کا فرق احادیث و فقہ کی روشنی میں

سالہ ہذ

16 - 28
رکھے)بلکہ اپنے جسم کے بعض حصے کو بعض کے ساتھ ملاکر  سجدہ کرے کیونکہ یہ اُس کیلئے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے۔(العزیز شرح الوجیزللقزوینی:1/525)
المھذب  فی فقہ الامام الاشافعی میں ہے:”والمستحب أن يجافي مرفقيه عن جنبيه لما روى أبو حميد الساعدي رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم فعل ذلك فإن كانت امرأة لم تجاف بل تضم المرفقين إلى الجنبين لأن ذلك أستر لها “ترجمہ:اور مستحب یہ ہے کہ(سجدہ میں) اپنی کہنیوں کو  اپنے پہلوؤں سے الگ کرکے رکھے،اُس روایت کی وجہ سے جو حضرت ابوحمید ساعدی﷛نے نقل کی ہے کہ نبی کریمﷺنے ایسا ہی کیا ہے، لیکن اگر عورت ہو تو الگ نہیں کرے گی بلکہ اپنی کہنیوں کو اپنے پہلوؤں کے ساتھ ملالے گی اِس لئے کہ یہ اُس کیلئے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے۔(المھذب :1/143)
فقہِ شافعی کے مشہور شارح علّامہ نووی﷫فرماتے ہیں:”وَيُسَنُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُجَافِيَ مِرْفَقَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَيُسَنُّ لِلْمَرْأَةِ ضَمُّ بَعْضِهَا إلَى بَعْضٍ وَتَرْكُ الْمُجَافَاةِ“۔ترجمہ: اور مَرد کیلئے مسنون ہے کہ وہ اپنی کہنیوں کو اپنے پہلوؤں سے الگ رکھے اور عورت کیلئے  اپنےجسم کے بعض حصے کو بعض سے ملاکر رکھنا اور الگ(یعنی کشادہ ہونے)کو ترک کرنا مسنون ہے۔
اُس کے بعد فرمایا:”وَأَمَّا الْخُنْثَى فَالصَّحِيحُ أَنَّهُ كَالْمَرْأَةِ يُسْتَحَبُّ لَهُ ضَمُّ بَعْضِهِ إلَى بَعْضٍ وَقَالَ صَاحِبُ الْبَيَانِ قَالَ الْقَاضِي أَبُو الْفُتُوحِ لَا يُسْتَحَبُّ لَهُ الْمُجَافَاةُ وَلَا الضَّمُّ لِأَنَّهُ لَيْسَ أَحَدُهُمَا أَوْلَى مِنْ الْآخِرِ وَالْمَذْهَبُ الْأَوَّلُ وَبِهِ قَطَعَ الرَّافِعِيُّ لِأَنَّهُ أَحْوَطُ“ترجمہ: اور رہا خنثیٰ کا معاملہ تو اُس کے بارے میں 
Flag Counter