بلوچستان پر عالمی قوتوں کی نظریں اوراسے مضبوط بنانے پر زوردینا
یہاں کی تقریبا تمام اہم تقریبات اوراجتماعات میں مولانا سمیع الحق نے اس بات پر خاص طور سے زور دیا کہ بلوچستان جس پر عالمی طاقتوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں اوراس کے پڑوس افغانستان میں کیمونزم کاسیلاب مسلط ہوچکا ہے اورلادینی نظریات کے وطن دشمن اوراسلام دشمن لوگ موقع کی تاک میں ہیں ایسے حالات میں علماء کرام اورمدارس کی اولین ذمہ داری ہے کہ بلوچستان کواسلام کاآہنی حصار اورمضبوط قلعہ بنا دیں کہ اس خطہ کی حفاظت پر برصغیر اورپاکستان کے باقی حصوں کی حفاظت منحصر ہے ۔ اسی طرح آپ نے مدارس کے طلباء کی باہمی عظمت واحترام اورمحبت کوبرقرار رکھنے پر زور دیا ۔ یہاں ہر موقع پر مولانا سمیع الحق صاحب کو اندرون صوبہ کے مختلف مقامات میں کوئٹہ کے مقامی اخبارات جنگ اورمشرق نے مولانا کے پروگراموں اورتقاریب میں شمولیت پرمفصل خبریں شائع کیں ۔ جس پر یہ اخبار ات بھی شکریہ کے مستحق ہیں۔
قومی کمیٹی برائے مدارس کے اجلاس مری میں شرکت
٢٧مئی: صدر پاکستان کی نامزد قومی کمیٹی برائے مدارس عربیہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے مولانا مری روانہ ہوئے۔
٢٩مئی اجلاس نے اپنی سفارشات کوآخری شکل دی مولانا نے قومی بورڈ برائے مدارس کی تشکیل کے سلسلہ میں وفاق المدارس العربیہ کی مجوزہ ہیئت تشکیلی پر زوردیا بصورت دیگر سفارشات کیساتھ اختلافی نوٹ لکھنے کافیصلہ کیا۔ شام کوقومی کمیٹی کے اعزاز میں انجمن تاجران مری کی طرف سے مرحبا ہوٹل میں ایک پرُتکلف ظہرانہ دیا گیا ۔
٣٠مئی اجلاس کے آغاز سے قبل مولانا کوپھوپھی صاحبہ مرحومہ کی وفات کی اطلاع ملی اوروہ قومی کمیٹی کے آخری اجلاس میں شرکت کئے بغیر مری سے واپس ہوئے ۔
حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کوصدمہ ۔ہمشیرہ محترمہ کا انتقال
٣٠مئی : حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی ہمشیرہ محترمہ جونہایت صالحہ عابدہ خاتون تھیں اورحضرت مدظلہ کے ساتھ ہی عمر بھر رہیں۔ صبح ٥بجے طویل علالت کے بعد تقریبا ٥٥، ٦٠برس کی عمر میں انتقال فرماگئیں، زندگی بھرآپ محلہ اورآس پاس کی بچیوں کوقرآن کریم کی تعلیم حسبةًللہ گھرپردیتی رہیں نماز جنازہ ٤بجے ظہر کوہوا تدفین اپنی والدہ ماجدہ کے پہلو اوروالد مرحوم کی پائنتی میں حضرت کے خاندانی قبرستان میںہوئی نماز جنازہ میں اہلیان اکوڑہ خٹک ، اساتذہ وطلبہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے علاوہ اطراف واکناف سے کثیر تعداد