صدسالہ اجلاس دارالعلوم دیوبند اورحضرت مولانا عبدالحق مدظلہ کی رسم دستاربندی
(رپورٹنگ ) ناظم دفتر مولانا سلطان محمود صاحب
آج ٢٢مارچ : اورہفتہ کادن ہے برصغیر کی تاریخ کایہ فقیدالمثال اجتماع حاضرین کے لحاظ سے پورے عروج پرہے اوراس لحاظ سے مجمع انتہاء کو پہنچ چکا ہے کل بعد ازجمعہ افتتاحی نشست تھی اوربعد ازعشاء دوسری نشست میں زیادہ ترحصہ عالم عرب کے مشاہیر علماء اورزعماء کے تقاریر کاتھا وسیع وغریب پنڈال کی وسعتوں کونگاہیں سمیٹ نہیں سکتیں اورآنکھوں کے کیمرے بھی حاضرین کااحاطہ کرنے سے عاجز ودرماندہ ہیں۔
مولانا علی میاں کاخطاب حاصل جلسہ
آج کی نشست میں پہلی تقریر عالم اسلام کے متاع گرانمایہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی مدظلہ کی ہوئی جو اپنی تقریر میں ملت مسلمہ ہندیہ کونیا پیغام ، نئی زندگی اورنیا ولولہ دے گئے اوراس پیغام نے ''حاصل اجلاس''یاپیغام دیوبند کی حیثیت حاصل کرلی کچھ حصہ ان کے خطاب کاعربی زبان میں بھی تھا کہ عالم عرب کے بے شمار سامعین وشرکاء جلسہ بھی اس انمول تحفہ الہند سے دل ودماغ منور کرسکیں ۔
مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کاخطاب
ان کے خطاب کے بعد حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہ کی تقریر ہوئی جنہیں اپنی علمی اورسیاسی بھاری بھرکم شخصیت اورخداداد وجاہت کی وجہ سے قدرتی طورپر پاکستان سے شریک ہونے والے کم وبیش ٥ہزار زائرین وشرکاء جلسہ کی زعامت وقیادت کاشرف بھی حاصل ہے ۔ ان کی تقریر بھی مختصر مگرجامع اورمؤثر رہی کچھ دوایک مزید عربی تقاریر بھی ہوئیں ۔
اس کے بعد حضرت مولانا منت اللہ رحمانی امیر شریعت بہار نے مائک پر اعلان کیا کہ اس نشست کایہ حصہ دستاربندی کیلئے تھا ۔ مگرچونکہ وقت کم ہے اس لئے اب نہایت اہم اکابر کی دستار بندی پر اکتفاء کیاجارہاہے ۔
قاری محمد طیب نے شیخ الحدیث مولانا عبدالحق کی دستاربندی کااعلان کیا
حضرت قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے فرمایا کہ چونکہ بعض اہم شخصیتوں کی تقاریر کی وجہ سے وقت کم رہ گیا ہے جس میں خاصی تعداد میں دستاربندی مشکل ہے جبکہ اب تک کے کل فضلاء کی تعداد ساڑھے گیارہ ہزار کے لگ بھگ ہے جنکی دستاربندی فردافردا رسم کے مطابق اگرچہ ہونی چاہئے تھی مگریہ ناممکن ہے تاہم ہم اس نشست میں دوچاراہم شخصیتوں کی دستاربندی کرنا چاہتے ہیں جن میں سے ایک حضرت مولانا عبدالحق صاحب ہیں جنہوں نے پاکستان میں ایک اہم مرکزی دینی درسگاہ جامعہ حقانیہ