ایک بے لوث خادم دارالعلوم کی وفات
٧جنوری١٩٨٠ئ: کودارالعلوم حقانیہ کے ایک دیرینہ اوربے لوث خادم اوربنیادی رکن جناب الحاج شیرافضل خان صاحب آف بدرشی داعی اجل کولبیک کہہ گئے ۔ عمر ستر سال کے لگ بھگ تھی ۔ سعی وعمل ، جوش اورہمت کے لحاظ سے قابل رشک صحت تھی کہ یکایک سال قبل مرض نے آگھیرا ۔ ڈاکٹروں نے سرطان کی تشخیص کی اوریوں پہاڑکی طرح ایک فولادی شخص دنوں گھنٹوں میں پگھل کرمشت استخوان بن گیا وقت موعودآپہنچا اورواصل بحق ہوئے ۔ وصیت فرمائی کہ کفن کے کونوں پر مولانا عبدالحق ،مولانا درخواستی اوردیگر اکابر کے نام تحریر کریں۔
مقبرہ حقانیہ کیلئے خطہ کی تخصیص
٢١صفرالمظفر: عرصہ سے تجویز تھی کہ دارالعلوم حقانیہ کیلئے اپنا ایک قبرستان ہو جو اہل علم وفضل اورطلباء کیلئے مخصوص ہو اس کیلئے دارالعلوم کے شمال مغرب میں عیدگاہ سے متصل ایک مختصر سارقبہ تجویزکیاگیا حضرت شیخ الحدیث اوردیگر چند ایک اساتذہ حدیث نے آج اس خطہ میں نشان لگایا اوردعافرمائی ۔ اس کے متصل دارالتجویدودارالحفظ کی عمارت بنائی جائے گی انشاء اللہ مولانا مدظلہ اس رقبہ کے قریب اپنے زیر تعمیر مکان کاسنگ بنیاد بھی حضرت شیخ الحدیث مدظلہ سے رکھوایا ۔(١)
مولانا جلال الدین حقانی کی آمد اور خطاب
٢٨ربیع الاول: افغان مجاہدین کے حزب اسلامی کے ایک اہم قائد اورمجاہد رہنما مولاناجلال الدین حقانی فاضل حقانیہ وسابق استاد دارالعلوم حقانیہ چیف کمانڈر حزب اسلامی افغانستان اپنے شیخ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ سے ملنے آئے ۔مجاہدین کی ایک جماعت جن میں کئی ایک فضلاء جامعہ حقانیہ تھے بھی ان کے ساتھ تھے ۔ نماز عصر سے مغرب تک حضرت شیخ الحدیث کے ساتھ رہے ۔ نماز مغرب کے بعد مولانا جلال الدین حقانی نے مسجد کے وسیع ہال میں طلباء کی خواہش پرروسی انقلاب پھر افغانی مجاہدین کی فتوحات اورحیرت انگیز نصرتِ خداوندی کے واقعات پر مبسوط تقریر فرمائی اس سے قبل اپنے استقبالی خطاب میں مولانا سمیع الحق نے مولانا جلال الدین حقانی اوردیگر مجاہدین کوزبردست خراج تحسین پیش کیا۔
دارالعلوم میں صلوة کسوف: ٢٩ ربیع الاول: سورج گرہن ہوجانے کے موقع پر مسجد دارالعلوم میں صلوة کسوف اداگی گئی جس میں تمام طلباء کرام اوراساتذہ کرام اورکافی شہریوں نے شرکت کی ۔
___________
(١) اب اسی مقبرہ میں حضرت شیخ الحدیث قدس سرہ اوردیگر اکابر علماء وخدام دارالعلوم آسوہ خواب ہیں۔ (مرتب)