بعد طلبہ سے فضیلت علم اوردینی وملی تقاضوں پر مفصل خطاب فرمایا ۔تقریب میں افغانستان کے مجاہدین کی فتح وکامرانی کیلئے بھی خاص طور سے دعائیں مانگی گئی ۔ دارالعلوم میں حسب سابق اسباق پوری گرماگرمی سے شروع ہوچکے ہیں تمام شعبے سرگرم کارہیں طلبہ کی تعداد حسب سابق روزافزوں ہے صرف دورۂ حدیث کی تعداد ایک سوتک پہنچ چکی ہے جبکہ ابھی آمدجاری ہے۔
٣٠شوال: دارالعلوم کے مختلف احاطوں مطبخ ، دارالمدرسین وغیرہ سوئی گیس لائن بچھانے کاکام مکمل ہوگیا۔ اس منصوبہ پر تیس ہزار روپے سے زائد اخراجات کااندازہ ہے ۔
یکم ذیقعدہ: دارالعلوم حقانیہ میں اساتذہ کرام کے مکانات کی کمی کے پیش نظر مہمان خانہ کے عقب میں اساتذہ کرام کے لئے دومکانات تعمیر کرانے کاکام شروع ہوگیا ۔ ہردومکانات پر تقریبا ایک لاکھ روپے لاگت کاتخمینہ ہے ۔
مجلس شوریٰ کاسالانہ جلسہ
٤ذیقعدہ١٣٩٩ھ ٢٧ ستمبر ٧٩ئ: بروز جمعرات دارالعلوم حقانیہ کے نئی تعمیر شدہ کتب خانہ کی عمارت میں مجلس شوریٰ دارالعلوم حقانیہ کاسالانہ اجلاس زیرصدارت حضرت مولانا میاں ولایت شاہ کاکاخیل منعقدہوا جس میں مجلس شوریٰ کے ارکان نے بڑی تعداد میں شمولیت کی تلاوت کلام پاک کے بعد حضرت شیخ الحدیث نے حاضرین کاشکریہ ادا کرتے ہوئے دین کی حفاظت میں مدارس عربیہ کے بنیادی حصہ پر روشنی ڈالی انہوں نے فرمایا کہ یہ مدارس ہی اس پرفتن دور میں دین کے قلعے ہیں اس ضمن میں آپ نے ملک وبیرون ملک فضلاء دارالعلوم حقانیہ کے وسیع اورہمہ گیر خدمات پر اللہ تعالیٰ کا شکر اداکیا ۔ اس کے بعد حسب سابق اس سال بھی حضرت کی علالت وضعف کی وجہ سے احقر نے دارالعلوم کی سالانہ کارگذاری مصارف اورمدات آمدورخرچ پر مفصل رپورٹ پیش کی،میں نے ارکان شوریٰ سے کہاکہ سال گزشتہ دارالعلوم کومختلف مدات سے آتھ لاکھ ایک ہزار پانچ سونناوے روپے اٹھاسی پیسے کی آمدنی ہوئی جبکہ مختلف شعبوں پرسات لاکھ چھپن ہزار ایک سوباون روپے چھیانسٹھ پیسے خرچ ہوئے ۔ سال رواں کے لئے آٹھ لاکھ چونتیس ہزار ایک سوبیالیس روپے کامیزانیہ پیش کیا۔ زیر نظر میزانیہ میں موجودہ فنڈ کی روسے اگرچہ دولاکھ سینتالیس ہزار تین سوپانچ روپے اڑتیس پیسے کاخسارہ تھا۔ مگر اجلاس نے توکلاً علی اللہ منظوری دی ۔ارکان شوریٰ نے دارالعلوم کے ہر شعبہ میں بڑھتی ہوئی ترقیات پر خداوندتعالیٰ کاشکر اداکیا ۔ اجلاس میں دارالعلوم کے اساتذہ اورتمام شعبوں کے عملہ کی تنخواہوں میں بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر معقول اضافہ کرنے کابھی فیصلہ کیاگیا ۔اجلاس کے آغاز میں برصغیر کی وفات پانے والی اہم علمی ودینی شخصیات مولانا اسعداللہ مظاہری