چیزوں کا رزق بخشا اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چیزوں پر انھیں فضیلت دی۔‘‘
اورسورہ التین میں فرمایا:
لَقَدْ خَلَقْنَا الاِنْسَانَ فِی اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ(التین: ۴)
’’ہم نے انسان کو بہترین شکل وصورت میں پیدا کیا۔ ‘‘
چنانچہ آدم کا جملہ مخلوقات پر فضیلت بخشی گئی اور انسان ہونے کی حیثیت سے جو سرفرازی عطا کی گئی اس میں عورت برابر کی حصے دار اور شامل ہے۔ ۵؎
عورتوں کی تعلیم کا حق:
انسان کی ترقی کا دارومدار علم پر ہے کوئی بھی شخص یاقوم بغیر علم کے زندگی کی تگ ودو میں پیچھے رہ جاتاہے۔ اور اپنی کند ذہنی کی وجہ سے زندگی کے مراحل میں زیادہ آگے نہیں سوچ سکتا اور نہ ہی مادی ترقی اور نہ ہی مادی ترقی کا کوئی امکان نظر آتاہے۔ لیکن اس کے باوجود تاریخ کا ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جس میں عورت کے لیے علم کی ضرورت واہمیت کو نظر انداز کیاگیا اور اس کی ضرورت صرف مردوں کے لیے سمجھی گئی اور ان میں بھی جو خاص طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں صرف وہی علم حاصل کرتے تھے اور عورت علم سے بہت دور جہالت کی زندگی بسر کرتی تھی۔
لیکن اسلام نے علم کو فرض قرار دیا اور مرد عورت دونوں کے لیے اس کے دروازے کھولے اور جو بھی اس راہ میں رکاوٹ وپابندیاں تھیں سب کو ختم کردیا۔اسلام نے لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کی طرف خاص توجہ دلائی اور اس کی ترغیب اور کارِ ثواب بنایا جیسا کہ رسول ا نے فرمایا: طلب علم فریضۃ اور دوسری جگہ ابوسعید خدی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا:
من عال ثلاث بنات فادبہن وزوجہن واحسن الیہن فلہ الجنۃ ۶ ؎
’’جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔‘‘
اسلام مرد وعورت دونوں کو مخاطب کرتا ہے اور اس نے ہر ایک عبادت اخلاق وشریعت کا پابند بنایا ہے جو کہ علم کے بغیر ممکن نہیں۔ علم کے بغیر عورت نہ تو اپنے حقوق کی حفاظت کرسکتی ہے اور نہ ہی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکتی ہے جو کہ اسلام نے اس پر عائد کی ہے اسلئے مرد کیساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم بھی نہایت