سے روگردانی کرے گا قیامت کے دن خدا کو اس کاجواب دینا ہوگا۔ فرمایا:
وَاِِذَا الْمَوْئٗ دَۃُ سُئِلَتْ ۔ بِاَیِّ ذَنْبٍ م قُتِلَتْ (التکویر: ۸۔۹)
’’اس وقت کو یاد کرو جب کہ اس لڑکی سے پوچھا جائیگا جسے زندہ دفن کیاگیا تھا کہ کس جرم میں اسے مارا گیا۔‘‘
ایک طرف ان معصوم کے ساتھ کی گئی ظلم وزیادتی پر جہنم کی وعید سنائی گئی تو دوسری طرف ان لوگوں کوجنت کی بشارت دی گئی۔ جن کادامن اس ظلم سے پاک ہو او رلڑکیوں کے ساتھ وہی برتاؤ کریں جو لڑکوں کے ساتھ کرتے ہیں اور دونوں میں کوئی فرق نہ کریں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ا نے فرمایا کہ:
من کانت لہ انثی فلم یئدہا ولم ینہا ولم یوثر ولدہ علیہا یعنی الذکور لدخلہ اللہ الجنۃ ۴ ؎
’’جس شخص کی لڑکی ہو وہ نہ تو اسے زندہ درگور کرے اور نہ اس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرے اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔‘‘
عورت بحیثیت انسان:
اسلام نے عورت پر سب سے پہلا احسان یہ کیا کہ عورت کی شخصیت کے بارے میں مرد وعورت دونوں کی سوچ اور ذہنیت کو بدلا۔ انسان کے دل ودماغ میں عورت کا جو مقام ومرتبہ اور وقار ہے اس کو متعین کیا۔ اس کی سماجی، تمدنی، اور معاشی حقوق کا فرض ادا کیا۔ قرآن میں ارشاد ربانی ہے کہ:
خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا (النسائ: ۱)
’’اللہ نے تمہیں ایک انسان (حضرت آدم) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو بنایا۔‘‘
اس بنا پر انسان ہونے میں مرد عورت سب برابر ہیں۔ یہاں پر مرد کے لیے اس کی مردانگی قابل فخر نہیں ہے اور نہ عورت کے لیے اس کی نسوانیت باعث عار۔ یہاں مرد اور عورت دونوں انسان پر منحصر ہیں اور انسان کی حیثیت سے اپنی خلقت اور صفات کے لحاظ سے فطرت کا عظیم شاہکار ہے۔ جو اپنی خوبیوں اور خصوصیات کے اعتبار سے ساری کائنات کی محترم بزرگ ترین ہستی ہے۔ قرآن میں ا شاد ہے کہ:
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُم مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً (سورہ بنی اسرائیل: ۷۰)
’’ہم نے بنی آدم کو بزرگی وفضیلت بخشی اور انہیں خشکی اور تری کیلئے سواری دی۔ انھیں پاک