گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی اس کے وجود کو گو ارا کرنے سے بھی انکار کیا جارہا تھا تو نبی کریم ا رحمۃ للعالمین بن کر تشریف لائے۔ اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں۔ اور بتایا کہ عورت ایک اہم کردار لے کر پیدا ہوتی ہے ۔ مرد کا بگاڑ صرف ایک مرد کا بگاڑ ہے لیکن عورت کابگاڑ پوری نسل کی تباہی ہے۔ اگر سارے مرد غلط راہوں پر چل پڑے مگر عورت صحیح راستے پر جمی رہی تو کچھ ہی عرصوں میں ازسرِ نو ایک صاحب کردار نسل تیار کرسکتی ہے۔
مغربی تہذیب بھی عورت کوکچھ حقوق دیتی ہے مگر عورت کی حیثیت سے نہیں بلکہ یہ اس وقت اس کو عزت دیتی ہے جب وہ ایک مصنوعی مرد بن کر ذمہ داریوں کابوجھ اٹھانے پر تیار ہوجائے۔ مگر نبی کریم ﷺ کالایا ہوا دین عورت کی حیثیت سے ہی اسے ساری عزتیں اور حقوق دیتا ہے اور وہی ذمہ داریاں اس پر عائد کی جو خودفطرت نے اس کے سپرد کی ہے۔ ۲؎
عام طور پر کمزور کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے کافی محنت وکوشش کرنی پڑتی ہے۔ تب کہیں جاکر ان کو ان کے جائز حقوق ملتے ہیں۔ ورنہ تصور بھی نہیں کیا جاتا ۔ موجودہ دور نے اپنی بحث وتمحیص اور احتجاج کے بعد عورت کے کچھ بنیادی حقوق تسلیم کیے اوریہ اس دور کا احسان مانا جاتا ہے حالاکہ یہ احسان اسلام کا ہے سب سے پہلے اسی نے عورت کو وہ حقوق دئیے جس سے وہ مدت دراز سے محروم چلی آرہی تھی۔ یہ حقوق اسلام نے اس لیے نہیں دئیے کہ عورت اس کامطالبہ کررہی تھی بلکہ اس لیے کہ یہ عورت کے فطری حقوق تھے اور اسے ملنا ہی چاہیے تھا ۔ اسلام نے عورت کا جو مقام ومرتبہ معاشرے میںمتعین کیا وہ جدید وقدیم کی بے ہودہ روایتوں سے پاک ہے نہ تو عورت کوگناہ کی پتلی بنا کر مظلوم بنانے کی اجازت ہے اور نہ ہی اسے یورپ کی سی آزادی حاصل ہے۔ ۳؎
یہاں پر ان حقوق کاذکر کیاجاتا ہے جو اسلام نے عورت کو دئیے بلکہ ترغیب و ترتیب کے ذریعہ اسے ادا کرنے کا حکم بھی صادر کیا۔
عورتوں کو زندہ رکھنے کاحق:
عورت کا جو حال عرب میں تھا وہی پوری دنیا میں بھی تھا عرب کے بعض قبائل لڑکیوں کودفن کردیتے تھے۔ قرآن مجید نے اس پر سخت تہدید کی او راسے زندہ رہنے کا حق دیا اور کہا کہ جو شخص اس کے حق