Deobandi Books

ماہنامہ الحق ستمبر 2014ء

امعہ دا

27 - 63
خوشنودی کیلئے ذبح کررہا ہوں۔تقویٰ اوراصلاح نیت صرف اس عبادت کے ساتھ مختص نہیں بلکہ جملہ عبادات کے لئے ضروری ہے کیونکہ عبادات کامقصداﷲکے حکم کی تعمیل وتکریم ہے اور یہی تمام عبادات کی روح ہے۔مطلب یہ کہ ہرعبادت کاایک ظاہری عمل ہوتاہے اورایک باطنی مثال کے طورپرہم نمازاداکرتے ہیں تواسمیں قیام ،رکوع،سجدہ اورقعدہ وغیرہ ارکان اداکرتے ہیں یہ نمازکاظاہری عمل ہے لیکن نمازکاباطنی عمل اورنمازکی روح رجوع اے اﷲتوجہ اے اﷲاورنمازمیں خشوع وخضوع ہے اگرنمازمیں یہ باطنی عمل نہ ہو تو نماز کا گویا ڈھانچہ توموجودہے مگراسمیں روح نہیں ہے اسی طرح قربانی کاعمل بھی ہے کہ اس قربانی میںنیت صرف رضائے الٰہی ہوگااگررضائے الٰہی نہیں جوقربانی کی روح ہے توپھراﷲتعالیٰ کے بندہ کے اس عمل کی کوئی حیثیت نہیں۔جسکانتیجہ یہ ہوگاکہ وہ شخص قربانی کے  عظیم ثواب سے محروم ہوگا۔
ماڈرن فلاسفروں کے نظریات:
	محترم سامعین! تمام اعمال وعبادات تعمیل حکم کانام ہیں لیکن افسوس کامقام ہے کہ آج کے اس پرفتن دورمیں جہاںہرعبادت واحکامات دینیہ کے بارے میں شکوک اورنت نئے پراپیگنڈے کئے جاتے ہیں وہاں قربانی کے بارے میں بھی یہ تجویزدی جاتی ہے کہ قربانی کی کیاضرورت ہے؟ اس سے ہزاروں نہیں لاکھوں جانورضائع کئے جاتے ہیں اگراس قربانی کے رقم کو غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کیا جائے یا رفاعی کاموںمیں لگادیاجائے تومعاشی خوشحالی معاشرہ میں آسکتی ہے۔لیکن یہ ایک تجارتی اورانسان کی مال ودولت سے ہوس کاشاخسانہ ہے عبادتی سوچ نہیں۔کیونکہ اگراسلام کے عبادات کواسی سوچ کے تحت پرکھاجائے توپھرتقریبًاتمام عبادات اس مذہب سے بے خیرتجارت کیوجہسے نعوذبااﷲترک کرناپڑیں گے اگرقربانی پیسے کاضیاع ہے اسکوبھی ختم کرناپڑے گالہٰذاان ماڈرن فلاسفروں کے نظریات کے مطابق کئی اہم مالی عبادت کوبھی لپیٹنا ہوگا۔اسی طرح نمازہے جو وقتا فوقتا وقت کاضیاع ہے اسکوبھی ختم کیاجائے کیونکہ یہ وقت بھی کئی اہم کاموں میں صرف کیاجاسکتاہے لیکن ہم عبادت کوعبادت ہی سمجھ کرکریں نہ کہ تجارت سمجھ کر شریعت کے ہرحکم اورہرعبادت میں اللہ جل جلالہ کی ہزاروں حکمتیں اور فوائد موجود ہیں۔ مگر ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہماراکام اﷲتعالیٰ کی بندگی ہے اور ہم ہر کام و حکم کو بلاچوں وچرامانناہے۔
حکایت ِمحمودوایاز:
	حضرت والدصاحب سیدی شیخ الحدیث مولاناعبدالحق برداﷲمضجعہ اپنے وعظ میں اطاعت 
Flag Counter