لْاٰخَرِ (المائدہ:۲۷)
اورسنا ان کوحال آدم علیہ السلام کے بیٹوںکاجب نیازکی دونوںنے کچھ نیاز مقبول ہوئی قربانی ایک کی اورمستردہوئی دوسرے کی ۔
مطلب یہ کہ ہابیل اورقابیل نے قربانی پیش کی توہابیل کی قربانی ہوئی اورقابیل کی قربانی قبول نہ ہوئی اسی طرح قرآنی آیت سے معلوم ہوتاہے کہ ہرامت کیلئے اﷲتعالیٰ نے ایک ماموربہٖ حکم کے طور پر قربانی مقررکی ہے چنانچہ سورۃحج کی واضح آیت ہے
وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْم بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ(سورۃحج:۳۴)
اورہرامت کے واسطے ہم نے مقررکردی ہے قربانی کہ یادکریںاﷲتعالیٰ کے نام پر ذبح جانوروںکے جوان کواﷲتعالیٰ نے دیئے ہیں۔
اس سے ثابت ہواکہ اﷲتعالیٰ نے کسی امت کوبھی اس عبادت سے محروم نہیںرکھا۔
قربانی کی اہمیت وفضیلت:
بہرحال قربانی جوہم عید الاضحی کے موقع پرکرتے ہیں۔اسکے بارے میںنبی کریم انے ارشاد فرمایا سنۃابیکم ابراھیم یعنی یہ قربانی تمہارے روحانی باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جوتم اداکررہے ہوقربانی کی اہمیت کااندازہ نبی کریم ا کے اس عمل سے ہوتاہے کہ حضرت عبداﷲبن عمرؓ فرماتے ہیں۔ اقام رسول اﷲ اباالمدینۃعشرسنین یضحی (مشکوٰۃالمصابیح)
حضورؐنے مدینہ منورہ میں دس سال سکونت اختیارکی اورہرسال قربانی کرتے رہے اورصرف ایک نہیںبلکہ حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ آنحضرت انے دو دنبوں کی قربانی کی جوسینگ والے اورابلق تھے اسی طرح حجۃالوداع کے موقع پرآپ انے ۳۳، اونٹ ذبح فرمائے اوربقیہ ۶۷ اونٹ حضرت علی ؓ کوذبح کرنے کافرمایا۔قربانی کواﷲتعالیٰ کے نزدیک بڑامقام ومرتبہ حاصل ہے۔
قربانی کے بارے میں جدیدذہن کے شکوک وشبہات
معاشرے کاایک سنجیدہ طبقہ جواپنے آپ کوعقل کل سمجھتے ہیںقربانی کے بارہ میںشکوک وشبہات کاشکارنظرآتاہے ۔کیونکہ وہ لوگ عبادات کومعاشرتی احوال وکیفیات کی نظرسے دیکھتے ہیں لیکن ان کویہ معلوم نہیںکہ عبادات کادائرہ اورمقصدان معاشرتی احوال وکیفیات سے الگ ہے۔عبادت کامقصدتوصرف رضائے مولیٰ تقوی اورپرہیزگاری ہے جیسے کہ بندہ نے خطبہ کے ابتداء میں آیت تلاوت کی لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَ لَا دِمَآؤُھَا وَ لٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ(الحج ۳۷)
اﷲتعالیٰ کوان قربانیوں کا گوشت اورخون نہیں پہنچتابلکہ اﷲتعالیٰ کوتمہاراتقویٰ پہنچتاہے۔
قربانی کامقصد:
معززحاضرین! اس سے معلوم ہواکہ قربانی کامقصدتقویٰ ہے گوشت اورخون نہیں یہ چیزیں نہ تواﷲتعالیٰ کے درکوپہنچتی ہیں اورنہ ہی یہ مطلوب ومقصودہیں بلکہ اس قربانی کامقصدیہ ہے کہ اس قربانی کے جانورپراﷲتعالیٰ کانام لیاجائے کہ یہ قربانی آپ کے حکم کی تعمیل اورآپ کی رضاء