Deobandi Books

ماہنامہ الحق ستمبر 2014ء

امعہ دا

25 - 63
	قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا اِِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ 
	بے شک آپ نے اپنا خواب سچ کردکھایاہم نیکوکاروں کواسی طرح جزادیاکرتے ہیں
	چنانچہ جان کے عوض اﷲتعالیٰ نے ایک دوسری جان کوبھیج دیااسی دن سے گائے یابکری وغیرہ قربانی کے لئے بطورفدیہ مقررہوگیا۔
قربانی کی اصل روح:
	حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس واقعہ سے ثابت ہوتاہے کہ ذبح کامقصدجان کوپیش کرناہے یہی وجہ ہے کہ اخلاص کی نیت سے ان ایام میں سنت ابراہیمی پر عمل کیا جائے اس سے جان نثاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور اصل یہی اس عمل کی روح ہے،اس عبادت کااورصدقات سے مختلف ہونے سے یہ بھی آشکاراہوجاتاہے کہ اورصدقات کیلئے کوئی خاص دن مخصوص نہیںمگراس عمل کیلئے ایک خاص دن مقررکیاگیاجس کیلئے ’’یوم النحر‘‘اورعیدالاضحیٰ کانام مختص کیاگیاجس کے معنی ہے قربانی کادن ۔
رفع درجات کے لیے مخصوص عمل:
	حضرات کرام اﷲتعالیٰ مومن کے درجات اورمقام ومرتبہ بلندکرنے کیلئے کوئی نہ کوئی عمل مختص کرکے اسکوعلیین کے اعلی مقام تک پہنچاتاہے۔کبھی نمازکی صورت میں کبھی روزوں کی شکل میں کبھی حج اورقربانی کی شکل میں اس مہینہ میں حج اورقربانی کے ایام ہیں اﷲتعالیٰ نے جس کو استطاعت دی وہ حج کے عظیم عبادت سے مالا مال ہوئے اورجو حج پر نہیں جاسکتے ان کیلئے قربانی کی شکل میں عبادت مقررفرمادی۔
 قربانی کی تاریخ:
	جیسے کہ پہلے بھی عرض کرچکاہوںقربانی ایک عظیم عبادت ہے جو اﷲنے روزاول ہی سے ہی مقررفرمائی ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں(ہابیل وقابیل)نے قربانی پیش کی جیسے قرآن مجیدمیں اﷲتعالیٰ کاارشادہے۔
             وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِھِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ
Flag Counter