ہوسکتاہے ارشادربانی ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ (سورۃ التوبہ:۱۱۱)
بیشک اﷲتعالیٰ نے مسلمانوں کی جانوں اورمال کو جنت کے بدلے خریدلیاہے۔
آخرت کے بازارمیں جنت کے بدلہ ایمان کی قیمت اداکرناہوگی۔جنت حاصل کرنے کی غرض سے ہمیں تمام محبوباتِ نفس کو قربان کرنالازمی ہے اگرمال خرچ کرنے کاحکم ہوتومال خرچ کرنا پڑے گااگرنفس وجان کوقربان کرنے کاحکم ہوتوجان کوقربان کردوعزت کی ضرورت ہوتواسے بھی قربان کردویہی عشق کی مضبوطی کی علامت ہے۔رحمۃللعالمین کی بارگاہ میں ایک صحابی نے آکرکہا اے اللہ کے رسول ا مجھے آپ سے محبت ہے،آنحضرت ؐ نے فرمایا تم جو دعوی کررہے ہو اس پر خوب سوچ کر دعویٰ کرو اس صحابی نے پھروہی بات کی حضورانے جواباًپھروہی جواب دیا۔تیسرے بارجب صحابی نے پھرکہاکہ مجھے آپ سے محبت ہے توآنحضرت انے پھر فرمایا مصائب جھیلنے فقروفاقہ کی زندگی اورآفتیںبرداشت کرنے کیلئے تیارہوجاؤاوریہ توظاہری بات ہے کہ ایک مجازی عاشق اپنے عشق کوثابت کرنے کیلئے کیا کیا جتن برداشت کرکے ان پراطمینان اورخوشی محسوس کرتاہے تو پیغمبرانقلاب حضور اسے محبت کے دعویدارکے لئے اس راہ میں تمام رکاوٹیں کتنی روحانی سکون اور مسرت کاباعث بنیں گے جس میں دنیا وآخرت کی کامیابی ہی کامیابی ہے اور کتنا اطمینان قلب اور مسرت کاباعث ہوگا۔
عشق الہٰی کے تقاضے:
معززسامعین! اس مہینہ میں قربانی کاحکم بھی اسی دعوائے عشق پرعمل پیراہونے کامظاہرہ ہے سیدناحضرت ابراہیم علیہ السلام کا اﷲ کے حکم پراپنے اکلوتے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کوقربانی کیلئے پیش کردیا، عشق کا تقاضا تویہ تھاکہ تھاکہ عاشق خوداپنی ذات کواﷲتعالیٰ کے حضورذبح کیلئے پیش کرتا۔ مگررحمت خداوندی کانتیجہ ہے اور یہ ان کوگوارا نہ ہوا اسلئے حکم دیا کہ تم جانور ذبح کردو ہم یہی سمجھیں گے کہ تم نے خود اپنے آپ کو قربان کردیا ہے حقیقت میں انسان کو اپنی قربانی پیش کرناآسان ہے مگراپنے ساتھ سے اپنے اکلوتے اولادکوذبح کرنابڑاسخت کام ہے مگرحکم خداوندی تھاجسکی تعمیل ضروری تھی منحرمیں ذبح کرنے کیلئے تشریف لائے۔اسکے آگے جوواقعات ہوئے آپ لوگ وقتاًفوقتاًاسکی تفصیل سنتے رہتے ہیں۔جب حکم خداوندی کی تکمیل کیلئے حضرت اسماعیل کولٹادیا۔چھری نے اپنا کام چھوڑدیاارشادربانی ہے۔