Deobandi Books

ماہنامہ الحق اکتوبر 2013ء

امعہ دا

9 - 65
گرداب (نظروفکر) میں پڑے ہو اور کیوں ریاضات مجاہدات مکاشفات اور خلوات میں وہ طریقہ اختیار نہیں کرتے جس کورسول اللہ ﷺ نے شروع کیا ہے اورجس کا نتیجہ یہ ہے کہ تم بھی وہ چیزجان لو جو اُس بندے نے کی جس کی نسبت خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اس کو خاص اپنے پاس سے رحمت اورعلم عطا کیا ۔( شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی کی کتاب العقل والنقل ص۲۰)
_____________ O _____________
انسان کے ظلوم و جہول ہونے کا مطلب:
انا عرضا الامانۃ علی السموات والارض (الا یۃ )	
	آسمان بار امانت نتو انست کشید	    قرعہ فال بنام من دیوانہ زد ند
ظلوماً جھولا ظالم ونادان ’’دیوانہ عشق‘‘ کی دوسری تعبیر پہلا انسان کی عملی قوت کی بے اعتدالی اور دوسرا اس کی ذہنی وعقلی قوت کی بے اعتدالی کا نام ہے۔ ظلوم کا مقابل عادل جھول کا عالم ہے (خطبات مدراس ص۸)
انسانی ذمہ داریوں کا اصلی سبب اسی کے احساس ادراک تعقل ارادہ کی قوتیں ہیں‘ اسلام (فقہ)میں ان کے نام تکلیف ہے جسے دوسری جگہ امانت سے ادا کیا گیا ہے۔ان الانسان لفی خسر اس نقصان کی وجہ وہی ظلم عملی اور جہل علمی ہے اس کا علاج ایمان (علم صحیح) اور عدل یعنی عمل صالح ہے۔
_____________ O _____________
شجرہ شاہ وجیہ الدین فاروقی معاصر سلطان اورنگزیب
شاہ عبدالرحیم  ۱۱۳۱  ؁ ھ 
شاہ اہل اللہ (۱۱۸۷ھ)				       حکیم الامت شاہ ولی اللہ (۱۱۱۴ھ م ۱۱۷۶ھ)

شاہ عبدالقادر (۱۲۳۰ھ)        	شاہ عبدالعزیز  (۱۲۳۹ھ)       	شاہ رفیع الدین 	(۱۲۳۳ھ)   	    شاہ عبدالغنی (۱۲۲۷)

 دختر (زوجہ شاہ محمد افضل)       	دختر زوجہ شاہ عبدالحئی   شاہ مخصوص اللہ (۱۲۷۳ھ)    شاہ اسماعیل شہید(۱۲۴۶ھ)
		           (رفیق شاہ اسماعیلؒ)

شاہ محمد یعقوب(۱۲۸۲ھ)	   شاہ محمد اسحاق محدث(۱۲۶۲ھ) 		    شاہ عبدالقیوم (۱۲۹۹ھ)			شاہ محمد عمر(۱۲۶۸ھ)
ایں سلسلہ طلائے ناب است    ایں خانہ ہمہ آفتاب است 
شاہ وجیہ الدین جنگ برادران میں اورنگزیبؒ کی طرف سے لڑے تھے ‘ بادشاہ دکن میں تھے‘ شاہ صاحب(عبدالرحیم) بھی جہاد کیلئے دکن جارہے تھے کہ راستے میں ڈاکؤں نے شہید کرڈالا‘ شاہ عبدالرحیم کے مجاہدانہ خیالات کا اندازہ ان کے خطوط کے ایک نسخہ سے جو جامعہ عثمانیہ حیدرآباد میں میری نظر (سید سلیمان ندوی) سے گذرا ہے بخوبی ہوسکتا ہے  (سیرت سید احمد شہید مقدمہ از سلیمان ندوی ص ۱‘۱۱)

Flag Counter