Deobandi Books

غلط فہمیوں کا ازالہ ۔ حسام الحرمین کے سلسلے میں ایک سوال کا جواب

سام الح

6 - 28
چھپ کر شائع ہو چکی تھی۔ اس لیے علمائے حرمین کا اپنے دستخط سے زبانی رجوع کرلینا کافی نہیں تھا اور نہ ہندوستان  والوں کو عمومی طور پر اس کا علم ہو سکتا تھا ؛ اس لئے "علمائے مدینہ منورہ" نے مستقل رسائل بھی اس ذیل میں تصنیف فرمائے، ایک رسالہ کا نام "غائتہ المعمول" ہے ، اس میں اعلٰی حضرت بریلوی کی اور ان لے عقائد باطلہ کی پورے دلائل کے ساتھ زبردست تردید کی گیئ ہے اور ان کی تلبیس کاری کا پردہ چاک کر کے حقیقت حال واضح کی گئی ہے۔ دوسرے رسالہ کا نام "تثفیق الکلام" ہے تیسرے رسالہ کا نام " رجوع المذنبین علی رئو الشیاطین" ہے۔
عوام کے نفع کے لئے"التصدیقات لدفع التلبیسات" کا مستقل اردو ترجمعہ بھی شائع کردیا گیا ہے جس کا نام "عقائد علمائے دیوبند" ہے؛ ان تمام مسائل کی ان میں پوری وضاحت موجود ہے۔
اعلٰی حضرت بریلوی نے " حمام الحرمین" پر کس طرح علمائے حرمین کے دستخط کرائے؟ نیز اس میں لکھے ہوئے اعتراضات کے جوابات کیا ہیں؟ اگر باالتفصیل مطلوب ہوں تو "الشھاب الثاقب علی المستشرق الکذاب" کا مطالعہ کر لیا جائے۔ اگر کسی کو یہ معلوم کرنا ہو کہ اکابر کی عبارات میں کس طرح خیانت و تحریف کی گئی یے تو وہ "الحساب المدار فی توضیع الاخیار" دیکھے اس کتاب میں صاحب براہینِ قاطعہ ، اور حفظ الایمان سے براہ راست ان کی عبارات کے متعلق خطوط لکھ کر دریافت کیا گیا اور خود ان حضرات نے جوابات تحریر فرمائے یہ تمام خطوط مع جوابات اس میں شائع کر دیے گئے ہیں۔
حفظ الایمان کی شرح خود اس کے مصنف حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ ہی نے تحریر فرمائی اس کا نام "بسط البنان" ہے پھر ایک اور شرح تحریر فرمائی ہے جس کا نام "توضیح البیان" ہے پھر مزید ایک اور شرح تحریر فرمائی ہے جس کا نام "تکمیل العرفان" ہے"۔
۶
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 موضوع سخن 2 1
3 سوالات 3 1
4 سوالات حسبِ ذیل ہیں 3 1
5 جوابات 4 1
6 جواب (1) 7 1
7 (٢) جواب 10 1
8 (3)جواب 11 1
9 (٤) جواب 14 1
10 (۵) سوال 20 1
11 جواب 21 1
Flag Counter