Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق محرم الحرام 1436ھ

ہ رسالہ

8 - 17
الصلوٰة : نماز کی اہمیت، افادیت اور رموز پر
حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ کا پُرمغز بیان

تسہیل: محترم سید عروہ عرفان

﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکَّی ، وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّی﴾․
(سورة الاعلیٰ، آیت:15,14)
یہ دونوں آیتیں بہ ظاہر بہت مختصر ہیں، مگر الله کا کلام ہونے کی وجہ سے ان مختصر الفاظ میں بہت سے معنی اور اہم مسائل بیان کر دیے گئے ہیں۔ ان معنی میں کسی قسم کی کمی نہیں ہو سکتی، اس لیے ان آیات کے اختصار پر نہ جائیے بلکہ ان کی حقیقت پر غور کیجیے کہ یہ حق تعالیٰ کے کلام کی خوبی ہے کہ نہایت مختصر الفاظ میں بڑے اہم نکات کو بیان فرما دیا گیا ہے۔ دوسرے، یہ کمال بھی ہے کہ آیات کا اختصار مطلب سمجھنے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ اگرچہ الله تعالیٰ کے کلام ( قرآن) میں بعض کلمات (آیات) ایسے ہیں کہ جن کا مطلب ہمیں معلوم نہیں ( جیسے حروفِ مقطعات) مگر ایسے کلمات صرف وہ ہیں جن کا تعلق عام لوگوں سے نہیں ہے۔ ان آیات میں احکام بیان کیے گئے ہیں، البتہ ان میں جو خاص خاص راز وعلوم ہیں وہ حضور صلی الله علیہ وسلم پر کھول دیے گئے ہیں۔ بعض علما کے نزدیک وہ الله کے پوشیدہ خزانوں میں سے ہیں کہ حق تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی ان کے معنی نہیں معلوم۔ لیکن چوں کہ عام مسلمان سے ان کا (براہِ راست) تعلق نہیں، اس لیے ان کے پوشیدہ رہنے میں کوئی نقصان بھی نہیں ہے۔

گویا، الله کے کلام میں بعض کلمات اور ان کلمات میں بعض مضامین ایسے ہیں کہ وہ بالکل چھپے ہوئے تو نہیں، مگر مشکل ہیں اور عام شخص ان کا مطلب سمجھ نہیں سکتا۔ ان کلمات کی وضاحت مفسرین نے کر دی ہے۔ البتہ جوباتیں محض عقائد اور ترغیب وترہیب سے متعلق ہیں وہ بہت ہی آسان ہیں۔ ان میں کوئی پوشیدہ یا مشکل نکات بیان نہیں کیے گئے۔ انہیں سمجھنے میں کسی کو دقت نہیں ہوتی۔ الله کے کلام میں ان تمام اقسام کی مثالیں موجود ہیں۔

یہاں اس بات پر شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک طرف تو حق تعالیٰ قرآن کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے تو پھر اس میں پوشیدہ اور مشکل باتیں کیسے ہو سکتی ہیں؟ دراصل، بیان آسان کرنے سے مراد یہ نہیں کہ قرآن کا یہ حصہ آسان ہے۔ قرآن کا جو حصہ آسان ہے، اسے تو قرآن نے خود ہی واضح کر دیا ہے۔ چناں چہ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿ولقد یسرنا القرآن للذکر﴾ کہ ہم نے قرآن کو ”نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے۔ ” للذکر“ کا لفظ اس وجہ سے بڑھایا ہے کہ قرآن آسان تو ہے، مگر صرف ”نصیحت“ حاصل کرنے کے اعتبار سے۔ اگر پورا قرآن آسان ہوتا تو صرف ” ولقد یسرنا القرآن “ فرماتے، للذکر کی شرط نہ بڑھاتے۔ خوب سمجھ لیجیے کہ کلام الله (قرآن کریم) میں دو قسم کے مضامین (موضوعات) بیان فرمائے گئے ہیں:

اول: تذکیر
دوم: احکام
تذکیر کا موضوع قرآن کے جتنے حصے میں ہے، نہایت آسان ہے اور اسے سمجھنے میں کسی کے لیے دقت نہیں۔ یہ وہ معنی ہیں جنھیں ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ ﴿ ولقد یسرنا القرآن للذکر﴾ اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے۔ یہ آیت صاف صاف بتاتی جارہی ہے کہ قرآن کا یہ حصہ اتنا آسان کر دیا گیا ہے کہ ہر شخص اس سے واقفیت حاصل کرسکتا ہے۔ اور واقعی، یہ حصہ ہے بھی ایسا کہ کسی کو اسے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی، مثلاً قیامت کا ہونا، عذاب وثواب کا پایا جانا، جنت ودوزخ کا وجود۔ اسی طرح عقائد کو واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے کہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ ان امور کو سمجھنے میں کسی کو کیا دقت ہو سکتی ہے، اور منکر کو عقلی دلائل سے انہی کا سمجھانا ضروری ہے۔

جب کہ احکام کا سمجھانا ایسے عقلی دلائل سے ضروری نہیں ہے۔ اسی وجہ سے دین کے دو اجزا قرار دیے جاتے ہیں: ایک اصول، دوسرے فروع۔ اصول تو وہی ہیں جن کا عقلی دلائل سے سمجھا دینا ضروری ہے ، لہٰذا انہیں اتنا آسان کر دینا ضروری ہے کہ ان کے سمجھنے میں کسی کو مشکل نہ ہو۔ جب کہ فروع کو دلائل سے سمجھانا ضروری نہیں ․․․ احکام قرآن کا وہ حصہ ہے جس میں اجتہاد کی ضرورت ہے۔

اجتہاد کے لیے ہر شخص کا عام فہم ( عقل) اور شعور کافی نہیں ہوتا۔ اس کے لیے خاص فہم ( خاص شعور) کی ضرورت ہے۔ چناں چہ قرآن کے جتنے حصوں میں یہ احکام ہیں ( احکام غامضہ) ان کا سمجھنااو ران میں سے مسائل واحکام نکالنا مشکل ہے۔

اور کیوں مشکل نہ ہوتا کہ معمولی معمولی چیزوں تک کا سمجھنا دشوار ہوتا ہے۔ چناں ں چہ قرآن کریم میں الله تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ امن اور خوف کی خبریں صرف سن کر مشہور کر دیتے تھے اور رسول صلی الله علیہ وسلم اور اپنوں سے بڑوں (اولی الامر) کے حوالے نہیں کرتے تھے۔ چناں چہ ارشاد ہے﴿وَإِذَا جَاء ہُمْ أَمْرٌ مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِہِ وَلَوْ رَدُّوہُ إِلَی الرَّسُولِ وَإِلَی أُوْلِیْ الأَمْرِ مِنْہُمْ﴾․(سورہ نساء، آیت:83)

کہ جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں، اور اگر اس خبر کو رسول صلی الله علیہ وسلم او راپنے اہل حکومت کے حوالے کر دیتے ( یعنی خود خبر بغیر تحقیق کے بیان کرنے کی بجائے ذمے داران کے علم میں لاتے) تو اہل تحقیق اس ( خبر) کی تحقیق کرلیتے (کہ یہ خبر قابل اشاعت ہے یا نہیں)۔

منافقین کی یہ کیفیت تھی کہ جیسے ہی انہیں کوئی خبر پہنچتی، یہ خیال نہ کرتے کہ کون سی خبر عوام میں شائع کرنے کے قابل ہے اور کون سی نہیں ہے۔ سب خبریں یکساں شائع کر دیتے (پھیلا دیتے)۔ الله تعالیٰ منافقین کی اس حرکت پر اس آیت میں شکایت فرماتے ہیں ﴿وَإِذَا جَاء ہُمْ أَمْرٌ مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِہِ وَلَوْ رَدُّوہُ إِلَی الرَّسُولِ وَإِلَی أُوْلِیْ الأَمْرِ مِنْہُمْ﴾ کہ ان کو یوں چاہیے تھا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور اولی الامر یعنی جن کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور ہے اور وہ صاحب اختیار وتجربہ کار ہیں، یہ خبر خود مشہور کرنے کے بہ جائے ان کے حوالے کر دیتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں میں استنباط کی صلاحیت ( خبر کے اچھے برُے پہلوؤں اور اس کے عوام پر اثرات جانچنے کی مہارت) ہے، وہ یہ استنباط کرتے کہ یہ خبر قابل اشاعت ہے یا نہیں۔ اور پھر یہ منافقین اس رائے کے مطابق عمل کرتے۔

لہٰذا جب معمولی معمولی خبروں میں قوتِ استنباط کی ضرورت ہے تو یہ اس کا ثبوت ہے کہ ہر شخص اس کا اہل نہیں، بلکہ اہل استنباط سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے کہ جو لوگ خبر کے اچھے برے پوشیدہ پہلوؤں کو جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان سے رہ نمائی لی جائے۔ جب عام خبر کا معاملہ اتنا نازک ہے تو پھر شریعت کے وہ احکام جو مشکل اور قابل تحقیق ہیں، ان کے معاملے میں یہ کیسے ہو سکتاہے کہ ایک عام آدمی انھیں پڑھے اور سمجھ لے اور اہل استنباط سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ احکام کو سمجھنے اور ان میں سے مسائل واحکام نکالنے ( استنباط) کو عام لوگوں کے لیے (جو عالم اور اس فن کا ماہر نہ ہو) جائز قرار نہیں دیا گیا کہ ہر شخص مسائل نکالتا پھرے۔

اسی طرح ( یہاں ایک او راہم نکتہ سمجھ لینا چاہیے کہ ) احکام اجمالی سطح پر تو آسان ہیں، لیکن اپنی تفصیل میں دشوار ہیں۔ دیکھئے، کلام الله ( قرآن کریم) میں حکم ہے کہ نماز پڑھو۔ اسے سمجھنے میں تو کوئی پوشیدہ نکتہ نہیں ( یہ حکم کا اجمالی درجہ ہے)، لیکن ایک نماز کی تفصیل ہے کہ ”لاحق“ کے احکام کیا ہیں، ”مسبوق“ کا کیا حکم ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ( یہ حکم کا تفصیلی درجہ ہے اور اس میں اجتہاد کی ضرورت ہے۔ اس درجے سمجھنا ہر مسلمان کا کام نہیں، کیوں کہ اسے سمجھنے کے لیے خاص فہم ( ذہانت) کی ضرورت ہے۔

یہ تو معلوم ہو گیا کہ قرآن کریم میں ذکر کا حصہ نہایت آسان ہے، مگر اس کے مفید ہونے کے لیے ایک اور چیز کی بھی ضرورت ہے۔ وہ کیا ہے؟

توجہ!
جب تک توجہ نہ ہو، اُس وقت تک ذکر کا بھی کوئی نفع (کوئی فائدہ) نہیں ہوسکتا، خواہ یہ کتنا ہی آسان ہو۔ اگر کوئی شخص بغیر توجہ کے ان قرآنی آیات کا ترجمہ دیکھے تو وہ کچھ بھی نہ سمجھے گا۔

توجہ کے بغیر تو اپنی روزمرہ بول چال بھی نہیں سمجھتے۔ مثلاً، بازار جائیے۔ وہاں صدہا حکایات ( آوازیں) کان میں پڑتی ہیں، مگر جب گھر لوٹ کر آتے ہیں تو خبر ہی نہیں رہتی کہ کیا سنا تھا۔ حتیٰ کہ وہ باتیں (آوازیں) سوچنے سے بھی یاد نہیں آتیں۔ وجہ یہی ہے کہ اُن آوازوں پر توجہ نہیں تھی۔

لہٰذا کوئی شخص قرآن کا ترجمہ جانتا ہو، مگر اس پر توجہ نہ ہوتی ہو تو قرآن شریف کے اس حصہٴ ذکر سے بھی پورا فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔ اس لیے الله تعالیٰ کسی جگہ تو ارشاد فرماتے ہیں ﴿لیدبروا ایاتہ﴾ کہ اس (قرآن) کی آیات میں تدبر کریں، اور کسی جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ﴿لیتذکر اولوالالباب﴾ کہ عقل والے نصیحت حاصل کریں۔

اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ قرآن کے آسان ہونے کے باوجود اس میں تدبر اور غور وفکر کی ضرورت ہے۔ غوروفکر کے بغیر قرآن سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ۔ چناں چہ میں نے مثال سے واضح کر دیا۔ قرآن شریف میں ایک موقع پر اسی کو تصریحاً فرمایا ہے:﴿ ان فی ذالک لذکریٰ لمن کان لہ قلب او القی السمع وھو شہید﴾ کہ اس میں نصیحت ہے اس شخص کے لیے جو قلب فہیم (سمجھنے والا دل) رکھتا ہے یا ( اگر زیادہ فہم نہ ہو ) تو متوجہ ہو کر کان ہی لگا دیتا ہو۔

یہ آیت بتا رہی ہے کہ قرآن سے فائدہ اٹھانے کی شرط یہ ہے کہ قلب فہیم (یعنی سوچنے سمجھنے غور وفکر کرنے والے دل) سے کام لے یا کم سے کم متوجہ ہو کر تو سنے۔ اس کے بغیر فائدہ نہیں ہو سکتا ۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ قرآن کے جس حصے میں احکام کا بیان ہے ، اور اجتہاد کی ضرورت ہے، وہ حصہ مشکل ہے۔

جب کہ اس زمانے میں اجتہاد کے بعض مدعی ایسے ہیں کہ صرف ترجمہ دیکھ کر اجتہاد کرتے ہیں۔ اجتہاد کیا… یوں کہنا چاہیے کہ ” تحریف“ کرتے ہیں۔ میں نے سنا کہ ایک شخص نے رائے دی کہ (اس زمانے میں ) اب وضو کی ضرورت نہیں رہی، اس لیے کہ وضو کا مقصد اعضا کی پاکی ہے اور اس زمانے میں ہم لوگ ویسے ہی صاف ستھرے رہتے ہیں۔ پہلے زمانے میں گرد وغبار پڑتا رہتا تھا۔ میلے کچیلے رہتے تھے، اس لیے وضو کی ضرورت تھی۔ اب ہم آئینوں کے مکانوں میں رہتے ہیں۔ گردوغبار پاس کو بھی نہیں آتا۔ تو اَب وضو کی کیا ضرورت ہے؟ یہ اُن صاحب نے اجتہاد کیا ہے۔ یا تو اجتہاد کا اس قدر زعم یا اس طرف توجہ بھی نہیں۔ ( یہ دو انتہائیں ہیں)

مولوی محمد حسین صاحب رحمة الله علیہ ایک بیرسٹر کا قصہ سناتے تھے کہ اس نے کہا، علما کو چاہیے کہ جمع ہو کر سود کے جائز ہونے کا فتویٰ دے دیں۔ مولوی صاحب نے جواب دیا کہ یہ علما کے گھر کی بات تھوڑیٴ ہے کہ دین کو جیسے چاہے، پھیر لیں۔ سود کی حرمت تو قرآن کریم میں واضح موجود ہے۔ کلام الله کے خلاف کون جرات کر سکتا ہے۔ بیرسٹر صاحب اس پر حیرت سے پوچھتے ہیں کہ کیا سود کا حرام ہو نا قرآن کریم میں موجود ہے؟ ہم تو یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ مولویوں کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔

قرآن سے اجنبیت(لاعلمی) کا یہ حال اُن لوگوں کا ہے کہ جو دنیاوی لحاظ سے اعلیٰ درجے کی مہارت کے بیرسٹر تھے اور مولوی بھی کہلاتے تھے، مگر اتنی خبر نہ تھی کہ یہ قرآن کا مسئلہ ہے۔ اس وجہ سے معلوم ہونے کے بعد بہت نادم اور شرمندہ ہوئے۔ لہٰذا، آج کل کے عقل مند دعویٰ تو اجتہاد کا کرتے ہیں، مگر قرآن سے لاعلمی کا یہ حال ہے۔

کسی معقولی ( جو لوگ خو دکو بڑے عقل مند سمجھتے اور عقلی بنیاد پرہرشئی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں) کا ایک اور قصہ بھی ہے کہ ان سے ایک مرتبہ لوگوں نے کہا کہ کچھ بیان کیجیے۔ انہوں نے نما زکا بیان شروع کر دیا۔ کچھ یاد نہیں تھا۔ بہت سوچ کر فرمایا، ”آج کل لوگوں کا یہ حال ہو گیا ہے کہ نماز نہیں پڑھتے، حال آنکہ قرآن شریف میں ہے ”من ترک الصلوٰة متعمداً فقد کفر“ اِس پر کسی نے ان حضرت کو ملامت کیا کہ یہ تو حدیث ہے،  آپ نے اسے قرآن میں کیسے بتا دیا؟ تو تعجب سے فرماتے ہیں کہ کیا یہ قرآن کی آیت نہیں ہے؟ (جاری)

Flag Counter