Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق محرم الحرام 1435ھ

ہ رسالہ

10 - 17
حرمتِ تصویر کی نوعیت

مولانا محمد شعیب الله خاں، ہندوستان
	
تصویر کی حرمت پر بہت سے علماء نے اب تک بہت کچھ لکھا ہے اور ہندو بیرون ہند کے دارالافتاؤں سے بھی اس کے بارے میں حرمت کے فتاوی باربار جاری ہوتے رہے ہیں اور تقریباً اس کا حرام وناجائز ہونا عوام وخواص کے نزدیک ایک مسلمہ امرہے، مگر اس کے باوجود اس میں عوام تو عوام، خواص امت کا بھی ابتلا عام ہے اور اسی صورتِ حال کو دیکھ کر بعض ناواقف لوگوں کو اس کے جائز ہونے کا شبہ ہو جاتا ہے، بالخصوص جب علماء ومدارس اسلامیہ کے ذمہ دار حضرات کی جانب سے تصاویر کے سلسلہ میں نرم رویہ برتا جاتا ہے او ران کی تصاویر اخبارات ورسائل وجرائد میں بلاکسی روک ٹوک کے شائع ہوتی ہیں …تو ایک عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ حلال ہونے کی وجہ سے لی جارہی ہے یا یہ کہ ان کے تساہل کا نتیجہ ہے؟ پھر جب وہ علماء کی جانب رجوع کرتا ہے اور اس کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ یہ تو حرام ہے۔ اس سے اس کی پریشانی اوربڑھ جاتی ہے۔ علماء کی تصاویر کے سلسلہ نے جہاں عوام الناس کو بے چینی وپریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، وہیں اس سے ایک حرام کے حلال سمجھنے کا رحجان بھی پیدا ہو رہا ہے جو اور بھی زیادہ خطرناک وانتہائی تشویش ناک صورت حال ہے، کیوں کہ حرام کو حرام اور حلال کو حلال سمجھنا ایمان کا لازمہ ہے، اگر کوئی حرام کو حلال سمجھنے لگے تو اس سے ایمان بھی متأثر ہوتا ہے۔

کسی عربی شاعر نے اسی صورت پر دل گیر ہو کر یہ مرثیہ لکھا ہے #
        کفی حزنا للدین أن حماتہ
        اذا خذلوہ قل لنا کیف ینصر؟
        متی یسلم الاسلام مما اصابہ
        اذا کان من یرجی یخاف ویحذر؟
ہمارے اکابر وعلماء ومشائخ تو حلال امور میں بھی احتیاط برتتے اور لوگوں کے لیے تقوی کا ایک اعلیٰ نمونہ ہوا کرتے تھے، اگر اس میں اختلاف بھی مان لیا جائے تو رہبرانِ قوم کا کیا فرض بنتا ہے؟ اس پر غور کیجیے۔

حرمت تصویر اور جمہورِ امت کا مسلک
عکسی تصویر اور ٹی وی اور ریڈیو کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ علماء ہندو پاک ہی ان کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور عالم اسلام کے دوسرے علماء جیسے علمائے عرب ومصر وغیرہ سب کے سب ان کو جائز کہتے ہیں، یہ غلط فہمی خود بندے کو بھی رہی، لیکن ایک مطالعہ کے دوران علمائے عرب ومصر کے متعدد وفتاوی وتحریرات نظر سے گزریں تو اندازہ ہوا کہ ان حضرات میں سے بھی جمہور علماء کا ”عکسی تصویر“ اور ”ٹی وی“ اور ”ویڈیو“ کے بارے میں وہی نقطہ نظر ہے جو ہندوستانی وپاکستانی علماء کا شروع سے رہا ہے۔

ہاں! اس میں شک نہیں کہ وہاں کے بعض گنے چنے علماء نے عکسی تصویر کو جائز کہا ہے اور ٹی وی اور ویڈیو کی تصاویر کو بھی عکس مان کر ان کو بھی جائز کہا ہے ، لیکن یہ وہاں کے جمہور کا فتویٰ نہیں ہے، جمہور علماء اسی کے قائل ہیں کہ یہ تصاویر کے حکم میں ہیں او را س لیے حرام وناجائز ہیں اور خود وہاں کے علماء نے مجوزین کا خوب رد وانکار بھی کر دیا ہے۔ جیسے شیخ حمود بن عبدالله التو یجری نے ”تحریم التصویر“ اور ” الاعلان بالنکیر علی المفتونین بالتصویر“ نامی رسائل اسی سلسلہ میں لکھے ہیں ، نیز جامعہ قصیم کے استاذ شیخ عبدالله بن محمد الطیار نے ” صناعة الصورة بالید مع بیان احکام التصویر الفو تو غرافي“ کے نام سے رسالہ لکھا ہے اور مصر کے عالم شیخ ابو ذر القلمونی نے ”فتنة تصویر العلماء“ کے نام سے ان کا رد لکھا ہے ، نیز علماء نے اپنے اپنے فتاوی میں بھی اس پر کلام کیا ہے ۔ اسی طرح ڈش انٹینا، جس کا فساد اب حد سے تجاویز کر گیا ہے اور اس نے انسانوں کی تباہی میں کوئی کسر نہیں اٹھار رکھی ہے، اس کے بارے میں بھی علمائے عرب کے فتاوی میں حرمت کا حکم اور اس سے بچنے کی تلقین موجود ہے۔

حرمتِ تصویر اور علمائے ہندوپاک
جیسا کہ اوپر عرض کیا کہ کیمرے کی عکسی تصویر کی حرمت میں اگرچہ معاصر علماء کے درمیان میں اختلاف ہوا ہے او رایک چھوٹی سی جماعت اس کے جواز کی جانب مائل ہوئی ہے، لیکن اس میں کیا شک ہے کہ تصویر کی حرمت جمہور امت کا متفقہ فتوی وفیصلہ ہے ، عرب سے لے کر عجم تک جمہور امت نے اسی کو قبول کیا ہے۔

جہاں تک علمائے ہندوپاک کا تعلق ہے، بات بالکل واضح ومسلم ہے۔ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے تو اپنے رسالہ”التصویر لأحکام التصویر“ میں یہ تصریح کی ہے کہ ان کے زمانے تک کم از کم ہندوستان (جو اس وقت تک غیر منقسم تھا) میں حضرت مولانا سید سلیمان ندوی کے سوا کسی نے جواز پر قلم نہیں اٹھایا اور پھر انہوں نے بھی اس سے رجوع کر لیا۔ (جواہر الفقہ:171/3)

یہاں یہ عرض کر دینا مناسب ہو گا کہ حضرت مولانا سید سلیمان ندوی نے ماہنامہ ”معارف“ کی متعدد قسطوں میں ایک مضمون عکسی تصویر کے جائز ہونے پر لکھا تھا، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اس کے رد میں ”التصویر لأحکام التصویر“ لکھی ، اس کو دیکھ کر حضرت مولانا سید سلیمان ندوی نے اپنے جواز کے قول سے رجوع کر لیا تھا، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں کہ یہ رجوع واعتراف کا مضمون علامہ سید صاحب کے کمال علم اور کمال تقوی کا بہت بڑا شاہ کار ہے، اس پر خود حضرت مرشد تھانوی سیدی حکیم الامت رحمة الله علیہ نے غیر معمولی مسرت کا اظہار نظم میں فرمایا۔

اس سلسلہ میں دوسری بڑی شہادت و گواہی یہ ہے کہ عالم اسلام کی مشہور و معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت اقدس مولانا ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمہ نے بھی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ہندوستان کے تمام مسلمان تصویر کے حرام ہونے پر متفق ہے ۔ چنا ں چہ آپ کی کتاب لاجواب”ما ذا خسر العالم بانحطاط المسلمین “کے شروع میں فضیلة الشیخ الاستاذ احمد الشرباصی نے حضرت والا کا جو تعارف لکھا ہے ،اس میں وہ لکھتے ہیں:

”آپ ہر قسم کی تصویر کو برا سمجھتے تھے اور خود پر اس کو پوری سختی سے حرام قرار دیتے تھے۔کہتے ہیں کہ میں ایک بار آپ کے ساتھ قاہرہ کے ایک بڑے مطبع میں گیا تو مطبع کے مصور نے آپ کی ایک یاد گار تصویر اتارنے کی اجازت چاہی تو آپ نے منع کردیا اور ذکر کیا :ان المسلمین فی الھند متفقون علی حرمة التصویر“(ہندوستان کے مسلمان تصویر کی حرمت پر متفق ہیں )۔(ماذا خسرالعالم :21)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولانا ابو الحسن ندوی علیہ الرحمہ بھی خود تصویر کو حرام سمجھتے تھے اور اس کو کم از کم ہندوستان کے تمام علماء کا متفقہ فیصلہ قرار دیتے تھے ۔

اور یہاں یہ بھی عرض کر دینا خالی از فائدہ و عبرت نہیں کہ حضرت مولانا ابو الکلام آزاد صاحب مرحوم جنھوں نے مدت دراز تک اپنا مشہور اخبار ”الہلال“با تصویر شائع کیا ،جب وہ رانچی کی جیل میں تھے ،آپ کے متعلقین نے آپ کی سوانح شائع کرنا چاہی تو آپ سے سوانح کے ساتھ شائع کرنے کے لیے ایک تصویر کا مطالبہ کیا ، اس پر مولانا ابو الکلام آزاد نے، جو جواب دیا وہ خود اسی ”تذکرہ“ میں شائع کیا گیا ہے ،جس میں آپ نے لکھا ہے:
”تصویر کا کھنچوانا ،رکھنا، شائع کرنا سب ناجائز ہے،یہ میری سخت غلطی تھی کہ تصویر کھنچوائی اور ”الہلال“کو باتصویر نکالا تھا،اب میں اس غلطی سے تائب ہو چکا ہوں ،میری پچھلی لغزشوں کو چھپانا چاہیے نہ کہ از سرنو ان کی تشہیر کر نا چاہیے“۔(بحوالہ جواہر الفقہ:3/171)

الغرض اس سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کم از کم ہندوستان کے علماء کا تصویر کے عدم جواز پر اتفاق تھا ۔اور رہا حضرت سلیمان ندوی کا جواز کا خیال ، تو آپ نے خود اس سے رجوع کر لیا اور سب کے موافق عدم جواز کے قائل ہوگئے۔

تصویر کے بارے میں علمائے عرب و مصر کا موقف
اسی طرح دیگر ممالک اسلامیہ میں بھی جمہور علماء کا فتوی تصویر کے ناجائز ہونے ہی کا ہے،عام طور پر لوگ مصر کے علماء کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں ،مگر یہاں بھی یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ بھی مصر کے چند علماء کا فتوی ہے ،سب کا، جمہور کا نہیں ،اس کی شہادت مصر ہی کے ایک عالم شیخ ابو ذر القلمونی کی یہ عبارت دیتی ہے جو انہوں نے اپنی کتاب ”فتنة تصویر العلماء “میں لکھی ہے کہ :
”ثم حری بطلبة العلم تدارک ھذہ الفتنة، اذ تحریم التصاویر کان مستقرا بین اخواننا، ثم فی العقد الاخیر اخذ ہذا المنکر یفشو و یذیع، حتی صار ہو الاصل، وصار المحق عازفا عن الانکار، اجتنابا للذم“․(فتنة تصویر العلماء:5)

اس سے معلوم ہوا کہ مصر میں بھی جمہور علماء کے مابین یہی بات مسلم وطے شدہ تھی کہ تصویر حرام ہے۔لہٰذا مطلقا یہ کہنا کہ مصر کے علماء اس کو جائز کہتے ہیں خلاف واقعہ ہے۔

اور سعودی حکومت کی جانب سے قائم کردہ دارالافتاء اور علمی مسائل کی تحقیق کا ایک بڑا و معتبر عالمی مرکز”اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتاء“نے ایک فتوی میں کہا کہ:
”القول الصحیح الذی دلت علیہ الأدلہ الشرعیة، وعلیہ جماہیر العلماء:أن أدلة تحریم تصویر ذوات الأرواح تضم التصویر الفوتو غر افی والیدوی، مجسما أو غیر مجسم، لعموم الادلة“․

(صحیح قول جس پر شرعی دلائل دلالت کرتے ہیں اور جس پر جمہور علماء قائم ہیں یہ ہے کہ جان دار چیزوں کی تصویر حرمت کے دلائل فوٹو گرافی کی تصویر اورہاتھ سے بنائی جانے والی تصاویر سبھی کو شامل ہیں ،خواہ وہ مجسم ہو یا غیر مجسم ہو،دلائل کے عام ہونے کی وجہ سے۔ )(فتاوی اسلامیہ:4/355)

اس سے بھی معلوم ہوا کہ جمہور امت، خواہ وہ مصرکے لوگ ہوں یا سعودیہ کے یا کسی اور علاقے کے، وہاں جمہور اس عدم جواز پر متفق ہیں۔

نیز یہ بھی سنتے چلیے کہ ایک مرتبہ عربی محلہ ”عکاظ“میں سات علماء کا تصویر کے جوازکا فتوی شائع ہوا،تو علماء نے اسی وقت اس کا رد کیا۔سعودی عرب کے ایک مفتی شیخ حمود بن عبداللہ بن حمود التویجری نے ”تحریم التصویر“کے نام سے اس کا باقاعدہ رد لکھا ہے،اس رسالہ میں لکھا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے :
جریدہ عکاظ والوں نے اس شاذ فتوی کا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تصاویر کو مٹانے کے حکم کے مخالف ہے،اس کا جو عنوان رکھا ہے وہ ہے: علماء مصلحت پر متفق ہیں اور یہ کہ تصویر حرام نہیں ہے۔اس باطل عنوان کو قائم کرنے میں اہل جریدہ کو بہت بڑی خطا لگی ہے ،کیوں کہ اس سے عوام یا خواص کا لعوام کو یہ وہم ہوتا ہے کہ مصلحت کی وجہ سے تصویر لینے کے حلال ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور یہ کتاب اللہ و سنت رسول کو مضبوط پکڑنے والے متقدمین و متأخرین علماء پر ایک بہتان ہے؛کیوں کہ وہ تو تصویر سے منع کرتے اور اس میں سختی کرتے ہیں اور ان سہولت پسند لوگوں کا کوئی اعتبار نہیں، جو فتوی دینے میں بغیر تثبت کے جلد بازی کرتے ہیں؛ کیوں کہ شریعت مطہرہ میں مصلحت سے یا بغیر مصلحت کسی بھی وجہ سے تصویر کا حلال ہوناوار د نہیں ہے ۔اور اگر ان مسائل میں سے کسی مسئلہ میں جس میں کوئی نص نہ ہو ،سات علماء ایک قول پر اجماع کرلیں اور ان کی بات معقول بھی ہوتب بھی ان کا قول اجماع نہیں ہے، جس کا ماننا لازم ہو ، بلکہ ان کے اور دیگر علماء کے اقوال کو دیکھا جائے گا اور ان کی بات قبول کی جائے گی ،جن کا قول کتاب اللہ و سنت سے موٴید ہو۔(تحریم التصویر :4)

دیکھیے! کس قدر صفائی کے ساتھ اس فتوی کو شاذ اور مخالف احادیث قرار دیا ہے اور جمہور علماء کے نقطہ نظر سے ٹکرانے والا قرار دیا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حجاز و مصر کے جمہور علماء بھی حرمت تصویر پر متفق ہیں۔

تصویر کے باب میں اختلاف کی حیثیت
ہاں! بعض علماء جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے،انھوں نے ضرور عکسی تصویر کے متعلق جواز کا فتوی دیا ہے ،مگر اس کے بارے میں غور طلب بات یہ ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف کی حیثیت و نوعیت کیا ہے ؟

کیوں کہ بنظر غائر مطالعہ سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ہر اختلاف ایک ہی درجہ کا نہیں ہوتااور اس کی وجہ سے مسئلہ میں تخفیف نہیں ہو جاتی ،بلکہ اس میں بھی اختلاف کی نوعیت و حیثیت کا لحاظ پڑے گا،ورنہ غور کیجیے کہ ڈاڑھی منڈانے کے مسئلہ میں بھی مصریوں کا اختلاف ہے،جمہور امت یہ کہتی ہے کہ حرام ہے، جب کہ مصریوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے ،حتی کہ جامعہ الازھر کے بعض مفتیوں نے بھی اس کو صرف سنت کہتے ہوئے منڈانے کو جائز کہا ہے۔(دیکھو فتاوی الازھر :2/166)

کیا اس کا کوئی اثر جمہورامت نے قبول کیا ؟ اور کیا اس کی وجہ سے حرمت کے فتوے میں کوئی گنجائش برتی گئی ؟کیا یہاں بھی یہ کہا جاسکے گا کہ ڈاڑھی منڈانے کے مسئلہ میں چوں کہ مصریوں کا اختلاف ہے ،اس لیے اس میں بھی شدت نہ برتی جائے اور منڈانے والو ں کو گنجائش دی جائے اور اگر امام لوگ بھی منڈائیں ،تو ان پر بھی نکیر نہ کی جائے؟

اسی طرح ربا، یعنی سود کی حرمت ایک متفقہ امر ہے، مگر چند برسوں سے بینکوں کے نظام کے تحت وصول ہونے والے سود کو بعض لوگ جائز کہنے لگے ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور نزول قرآن کے وقت جو سود رائج تھا وہ ذاتی و شخصی ضروریات پر لیے جانے والے قرضوں کی بنیاد پر لیا جاتا تھا اور یہ واقعی ایک ظلم ہے ، لہٰذا وہ ناجائز ہے مگر بینکوں کے اس دور میں قرضے ذاتی ضرورت کے بجائے تجارتی ضرورت کے لیے لیے جاتے ہیں اور اس میں حرمت سود کی وہ علت نہیں پائی جاتی جو اس دور میں تھی ،لہٰذایہ بینکوں والا سود جائز ہے۔اورلکھنے والوں نے اس پر مضامین بھی لکھے اور کتابیں بھی لکھیں ،جیسے ایک صاحب نے ”کمرشل انٹرسٹ کی فقہی حیثیت“ لکھی ہے۔ فرمائیے کہ کیا اس اختلاف کو بھی موٴثر مانا جائے گا؟اور اس کی وجہ سے سود کی حرمت بھی حدود جواز میں داخل سمجھی جائے گی اور اس میں سختی کرنا فعل مکروہ اور غیر دانش مند انہ کام ہوگا؟

ایک اور مسئلہ سنیے کہ چاند کے ثبوت کا مدار شریعت نے رویت پر رکھا ہے ،نہ کہ فلکیاتی حسابات پر،جمہور امت نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اس سے ہٹ کر ایک طائفہ قلیلہ نے چاند کے ثبوت کے لیے فلکیاتی حسابات کو بھی معیار مانا ہے، مگر اس کو علماء نے مذہب باطل قرار دیا ہے ۔

اسی طرح گانا بجانا مزا میر کے ساتھ حرام ہے ،مگر اس میں علامہ ابن حزم ظاہری ،علامہ محمد بن طاہر المقدسی اور علامہ ابو الفرج اصفہانی نے اختلاف کیا ہے اور اس کو جائز قرار دیا ہے۔اور بالخصوص آخری دو حضرات نے تو اس سلسلہ میں مواد فراہم کرنے کی بڑی کوشش کی ہے ۔حتی کہ ابو الفرج نے اپنی کتاب ”الاغانی“میں شرابیوں کبابیوں ،گویوں اور موسیقاروں کے حالات بھی خوب جمع کردیے ہیں، مگر کیا اس اختلاف کو کسی بھی معتبر عالم و مفتی نے درخور اعتنا سمجھا اورگانے بجانے کی حرمت کو خفیف و معمولی قرار دیا؟

اس سے معلوم ہوا کہ ہر اختلاف ایک درجہ کا نہیں کہ اس کو اہمیت دی جائے اور س کی وجہ سے مسئلہ میں خفت و ہلکا پن خیال کیا جائے ؛لہٰذا جو حضرات اس کو ایک اختلافی مسئلہ قرار دے کر اس کی حرمت کو ہلکا سمجھتے یا سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ،وہ ایک سعی لا حاصل میں لگے ہوئے ہیں ۔

اختلاف سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے قابل غور بات
لہٰذا یہاں ان حضرات کے لیے، جو اختلاف سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ،دو باتیں قابل غور ہیں:
ایک تو یہ کہ تصویر کو جائز کہنے والوں نے کسی مضبوط دلیل کی بنیاد پر جواز کو اختیار کیا ہے ، بلکہ بعض احادیث کے سمجھنے میں غلط فہمی کا شکار ہوکر جواز کی بات کہی ہے۔اور غلط فہمی کیا ہے ؟اس کا ذکر اس رسالہ میں علمائے فتاوی سے معلوم ہو جائے گا ؛ لہٰذا کسی غلط فہمی کی بنیاد پر اختلاف کو دلیل کی بنیاد پر اختلاف کے درجہ میں سمجھنا ایک اصولی غلطی ہے۔ اس اختلاف کی مثال ڈاڑھی منڈانے میں اختلاف سے دی جاسکتی ،جس کو محض ایک غلط فہمی کہا جا سکتا ہے ؛لہٰذا ان مجوزین کا قول ایک شاذ قول کی حیثیت رکھتا ہے ،جس کو معمول بہ بنانا اور اس پر عمل درآمد کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟بالخصوص اس صورت میں جب کہ جواز کے دلائل کے ضعف و کمزوری کو حضرات علماء نے واضح کر کے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا اور جائز قرار دینے والوں کی غلط فہمی کو دور کر دیا ہے ۔

ایک اور بات قابل توجہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں اگرچہ اختلاف ہوا ہے؛مگر فتوی کے لیے علماء نے حرمت ہی کے قول کو ترجیح دی ہے،ہندوستان وپاکستان کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں کہ یہاں کے علماء نے ہمیشہ اس کے عدم جواز ہی کا فتوی دیا ہے اور اسی طرح عرب دنیا میں بھی یہی صورت حال ہے،سعودی عرب کے ایک عالم شیخ ولید بن راشد السعیدان نے”حکم التصویر الفوتو غرافی“میں لکھا ہے کہ عکسی تصویر کے بارے میں اختلاف ہے،بعض نے اس سے منع کیا ہے اور یہ حضرات اکثر ہیں اور اسی قول پر سعودی عرب کے اندر فتوی ہے۔(حکم التصویرالفوتو غزافی:11)

جب فتوی حرمت پر ہے تو اس سے اعراض کرنا اور اس کے خلاف کو ترجیح دینا چہ معنے دارد؟یہ بات قابلِ غور ہے؛کیوں کہ بلاوجہ مفتی بہ قول کو چھوڑ کر شاذ قول پر عمل کرنا صحیح نہیں ہے۔

الغرض تصویر کے مسئلہ میں جب ایک جانب جمہور امت ہے اور اس کے اساطین وائمہ ہیں اور وہ سب کے سب تقریبا اس کی حرمت پر متفق ہیں اور جمہور کے نزدیک مجوزین کی رائے غلط فہمی کا نتیجہ اور بے دلیل ہے اور پھر جمہور نے ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیا اور حق کو دلائل کی روشنی میں واضح کردیا ہے ،تو ان کے قول سے گریز کرنا اور ایک چھوٹی سی جماعت کے قول ہی کو ترجیح دیناکس بنیاد پر ہے؟کیا جمہور امت کا موقف اس لائق نہیں کہ اس کو ترجیح دی جائے؟بلکہ جمہور علمائے عرب و عجم کی بات کو قبول نہ کر کے ایک شاذ قول کا اس قدر احترام کرنا کہ گویا وہی صحیح ہے اور حرمت کا قول گویا باطل ہے،کیا یہ طرز عمل کسی صالح معاشرے ونیک ذہن کی پیداوار ہے یاکسی بیمار ذہنیت کا نتیجہ؟امام حدیث عبدالرحمن بن مہدی نے اسی لیے فرمایا کہ:”لا یکون اماماً فی العلم من اخذبالشاذ من العلم“․(جو شخص علماء کے شاذ قول کو لیتا ہے وہ علم کی دنیا میں امام نہیں ہو سکتا)۔(جامع بیان العلم:2/48)

مسئلہ تصویر میں جمہورعلماء کی شدت
پھر یہاں ایک اور بات قابل لحاظ ہے کہ اگر مسئلہ تصویر ایک اختلافی مسئلہ ہونے کی وجہ سے اس میں شدت، بلکہ اس پر نکیر کوئی غلط بات ہوتی تو جمہور علمائے امت نے اس پر کیوں نکیر کی اور پوری شدت سے کی؟چناں چہ علمائے عرب و عجم نے تصویر کو جائز قرار دینے والوں پر جس قدر شدت برتی ہے،اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف کی وہ حیثیت نہیں جو مسائل اختلافیہ کو حاصل ہے، ورنہ ان حضرات اکابر کا یہ شدت برتنا جائز نہ ہوتا؛کیوں کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ مسائل اختلافیہ میں ایک دوسرے پراعتراض جائز نہیں اور یہاں صورت حال یہ ہے کہ جواز کے قول کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔جس کے نمونے اس رسالہ میں موجود اکابرین کے فتاوی میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔

مثلا علامہ شیخ ابن باز نے بعض فتاویٰ میں لکھا ہے:”ہم نے جواب میں جو احادیث اور اہل علم کا کلام نقل کیا ہے،اس سے حق کے متلاشی پریہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لوگ جو کتابوں ،مجلوں،رسالوں اور جریدوں میں جان دار کی تصویر کے سلسلہ میں وسعت برت رہے ہیں ،یہ واضح غلطی اور کھلا ہوا گناہ ہے۔“(فتاوی شیخ ابن باز :4/ 189-179)

مفتی علامہ شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ نے لکھا ہے:
”جس نے یہ خیال کیا کہ شمسی تصویر منع کے حکم میں داخل نہیں اور یہ کہ منع ہونا مجسم صورت اور سایہ دار چیزوں کی تصویر کے ساتھ خاص ہے ،تو اس کا خیال باطل ہے“۔(فتاوی و رسائل شیخ محمد بن ابراہیم :1/134)

اللجنة الدائمہ کے ایک فتوی میں لکھا ہے:
”انسان و حیوان وغیرہ جان دار چیز وں کی شمسی و عکسی تصویر لینا اور ان کو باقی رکھنا حرام ہے ؛ بلکہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے“۔(فتاوی اللجنة الدائمة :1/459،رقم الفتوی:1978)

اور علامہ شیخ عبدالرحمن بن فریان”شمسی تصویر کی حرمت “پر تفصیلی کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ولا تغتر ایھا المسلم بمن تنطع بمعسول الکلام، وقام یحلل ویحرم، بغیر دلیل وبرھان،بل بمجرد الرای والھذیان،من بعض متعلمة ہذہ الازمان، واجاز الصور الضوئیة، وجعل المنع خاصا بما لہ اجسام، سبحان اللہ!من این ہذا التفریق ولم یجیء لا فی سنة ولا قرآن؟“․

(اے مسلم!تو اس زمانے کے بعض علم کی جانب منسوب لوگوں سے دھوکہ نہ کھانا، جو چکنی چپڑی باتیں کرتے اور بلادلیل و برہان،محض اپنی رائے اور بکواس سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے ہیں اورعکسی تصویر کو جائز قراردیتے اور منع کو صرف ان تصویروں سے خاص کرتے ہیں جو مجسمہ کی شکل میں ہوں۔سبحان اللہ!یہ فرق کہاں سے آیا؟ جب کہ نہ تو سنت میں یہ فرق آیا اور نہ قرآن میں آیا؟)

پھر آگے چل کرلکھتے ہیں:
فیجب علی المسلمین انکار ہذا، ولا یجوز لھم السکوت، ولا یغتر بفشوہ ورواجہ، فان المنکر ہو بحالہ منکر، کما ہو فی الشرع، ولا یحللہ کثرتہ و رواجہ، ولا محبة البعض وارتکابہ “․(الدرالسنیة:15/234)

(لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس منکر پر انکار و نکیر کریں اور اس پر ان کی خاموشی جائز نہیں ہے اور تصویر کے رواج اور عام ہوجانے سے دھوکہ نہ کھایا جائے؛ کیوں کہ منکر تو ہر حال میں منکر ہے،اس کا عام ہو جانا اور رواج پاجانا اس کو حلال نہیں کر دیتا اور نہ بعض لوگوں کی اس سے محبت اور اس کا مرتکب ہونا اس کو جائز کرتا ہے۔)

قابل غور یہ ہے کہ اگر تصویر کے مسئلہ میں اختلاف اس درجہ کا ہوتا جو مختلف فیہ مسائل میں ہوتا ہے تو کیا اس قدر شدت کا جواز تھا،جوان حضرات نے اختیار کیا ہے اور تصویر کو حرام ؛بلکہ گناہ کبیرہ قرار دیا ہے اور جواز کے قائلین کو کھلی غلطی و واضح گناہ پرٹھہرایا ہے؟ اور اہل اسلام کو اس پر انکار و نکیر کرنا ضروری قرار دیا ہے اور خاموشی کو نا جائز کہا ہے اور س کے عام ہو جانے اور رواج پا جانے کو بے اثر ٹھہرایا ہے؟نہیں ،اس سے معلوم ہوا کہ اس اختلاف کو وہ حضرات کوئی قابل لحاظ ہی نہیں مانتے تھے ۔

اسی طرح ہندو پاک کے علماء کا بھی رویہ رہا ہے ،ایک دو حضرات کے اس سلسلے میں فتاوی نقل کردینا اس جگہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی نے ایک اسکول کے جلسہ (جس میں تصویر لی جاتی ہے )کے بارے میں سوال پر لکھا ہے:
”یہ معصیت کی مجلس ہے،جس میں شرکت قطعاً جائز نہیں؛بلکہ دوران مجلس اس قسم کی حرکت شروع ہوتب بھی روکنے کی قدرت نہ ہونے والے ہر شخص پر اٹھ جانا واجب ہے“۔نیز لکھا کہ تصویر سازی شریعت کی رو سے ایک کبیرہ گناہ ہے۔نیز فرماتے ہیں کہ :”انتہائی قلق کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ تصویر کی لعنت عوام سے تجاوز کر کے خواص؛ بلکہ علماء تک پھیل گئی ہے، جس کا افسوس ناک نتیجہ سامنے آرہاہے کہ بہت سے لوگ ان حضرات کے اس طرز عمل کو دیکھ کر اس قطعی حرام کو حلال باور کرنے لگے ۔“(احسن الفتاوی :8/417،418،434)

پاکستان میں ایک جگہ ایک مسجد میں رمضان میں ختم قرآن کے موقعہ پر جلسہ ہوا،اس میں ایک وہیں کے مدرس صاحب نے جلسہ کی تصاویر لیں ،لوگوں کے منع کرنے پر اس نے بتایا کہ یہ ریل امام صاحب نے بھروائی ہے اور ان ہی کی اجازت سے تصویر لے رہا ہوں اور ایسا سب جگہ ہوتا ہے۔ الغرض اس نے ضد میں تصاویر کھینچیں اور خود ان امام صاحب کے مائک پر آنے پر ان کی بھی تصاویر لیں ،اس واقعہ کا ذکر کر کے کسی نے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے سوال کیا تو اس کے جواب میں حضرت نے لکھا ہے:
”تصویریں بنانا خصوصاً مسجد کو اس گندگی کے ساتھ ملوث کرنا حرام اور سخت گناہ ہے۔اگر یہ حضرات اس سے علانیہ توبہ کا اعلان کریں اور اپنی غلطی کا اقرار کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں تو ٹھیک ہے،ورنہ ان حافظ صاحب کو امامت سے اور تدریس سے الگ کردیا جائے۔اور ان کے پیچھے نماز ناجائز اور مکروہ تحریمی ہے“۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل :7/61)

اسی طرح علماء و بزرگان کی آئے دن اخبارات میں شائع ہونے والی تصاویر کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :”تصویر بنانا اور بنوانا گناہ ہے؛لیکن اگر قانونی مجبوری کی وجہ سے ایسا کرنا پڑے تو امید ہے کہ مواخذہ نہ ہوگا۔ باقی بزرگان دین نے اول تو تصویریں اپنی خوشی سے بنوائی نہیں اور اگر کسی نے بنوائی ہوں تو کسی کا عمل حجت نہیں،حجت خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔“(آپ کے مسائل :7/27)

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :”فلم اور تصویر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے حرام ہے اور ان کو بنانے والے ملعون ہیں۔“(آپ کے مسائل :7/67)

پاکستان کے وزیر خارجہ سردار آصف احمد نے ایک بیان کہاتھا کہ اسلام میں رقص و موسیقی اور تصویر سازی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔اس کارد کرتے ہوئے آپ نے اولا ان امور کے بارے میں احادیث نقل کی ہیں پھر لکھا ہے :”آں حضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے بعد سردار آصف احمد کا یہ کہنا کہ اسلام میں ان چیزوں پر کوئی پابندی نہیں ،قطعاً غلط و خلاف واقعہ ہے اور ان کے اس فتوی کا منشا یا تو ناقص مطالعہ ہے یا خاکم بدہن صاحب شریعت صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف ہے۔پہلی وجہ جہل مرکب اور دوسری وجہ کفر خالص ۔“(آپ کے مسائل:7/76)

علماء کی تصاویر اور ان کا ٹی وی پر آنا عوام کو یا تو بے چین کرتا ہے یا یہ کہ وہ اس سے اس کے جواز پر استدالال کرتے ہیں ،ایک صاحب نے آپ سے جب اس سلسلہ میں علماء کے فعل کا حوالہ دیا تو جواب لکھا کہ:
”یہ اصول ذہن میں رکھیے کہ کہ گناہ ہر حال میں گناہ ہے ،خواہ ساری دنیا اس میں ملوث ہو جائے۔دوسرا اصول یہ بھی ملحوظ رکھیے کہ جب کوئی برائی عام ہو جائے تو اگر چہ اس کی نحوست بھی عام ہوگی؛مگر آدمی مکلف اپنے فعل کا ہے۔پہلے اصول کے مطابق ٹی وی پر آنا اس کے جواز کی دلیل نہیں ،نہ امام حرم کا تراویح پڑھانا ہی اس کے جواز کی دلیل ہے،اگر طبیب کسی بیماری میں مبتلا ہو جائیں تو بیماری بیماری ہی رہے گی ،اس کو صحت کا نام نہیں دیا جا سکتا“۔ (آپ کے مسائل:7/81)

ان فتاوی پر غورکیجیے کہ کیا ایک اختلافی مسئلہ پر کسی کو ملعون کہنااور اس کام کے ارتکاب پر امامت سے ہٹانے کی تجویز رکھنا بلکہ اس کا فتوی صادر کرنا صحیح ہو سکتا ہے،اگر نہیں اور یقینا نہیں تو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس مسئلہ کی وہ نوعیت نہیں جو اختلافی مسائل کی ہوتی ہے؛بلکہ ان حضرات علماء کے نزدیک اس مسئلہ میں اختلاف غلط فہمی کانتیجہ ہے،نہ یہ کہ اس کی بنیاد دلائل ہیں۔

مجوزین کی ایک دلیل کا جواب
یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ موجوہ دور کے مجوزین تصویر میں سے بعض کو سنا گیا کہ وہ دلیل جواز یہ دیتے ہیں کہ آج کل تصویر کا عام رواج ہو چکا ہے،کوئی محفل و مجلس اس سے خالی نہیں ،عوام تو عوام علماء بھی لیتے ہیں ،تو کب تک اس کو ناجائز کہتے رہیں گے؟ابھی قریب میں ہمارے مدرسہ میں ایک مفتی صاحب کا ورود ہوا،میں تو سفر پر تھا ،لہٰذا ملاقات نہیں ہوئی،دیگر اساتذہ کے درمیان انھوں نے یہ باتیں کہیں اور تصویر کو ناجائز کہنے والوں پر طنز تعریض کی۔

مگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو پھر تمام حرام کامو ں کو جائز ہو جانا چاہیے ؛ کیوں کہ آج شراب بھی عام ہے ،موسیقی و گانا بجانا بھی عام ہے،موبائیل فون سے گانے بجانے کی ٹیون ہم نے علماء کو بھی رکھتے دیکھا ہے اور بے پردگی بھی عام ہے،سود و جوا بھی عام ہے اور رشوت خوری کا بھی خوب چلن ہے؛بلکہ غور کرنا چاہیے کہ کونسا گناہ ایسا ہے جو آج کے معاشرے میں رواج نہیں پارہا ہے، لہٰذا یہ سب کے سب حرام کام اس لیے جائز ہو جانا چاہیے کہ ان کا رواج عام ہوگیا ہے ،لہٰذا کب تک اس کو حرام کہتے رہیں ؟لاحول ولا قوةالاباللہ،اگریہ مفتیانہ منطق چل جائے تو اسلام کا خدا ہی حافظ!

یہاں ان مفتی صاحب کی دلیل کے جواب میں صرف یہ بات کافی ہے کہ ہم حضرت اقدس مفتی محمد شفیع صاحب علیہ الرحمہ کے رسالہ”گناہ بے لذت“سے ایک عبارت نقل کیے دیتے ہیں ،بغور ملاحظہ کیجیے ۔حضرت لکھتے ہیں :
”آ ج کل یہ گناہ اس قدر وبا کی طرح تمام دنیا پر چھا گیا ہے کہ اس سے پرہیز کرنے والے کو زندگی کے ہر شعبے میں مشکلات ہیں ،ٹوپی سے لے کر جوتے تک کوئی چیز بازار میں تصویر سے خالی ملنا مشکل ہوگیا ہے،گھریلو استعمال کی چیزیں ، برتن ،چھتری،دیاسلائی ،دواؤں کے ڈبے اور بوتلیں، اخبارات و رسائل، یہاں تک کہ مذہبی اور اصلاحی کتابیں بھی اس گناہ عظیم سے خالی نہ رہیں ، فالی اللہ المشتکی !اور غور کیا جائے تو ان میں اکثر حصہ تصاویر کا محض بے کاروبے فائدہ ،گناہ بے لذت ہے،مسلمان کو چاہیے کہ گناہ کے عام ہو جانے سے اس کو ہلکا نہ سمجھے ؛بلکہ زیادہ اہمیت کے ساتھ اس سے بچنے اور دوسرے مسلمانوں کو بچانے کی فکر کرے“۔(گناہ بے لذت :52)

حضرت مفتی محمد شفیع صاحب جیسے اپنے زمانے کے مفتی بے مثال تو تصویر کے عام ہوجانے کے باوجود یہ کہتے ہیں :عام ہوجانے سے دھوکا نہ کھائیں اور اس کو ہلکا نہ سمجھیں ؛بلکہ اس سے مسلمانوں کو بچانے کی فکر کریں اور یہ جدید الخیال و روشن خیال مفتی صاحب یہ کہتے ہیں کہ جب یہ عام ہوگئی تو اب حرام کو حرام نہیں ؛بلکہ حلال کہو۔فیا للعجب!
Flag Counter