Deobandi Books

قافلہ جنت کی علامت

ہم نوٹ :

23 - 26
اللہ والے یہاں آتے ہیں، اُن کی صحبت بھی نصیب ہوجائے گی۔ مولانا رومی فرماتے ہیں ایک چراغ کے بجائے اگر بیس چراغ جل رہے ہوں تو کیا روشنی بڑھ نہ جائے گی۔ اگرچہ نور ضعیف سہی مثلاً چالیس چالیس پاور کے دس بلب جل رہے ہوں تو چار سو پاور کی روشنی نہ ہوجائے گی؟ تو یہ نہ سوچئے کہ یہ معمولی لوگ ہیں، مجھ کو خود اُن کی صحبت سے فائدہ ہوتا ہے۔ علامہ آلوسی یا مولانا رومی نے فرمایا کہ کعبہ پر اللہ کی تجلیات کی بارش ہورہی ہے، اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اخلاص کا نور بھی شامل ہے۔ لیکن مولانا نے ایک بات اور بیان کی جو آپ کہیں نہ سنیں گے کہ کعبہ کے اندر جتنے اولیاء اللہ بیٹھے ہیں، کعبۃ اللہ کے نور کے ساتھ اُن کا نور بھی فضا کو جگ مگ کررہا ہے۔ اس لیے کعبہ میں قدم رکھتے ہی ایمان بڑھ جاتا ہے۔ تو اتنے بندے جو اللہ کے لیے یہاں آتے ہیں کیا اُن کا نور اثرانداز نہ ہوگا؟ اللہ والوں کا خود ایک نور ہوتا ہے اور اُن ہی کی برکت سے مجھے مضامین کی آمد ہوتی ہے۔ جیسے مہمان ہوتے ہیں ویسی ہی ڈش آتی ہے یا نہیں؟ آپ کے دسترخوان پر جیسی عظیم شخصیتیں ہوں گی ویسی ہی عظیم ڈش آپ کی ہوگی۔ اگر آپ کے یہاں بادشاہ مہمان ہوجائے تو کیا اُسے معمولی کھانا کھلاؤگے یا اُس کی حیثیت کے مطابق کھانے کا اہتمام کروگے؟ یہ اللہ تعالیٰ کا دسترخوان ہے جس درجے کے لوگ آتے ہیں اور جس کے دل میں اللہ کی جیسی تڑپ اور پیاس ہوتی ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ جس درجے کا ولی بنانا چاہتا ہے ہر ایک کی قسمت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ غذائے روحانی کی ڈش بھیجتا ہے۔ اور جو میں گزارش کررہا ہوں اس پر اگر عمل کرلیا جائے تو اولیائے صدیقین کی خطِ انتہا تک پہنچ کر ان شاء اللہ! اللہ کے پاس جانا ہوگا۔ ذرا سی محنت ہے، اللہ کا راستہ بہت آسان راستہ ہے۔ جتنی محنت جتنی پریشانی گناہوں کے کرنے میں ہے اتنا ہی آرام گناہوں سے بچنے میں ہے کیوں کہ گناہ ایک کام ہے اور بتائیے! کام کرنا آسان ہے یا کام نہ کرنا؟ ظاہر ہے کہ کام نہ کرنا آسان ہے۔ بس کام نہ کیجیے اور آرام سے رہیے یعنی گناہ نہ کیجیے اور سکون سے رہیے۔ جن لوگوں نے گناہ چھوڑ دیا انہوں نے بتایا کہ پہلے ہم آگ میں جل رہے تھے اور جب سے گناہ چھوڑ دیے ایسا لگتا ہے کہ جیسے دوزخ سے جنت میں آگئے، گرم چلچلاتی دھوپ سے ٹھنڈک میں ہماری روح آگئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر گناہ کا تعلق اللہ کے غضب سے ہے اور اللہ کے غضب میں ٹھنڈک نہیں ہے۔ دوزخ بھی اللہ کے غضب کا مظہر ہے، غضبِ الٰہی کے ظہور کی جگہ ہے۔ تو
Flag Counter