عبادت کو عادت بنائیں … از افادات: پیرطریقت مولانا گل رئیس خان نقشبندی
ترتیب و تدوین: صاحبزادہ عبداللہ نقشبندی ناشر : مولانا قاسم نانوتوی لائبریری بنوں
مسلم معاشرہ مسلسل بے چینی کا شکار ہوتا جارہا ہے، نت نئے فتنے، نئے افکارونظریات تیزی سے نوجوانوں کو متاثر کررہا ہے، ایسے حالات میں امت کا رشتہ قرآن وسنت اور اس کے حاملین اسلاف سے جوڑنا وہ نسخہ کیمیا ہے جس سے ہم اپنی نئی پود کو بچا سکتے ہیں۔زیرنظرکتابچہ بھی عبادت کو عادت بنائیں ، پیر طریق مولانا گل رئیس خان نقشبندی خلیفہ مجاز حضرت اقدس مولانا پیرذوالفقار احمد نقشبندی کی منفرد کاوش ہے، جس میں روزمرہ کے مسنون اعمال ،اذکارو عبادت کے علاوہ معاملات اخلاقیات اور معمولات کا مختصر مگر پراثر مجموعہ جمع کیا گیا ہے،کتابچے کے مطالعہ سے مسنون اعمال کا شوق،اخلاق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق اور اعمال صالحہ ذکر و دعا وغیرہ سے رغبت پیدا ہوتا ہے، یہ کتابچہ اپنی ظاہری و معنوی خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہے دلکش طباعت منفرد ٹائٹل ،جوکہ اس کے مرتب صاحبزادہ عبداللہ نقشبندی کے حسن ذوق اور تخلیقی صلاحیتوں کی آئینہ دار ہے۔ بچوں اور بچیوں کے چھوٹے مکامتب ومدارس اور سکولز کے طلبا طالبات کیلئے یکساں مفید۔ ملنے کا پتہ قاسم نانوتوی لائبریری جامعہ دارالھدیٰ جامن روڈ بنوں 0332-9124230 سے مناسب قیمت پر دستیاب ہے
مقالات امینی …… مؤلف : مولانا نور عالم خلیل امینی
ضخامت ٣١٢ صفحات ناشر: مکتبہ الایمان 03323552382
مولانا نور عالم خلیل امینی کسی تعارف کے محتاج نہیں، وہ بیک وقت ایک ادیب،محقق، انشاپرداز اور عربی ادب کے ایک اچھے معلم کے طور پر پہچانے جاتے ہیں ، وہ ماہنامہ ''الداعی'' کے مدیر بھی ہیں جوکہ دارالعلوم دیوبند کا عربی مجلہ ہے اور مولانا کااصل میدان بھی عربی ادب ہے ، تاہم اردو کے بھی وہ ایک اچھے انشاپرداز ہیں ''پس مرگ زندہ ''اور ''کوہ کن کی بات'' جیسے عظیم شاہکاروں کے مؤلف بھی ہیں ۔
زیر تبصرہ مجموعہ ''مقالات امینی'' بھی ان کے اردو انشاپردازی کا اعلیٰ نمونہ ہیں جو زبان وبیان کی حلاوت اور علم وادب کی چاشنی سے لبریز مضامین کا مجموعہ ہے ، یہ مجموعہ دو ابواب(شخصیات اور حالات حاضرہ) پر مشتمل ہے، کُل ٢١مضامین پر محیط ہے ، مضامین کا یہ مجموعہ مولانا امینی کے بکھرے ہوئے جواہر پارے ہیں، یہ مؤلف کی کوئی مستقل تصنیف نہیں، پھر بھی اس مجموعہ کی معنوی محاسن کیساتھ ساتھ ظاہری زیبائش وآرائش میں بھی خوب سے خوب تر بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ مولانا امینی بجا طور پر قابل صد مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اللہ کرے زور قلم.اور زیادہ ہو اور مکتبہ الایمان کراچی کے ارباب اہتمام