استعمال ہونے والے ان کے تبرکات پڑے تھے۔ شفیق بھائی نے انہیں بڑی حفاظت سے سجا بنا رکھا تھا۔ مجھے خیروبرکت کے لئے اسی چارپائی پر بٹھا دیا جو حضرت شیخ کے استعمال میں تھی۔ بتانا یہ ہے کہ حضرت شیخ کی وفات کے بعد بھی ان کے زیر استعمال یادگار چیزوں کو بڑے سلیقے سے رکھنے‘ سجانے اور تبرک حاصل کرنے کی مساعی سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اہل اللہ سے انہیں کس قدر تعلقِ خاطر اور والہانہ محبت تھی۔
الغرض اپنے کتب خانہ کے کام کے ساتھ ساتھ وہ وقت نکال نکال کر جامعہ حقانیہ کے انتظامی امور میں خدمات بھی بلا معاوضہ انجام دیتے تھے اور اس پر وہ خوش رہتے تھے۔
جامعہ دارالعلوم حقانیہ کو جو دیوبند ثانی کا مقام ملا، لاریب یہ شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ کی کرامت‘ ان کے لائق و فائق فرزندان مولانا سمیع الحق اور مولانا انوارالحق کی حسن تدبیر اور حکیمانہ طرز عمل ہے۔ جس نے حقانیہ کی عظمت کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ اور میں سمجھتا ہوں اس میں مولانا سمیع الحق کی فراست بھی ایک مؤثر عنصر کے طور پر شریکِ عمل ہے کہ انہوں نے اپنے عظیم کام‘ عظیم مشن‘ جامعہ کی خدمت کے لئے شفیق مرحوم جیسے مخلص خدام اور وفادار کارکنوں سے اپنی ٹیم کے لئے انتخاب کیا ہے۔ جو روشن دماغ‘ عالی فکر‘ دیانت دار‘ اور باکردار ہیں اس لئے کیمیا اثر ہیں۔ شفیق مرحوم جیسے باتدبیر ساتھی مٹی کا ڈھیلا ہاتھ میں لیں تو اسے سونے کی ڈلی بنا دیتے ہیں۔ اور اگر ٹیم کے ساتھی کوڑھ مغز سطحی اور پست ہوں، دیانت دشمن اور نمائش پسند ہوں تو پھر قدرت کا اٹل اصول ہے کہ خدا ایسے لوگوں کے فیصلوں‘ فکر و عمل اور کردار سے برکت اٹھا لیتا ہے۔ ان کے دن راتوں کی طرح مٹیالے اور ان کے دل جرموں کی طرح کالے بنا دیتا ہے۔ ان کے دماغ بنجر‘ ان کی آنکھیں بے نور‘ اور ان کے کان سماعت سے محروم کردیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ جب کسی کو قدرت کے انتقام کا نشانہ بناتے ہیں تو یہ نہیں کہ دن کی روشنی میں کسی کے سر پر ڈنڈا مار دیتے ہیں۔ وہ کرتے یہ ہیں کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ان کی عقل کی ’’مت‘‘ مار دیتے ہیں۔
شفیق بھائی کو اللہ تعالیٰ نے عظیم کام کے لئے چنا تھا۔ وہ عظیم کام کرگئے۔ وہ ایک عظیم ادارے کے کارکنوں میں ’’بنیاد کے پتھر‘‘ کی حیثیت رکھتے تھے۔ جب تک ادارہ قائم ہے اور اللہ کی وسیع دھرتی پر ادارے کے فضلاء کام کررہے ہیں تب تک بانییّنِ جامعہ کی طرح شفیق مرحوم اور ان جیسے مخلص خدام کے لئے صدقہ جاریہ بھی قائم ہے۔ اور یہ نسلاً بعد نسلٍ قائم رہے گا ان شاء اللہ۔
____________________________