Deobandi Books

انسانیت آج بھی اسی در کی محتاج ہے

35 - 49
رسول ہی کا پیغام اور اسی کا کردار ہے۔
اہلِ میلاد مجھے معاف کریں ، لیکن سچی بات یہ ہے کہ عام طور پر ان تقریبوں اور محفلوں اور بے مقصد و پیشہ ورانہ تقریروں کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی پیاسا آدمی شدت پیاس سے دم توڑ رہا ہو، اور ہم اس کے منہ میں پانی کے چند قطرات ٹپکانے کے بجائے اس کے سامنے پانی کے فضائل و مناقب کا پورا دفتر کھول دیں ، اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگیں کہ تیرا یہ حال درحقیقت پانی سے غفلت برتنے اور اس کے چشمہ اور مرکز سے دور ہوجانے کی وجہ سے ہوا ہے، اور پانی پینے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ تو اس پانی کی اہمیت اچھی طرح سمجھے، اور یہ محسوس کرے کہ یہ تیرے وجود اور زندگی کے لیے کتنا ضروری ہے، اور اس آبِ حیات نے کیسے کیسے مردہ تنوں میں روح تازہ پھونک دی ہے، اس کا ایک قطرہ ذریعۂ حیات اور اس کا ایک جرعہ معجزہ پیدا کرسکتا ہے، یہ ساری تقریر اس غریب کے سامنے کی جاتی رہے، اور حقیقت میں اس کے منھ میں پانی کا ایک قطرہ نہ ٹپکایا جائے۔ جگرؔ مرادآبادی نے شاید اسی موقع کے لیے کہا تھا   ؎
واعظ کا ہر اک ارشاد بجا، تقریر بہت دل چسپ مگر
آنکھوں میں سرور عشق نہیں ، چہرہ پہ یقیں کا نور نہیں 


Flag Counter