Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق محرم الحرام 1437ھ

ہ رسالہ

7 - 15
امام ابوحنیفہؒ کی فراست

مفتی امانت علی قاسمی
	
امام اعظم ابوحنیفہ کو الله تعالیٰ نے بے پناہ فراست وذکاوت سے نوازا تھا، امام صاحب مشکل سے مشکل مسئلہ کو اتنی آسانی سے حل فرماتے تھے کہ بڑے بڑے علم وفن کے تاج دار بھی حیران وششدررہ جاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ وقت کے جبال العلم علماء اور فقہ وحدیث کے آفتاب وماہتاب نے آپ کی ذہانت، حاضر جوابی اور فراست وذکاوت کا اعتراف کیا ہے اور نہ صرف آپ کے معتقدین، بلکہ معاصرین او رمتعصبین نے بھی اس حقیقت کا اظہار کیا ہے۔

عبدالله بن مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو فہم وفراست میں ابوحنیفہ سے بڑھ کر نہیں پایا۔ (تاریخ بغداد459/15) آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگرابوحنیفہ کی عقل کو نصف اہل زمین کی عقل سے تولیں تو ابوحنیفہ کی عقل غالب آجائے گی ۔ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ91/1) ہارون رشید نے جب امام صاحب کے بارے میں سنا تو فرمایا کہ ابوحنیفہ اپنے دل کی آنکھوں سے وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جو ہم اپنے سرکی آنکھوں سے نہیں دیکھ پاتے ہیں۔ ( تاریخ بغداد 369/16) یزید بن ہارون کہتے ہیں میں بہت سے لوگوں سے ملا؛ لیکن میں نے امام ابوحنیفہ سے زیادہ عقل مند کسی کو نہیں پایا۔ (اخبار ابی حنیفہ واصحابہ42/1) امام شافعی فرماتے ہیں کہ عورتوں نے ابوحنیفہ سے زیادہ کسی کو عقل مند پیدا نہیں کیا۔ (مناقب ابی حنیفہ للموفق155/1)

تاریخ کی کتابوں میں امام صاحب کی ذہانت وذکاوت اور فہم وفراست کے بہت سے حیران کن واقعات مذکور ہیں، امام صاحب کی فراست کے ان واقعات سے علمی وفقہی مسائل کی گرہ کشائی کے راستے معلوم ہوتے ہیں، نیز یہ واقعات ہمیں غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں اور فکر صحیح وفکر سلیم کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں، ذیل میں چند واقعات نقل کیے جاتے ہیں، جن سے امام صاحب کا علمی تبحر، جامعیت، کاملیت، قوت استحضار اور مجتہدانہ شان چھلکتی نظر آتی ہے۔

امام صاحب کا حلیمانہ فیصلہ
کوفہ کے ایک شخص نے بڑے دھوم دھام سے ایک ساتھ اپنے دو بیٹوں کی شادی کی، ولیمہ کی دعوت میں تمام اعیان و اکابر موجود تھے، مسعر بن کدام، حسن بن صالح، سفیان ثوری، امام اعظم بھی شریک دعوت تھے، لوگ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک صاحب خانہ بدحواس گھر سے نکلا اور کہا ”غضب ہو گیا“ زفاف کی رات عورتوں کی غلطی سے بیویاں بدل گئیں، جس عورت نے جس کے پاس رات گزاری وہ اس کا شوہر نہیں تھا۔

سفیان ثوری نے کہا امیر معاویہ کے زمانے میں ایسا واقعہ پیش آیا تھا، اس سے نکاح پر کچھ فرق نہیں پڑتا ہے ؛ البتہ دونوں کو مہر لازم ہو گا، مسعر بن کدام، امام صاحب کی طرف متوجہ ہوئے کہ آپ کی کیا رائے ہے ، امام صاحب نے فرمایا پہلے دونوں شوہروں کو بلایا جائے۔ تب جواب دوں گا، دونوں شوہروں کو بلایا گیا۔ امام صاحب نے دونوں سے الگ الگ پوچھا کہ رات تم نے جس عورت کے ساتھ رات گزاری ہے، اگر وہی تمہارے نکاح میں رہے کیا تمہیں پسند ہے؟ دونوں نے کہا: ہاں ! تب امام صاحب نے فرمایا: تم دونوں اپنی بیویوں کو جن سے تمہارا نکاح پڑھایا گیا تھا، اسے طلاق دے دو اور ہر شخص اس سے نکاح کر لے جو اس کے ساتھ ہم بستر رہ چکی ہے۔ ( عقود الجمان، ص:255)

حضرت سفیان ثوری نے جو جواب دیا تھا مسئلہ کے لحاظ سے وہ بھی صحیح تھا، وطی بالشبہ کی وجہ سے نکاح نہیں ٹوٹتا ہے؛ مگر امام صاحب نے جس مصلحت کو پیش نظر رکھا، وہ ان ہی کا حصہ تھا، اس لیے کہ وطی بالشبہ کی وجہ سے عدت تک انتظار کرنا پڑتا، جو اس وقت ایک مشکل امر تھا، پھر عدت کے زمانے ہر ایک کو یہ خیال گزرتا کہ میری بیوی دوسرے کے پاس رات گزار چکی ہے اور اس کے ساتھ رہنے پر غیرت گوارا نہ کرتی اور نکاح کا اصل مقصد الفت ومحبت، اتحاد واعتماد بڑی مشکل سے قائم ہو پاتا۔

تکفیر میں حزم واحتیاط
امام صاحب حتی الامکان مومن کی تکفیر سے احتراز کرتے تھے، امام صاحب کا مسلک تھا کہ اگر کسی مسلمان میں کفر کی ننانوے وجوہات ہوں اور صرف ایک وجہ ایمان کی موجود ہو تو اسی کو ترجیح دی جائے گی او رممکن حدتک مومن کے فعل کی تاویل کی جائے گی، چناں چہ امام صاحب کے مختلف سوانح نگاروں نے یہ واقعہ لکھا ہے کہ ایک شخص امام صاحب کی مجلس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ایک شخص اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا ہے، اس کے باوجود وہ جنت کی خواہش نہیں رکھتا، جہنم سے ڈرتا نہیں، مردہ کھاتا ہے، بلا رکوع وسجدے کے نماز پڑھتا ہے، اس چیز کی شہادت دیتا ہے جسے اس نے دیکھا تک نہیں ، حق بات کو ناپسند کرتا ہے، فتنے کو پسند کرتا ہے،رحمت خداوندی سے دور بھاگتا ہے اور یہود ونصاری کی تصدیق کرتا ہے۔

بظاہر یہ سب وجوہاتِ کفر ہیں ،جو اس شخص میں موجود ہیں، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ جس شخص نے یہ سوال کیا تھا، وہ امام صاحب سے بغض رکھتا تھا، آپ نے پوچھاتم ان سوالات کا حل جانتے ہو؟ اس نے کہا نہیں، لیکن یہ بہت بری چیز ہے، امام صاحب نے اپنے شاگردوں سے پوچھا، اس شخص کے بارے تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟ ان سب نے ایک زبان ہو کر کہا: جس شخص کی یہ صفات ہوں، وہ بدترین انسان ہے، امام صاحب نے فرمایا: میرے نزدیک وہ شخص اولیاء الله میں سے ہے ، سائل کو حیرت ہوئی تو امام صاحب نے فرمایا: سنو! تمہارا یہ کہنا کہ جنت کی آرزو نہیں رکھتا اور جہنم سے نہیں ڈرتا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ شخص جنت کے مالک کی آرزو رکھتا ہے اور جہنم کے مالک سے ڈرتا ہے، تمہارا یہ کہنا کہ مردار کھاتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ مچھلی کھاتا ہے، تمہارا یہ کہنا کہ حق کو ناپسند کرتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص زندگی کو پسند کرتا ہے، تاکہ الله کی خوب اطاعت کرسکے او رموت کو ناپسند کرتا ہے، جب کہ موت حق ہے، تمہارا یہ کہنا کہ فتنہ کو پسند کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ مال اور اودلا کو پسند کرتا ہے، الله تعالیٰ نے فرمایا:”إنما الکم وأولادکم فتنہ“ تمہارا یہ کہنا کہ رحمت سے بھاگتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ بارش سے بھاگتا ہے او رتمہارا کہنا کہ یہود ونصاری کی تصدیق کرتا ہے تو وہ یہود کے اس قول لیست النصاری علی شیء اورنصاری کے قول لیست الیھود علی شیء کی تصدیق کرتا ہے ، جوکہ عین ایمان ہے، یہ سن کر وہ آدمی کھڑا ہوا اور امام صاحب کی پیشانی کو بوسہ دیا او رکہا کہ آپ نے حق فرمایا، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ (عقود الجمان، ص:251)

رافضی نے توبہ کر لی اور شینع حرکت سے باز آگیا
کوفہ کا ایک رافضی حضرت عثمان ذوالنورین کے خلاف بکواس کرتا تھا، کبھی انہیں کافرکہتا اور کبھی یہودی اور امام صاحب کو خبر ہوئی تو دفاع صحابہ میں تڑپ اٹھے او رجب تک اس سے ملاقات نہ کر لی بے چین رہے۔ آخر اس رافضی کے پاس تشریف لے گئے اور بڑے ادب ، محبت اور نرمی سے کہا بھائی ! میں تیری لخت جگر (بیٹی) کے لیے فلاں صاحب کی طرف سے منگنی کا پیغام لایا ہوں، الله نے اس صاحب کو حفظ قرآن کی دولت سے نوازا ہے، اس کی تمام رات نوافل اور تلاوت قرآن میں گزرتی ہے ، خدا کا خوف ہمہ وقت غالب رہتا ہے، تقویٰ میں اس کی نظیر نہیں، رافضی نے کہا: بہت اچھا، یہ تو میری لڑکی کے لیے نہیں، بلکہ ہمارے پورے خاندان کے لیے سعادت ہے، امام صاحب نے فرمایا، مگر اس میں ایک عیب ہے کہ مذہباً یہودی ہے، رافضی کا رنگ بدل گیا اور جھلا کر بولا: کیا میں اپنی لڑکی کی شادی یہودی سے کر دوں؟ تب امام صاحب نے فرمایا بھائی! آپ تو اپنی لخت جگر کو ایک یہودی کے نکاح میں دینے کو تیار نہیں تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے نور دل کے ٹکڑے ( دو بیٹیاں) حضرت عثمان ( جو آپ کے گمان میں یہودی تھا) کو کس طرح دے دیے؟ امام صاحب کا یہ ارشاد رافضی کی تنبیہ اور ہدایت کا باعث ہوا، وہ اپنے کیے پر نادم او رپشیمان ہوا اور خلوص دل سے توبہ کرکے ہمیشہ کے لیے ایسی حرکتوں سے باز آگیا۔ (عقود الجمان، ص:273)

امانت کے منکر نے امانت واپس کردی
ایک صاحب کوفہ میں ایک شخص کے پاس کچھ امانت رکھ کر حج کو گئے اور واپسی پر انہوں نے اپنی امانت واپس طلب کی تو اس س شخص نے انکار کر دیا، وہ سیدھا امام صاحب کے پاس حیران وپریشان گیا او راپنا حال بیان کیا، آپ نے اس شخص سے فرمایا: ابھی اس واقعہ کو کسی سے بیان مت کرنا اوراس شخص کو اپنے پاس بلوایا اور اس سے تنہائی میں فرمایا کہ ان دنوں چند اشخاص میرے پاس اس مشورہ کے لیے آئے ہیں کہ کون شخص قضاء کی لیاقت رکھتا ہے؟ اگر تو پسند کرتا ہے تو میں تیرے لیے سفارش کردوں گا۔ اس نے بظاہر کچھ انکار کیا؛ لیکن عہدہ کی ہوس سے آخر راضی ہو گیا، امام صاحب نے اس کو رخصت کر دیا اور امانت رکھوانے والے کو بلاکر کہا: تو اب جاکر اپنی امانت طلب کر لے، مل جائے گی، جب اس نے جا کر دوبارہ امانت طلب کی تو اس نے اس خیال سے کہ میری بد دیانتی کا شہرہ ہو جائے گا اور عہدہٴ قضاء سے محروم ہو جاؤں گا، اس نے امانت واپس کر دی، بعد میں امام صاحب کے پاس عہدہٴ قضاء کا طالب ہوا تو آپ نے فرمایا کہ یہ عہدہ تیرے مرتبہ سے کم ہے، اس سے بڑے عہدہ کے لیے میں خیال رکھوں گا۔ ( اخبار ابی حنیفہ واصحابہ للصمیری، ص:40)

ایک عجیب وغریب تدبیر
امام طحاوی نے لیث بن سعد سے روایت کی کہ میں امام صاحب کا ذکر سنتا تھا۔ پھر مجھے امام صاحب کو دیکھنے کی تمنا ہوئی ،اچانک میں نے دیکھا کہ لوگ ایک شخص کے پاس بھیڑ لگائے ہوئے ہیں، میں ادھر متوجہ ہوا تو ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا: اے ابوحنیفہ! میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ابو حنیفہ ہیں، اس آدمی نے کہا کہ میں مال دار آدمی ہوں، میرا ایک لڑکا ہے، میں اس کی شادی کرتا ہوں اور بہت سارا مال خرچ کرتا ہوں، مگر وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور اس طرح میرا مال برباد ہو جاتا ہے، اس کی کوئی تدبیر ہے ؟ امام صاحب نے فوراً فرمایا: اس کو غلاموں کے بازار میں لے جاؤ، جب وہ کسی باندی کو دیکھنے لگے تو تم اس باندی کو اپنے لیے خرید کر اس کے ساتھ نکاح کرا دو، اگر وہ طلاق دے گا تو وہ تمہارے ملک میں رہے گی اور اگر آزاد کرے گا تو اس کا عتق جائز نہ ہو گا۔ لیث بن سعد کہتے ہیں خدا کی قسم! ان کا صحیح اور برجستہ جواب دینا مجھ کو بہت پسند آیا۔ ( تذکرة النعمان، ص:244)

امام ابویوسف کو تنبیہ
خطیب بغدادی نے محمد بن سلمہ سے اور ابو عبدالله صیمری نے فضل بن غانم سے روایت کی ہے کہ امام ابو یوسف بیمار ہو گئے تو امام صاحب نے ان کی متعدد بار عیادت کی، آخری بار جب عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو ان کو بہت کمزو رپایا تو انالله پڑھا اور فرمایا: تمہارے بارے میں توقع ہے کہ تم میرے بعد مؤمنین کے لیے موجود ہو گے او رتمہاری موت کی مصیبت مؤمنین پر آئی تو تمہارے ساتھ علم کا بڑا ذخیرہ ضائع ہو جائے گا۔

ایک روایت یہ ہے کہ امام صاحب نے فرمایا اگر یہ نوجوان مر گیا تو کوئی نہیں ہے جو اس نوجوان کی جگہ پر کرسکے، یہ خبر امام ابویوسف کو پہنچ گئی، ادھر الله کے فضل سے شفاء ہو گئی تو دل میں عجب پیدا ہو گیا اور علم فقہ کی الگ مجلس قائم کر لی او رامام صاحب کی مجالس میں جانا چھوڑ دیا، لوگوں کی توجہ ان کی طرف بھی ہوگئی، امام صاحب نے ان کے بارے میں لوگوں سے معلومات کیں تو لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنا حلقہ ٴ درس قائم کر لیا ہے، امام صاحب نے ایک آدمی کو بلایا اور فرمایا کہ ابو یوسف کی مجلس میں جاؤ اور معلوم کر وکہ ایک آدمی نے دھوبی کو دو درہم کے عوض کپڑا دھونے کے لیے دیا، کچھ دنوں کے بعد جب دھوبی کے پاس کپڑا لینے گیا تو دھوبی نے کپڑے کا ہی انکار کر دیا او رکہا تمہاری کوئی چیز میرے پاس نہیں ہے، وہ آدمی واپس آگیا، پھر دوبارہ اس کے پاس گیا اور اپنا کپڑا طلب کیا تو دھوبی نے دھلا ہوا کپڑا واپس اسے کر دیا، اب دھوبی کو اجرت ملنی چاہیے یا نہیں؟ اگر وہ کہیں: ہاں! ملنی چاہیے ! تو کہنا: آپ سے غلطی ہوگئی او ر اگرکہیں: اس کو اجرت نہیں ملنی چاہیے ٰ تو بھی کہنا: غلط! وہ آدمی امام ابویوسف کی مجلس میں گیا اور مسئلہ معلوم کیا، امام ابویوسف نے فرمایا: اجرت واجب ہے، اس آدمی نے کہا: غلط! امام ابویوسف نے غور کیا، پھر فرمایا: اس کو اجرت نہیں ملنی چاہیے! اس آدمی نے پھر کہا: غلط ! امام ابویوسف فوراً اٹھے اور امام صاحب کی مجلس میں پہنچ گئے، امام صاحب نے فرمایا: معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو دھوبی کا مسئلہ لایا ہے، ابویوسف نے عرض کیا: جی ہاں ، امام صاحب نے فرمایا: سبحان الله! جو شخص اس لیے بیٹھا ہو کہ لوگوں کو فتوی دے، اس کام کے لیے حلقہٴ درس جمالیا، الله کے دین میں گفتگو کرنے لگا او راس کا مرتبہ یہ ہے کہ اجارہ کے ایک مسئلہ کا صحیح جواب نہیں دے سکتا، امام ابویوسف نے عرض کیا: حضرت صحیح جواب بتا دیجیے! امام صاحب نے فرمایا: اگر اس نے دینے سے انکار کے بعد دھویا تو اجرت کا استحقاق نہیں ہے، کیوں کہ اس نے اپنے لیے دھویا ہے او راگر غصب سے پہلے دھویا تھا تواس کو اجرت ملے گی، اس لیے کہ اس نے مالک کے لیے دھویا تھا۔ (تذکرة النعمان، ص:223)

ابن ابی لیلیٰ کی چھ غلطیاں
حسن بن زیاد لوٴلوٴی کہتے ہیں کہ میرے گھر کے قریب ایک پاگل عورت رہتی تھی، جس کا نام ام عمران تھا، ایک آدمی اس کے قریب سے گزرا اور اس سے کچھ کہا، پاگل عورت نے کہا: یا ابن الزانیین( اے دوزنا کرنے والوں کے بیٹے) اتفاق سے قاضی ابن ابی لیلیٰ نے سن لیا، انہوں نے حکم دیا کہ اس کو پکڑ لاؤ، ابن ابی لیلیٰ نے اس کو مسجد میں داخل کرا کر دو حدیں لگوائیں، ایک ماں پر تہمت لگانے کی، دوسرے باپ پر تہمت لگانے کی، امام صاحب کو معلوم ہوا تو فرمایا: ابن ابی لیلیٰ نے اس فیصلے میں چھ غلطیاں کی ہیں: اول یہ کہ وہ مجنونہ تھی اور مجنونہ پر حد نہیں ہے، دوسری مسجد میں حد لگوائی اور حدود مسجد میں نہیں لگائی جاتیں، تیسری غلطی یہ کی کہ اسے کھڑی کرکے حد لگوائی، جب کہ عورتوں پر حد بیٹھا کر لگائی جاتی ہے ، چوتھی یہ کہ اس پر دو حدیں لگوائیں، جب کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی پوری قوم پر تہمت لگائے تو اس پر ایک حد لگائی جاتی ہے، پانچویں غلطی یہ کی کہ حد لگانے کے وقت اس عورت کے ماں اور باپ موجود نہیں تھے، حالاں کہ ان کا حاضرہونا ضروری تھا، چھٹی غلطی یہ کی کہ دونوں حدوں کو جمع کر دیا،حالاں کہ جس پر دو حد واجب ہوں، جب تک پہلی خشک نہ ہو جائے، دوسری نہیں لگاسکتے، یہ فتوی ابن ابی لیلیٰ تک پہنچ گیا، انہوں نے امیر سے شکایت کر دی، امیر نے امام صاحب کو فتوی دینے سے روک دیا، اس کے کچھ دنوں کے بعد امیر کوفہ عیسی بن موسی کو کچھ مسائل پیش آئے، امام صاحب سے وہ مسائل پوچھے گئے، آپ نے جواب دیا، یہ جواب امیر کو پسند آیا، اس کے بعد اس نے امام صاحب کو اجازت دے دی اور امام صاحب اپنے مسند درس پررونق افروز ہوئے۔ (تذکرة النعمان، ص:234)

دفینہ مل گیا
امام ابویوسف سے روایت ہے کہ ایک شخص امام ابوحنیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے کچھ مال گھر میں دفن کیا تھا، لیکن جگہ بھول گیا کہ کہاں دفن کیا تھا؟ امام صاحب نے فرمایا: تو میں کس طرح بتا سکتا ہوں؟ یہ سن کر وہ آدمی رونے لگا، امام صاحب نے اپنے تلامذہ سے کہا میرے ساتھ اس کے گھر پر چلو، وہ آدمی سب کو لے کر اپنے گھر پر آیا، امام صاحب نے فرمایا: تم سوتے کہاں تھے او رکپڑے کہاں رکھتے تھے؟ وہ آدمی ایک کمرے میں لے گیا، اب امام صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا اگر یہ گھر آپ لوگوں کا ہوتا او رکچھ دفن کرنا ہوتا تو کہاں دفن کرتے؟ ایک نے کہا: یہاں، دوسرے نے کہا: وہاں، اس طرح پانچ جگہوں کی نشان دہی کی گئی، امام صاحب نے ان جگہوں پر کھودنے کا حکم دیا، چناں چہ تیسری جگہ کھودنے پر مال نکل آیا، امام صاحب نے اس آدمی سے کہا: الله تعالیٰ کا شکر ادا کر، اس نے تیرا مال لوٹا دیا۔ ( تذکرة النعمان، ص:239)

ضحاک ہکّا بکّا رہ گیا
ابوولید طیالسی سے روایت ہے کہ ضحاک شاری کوفہ آیا او رامام صاحب سے کہا: توبہ کرو، امام صاحب نے فرمایا کس چیز سے؟ اس نے کہا حَکَم کو جائز قرار دینے سے، امام صاحب نے اس سے فرمایا: تو مجھے قتل کرے گا یا مناظرہ؟ اس نے کہا: مناظرہ۔ تو امام صاحب نے فرمایا اگر کسی چیز میں ہمارا تمہارا اختلاف ہو تو فیصلہ کون کرے گا؟ اس پر ضحاک نے کہا: تم جس کو چاہو فیصل بنا لو، امام صاحب نے اس کے ساتھیوں میں سے ایک شخص سے کہا: بیٹھ جاؤ، جس چیز میں ہمارا اختلاف ہو،فیصلہ کرنا! پھر ضحاک شاری سے فرمایا: میرے اور اپنے درمیان اس کے حکم ہونے پر راضی ہو؟ اس نے کہا ہاں، تو امام صاحب نے فرمایا: پھر تو تم نے خود ہی تحکیم کو جائز قرار دے دیا، اس پر ضحاک ہکّا بکّا رہ گیا۔ (تذکرة النعمان، ص:236)

طلاق سے بچنے کی بہترین تدبیر
امام ابوحنیفہ نے حماد کی ماں کے علاوہ ایک اور عورت سے نکاح کر لیا، جب حماد کی ماں کو معلوم ہوا تو انہوں نے اصرار کیا کہ دوسری بیوی کو طلاق دے دو اور خود امام صاحب سے الگ ہو گئیں، امام صاحب نے ایسی تدبیر کی کہ حماد کی ماں کو یقین ہو گیا کہ نئی بیوی کو تین طلاق پڑ گئی ہے اور ان کے قلب کو سکون ہو گیا۔

ہوا یہ کہ امام صاحب نے دوسری بیوی سے کہا کہ ام حماد کے پاس آنا، میں وہاں آؤں گا اورآکر یہ مسئلہ پوچھنا کہ جب کسی نے کسی دوسری عورت سے نکاح کر لیا تو کیا پہلی عورت کے لیے جائز ہے کہ اپنے شوہر کو چھوڑ دے؟ امام صاحب کی تعلیم کے مطابق وہ آئیں اور یہی سوال کیا، امام صاحب نے جواب دیا کہ اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے شوہر کو چھوڑ دے، حماد کی ماں سن رہی تھی، کہنے لگی جب تک نئی بیوی کو طلاق نہیں دوگے میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی، اس پر امام صاحب نے فرمایا: میری ہر وہ عورت جو اس گھر کے باہرہے اس کو تین طلاق ، بس کیا تھا، ام حماد خوش ہو گئیں او رمعافی مانگی، جب کہ امام صاحب نے نئی بیوی کو طلاق بھی نہیں دی۔ (تذکرة النعمان، ص:251)

قسم سے بچنے کی تدبیر
مناقب زر نجری میں ہے کہ ایک شخص نے قسم کھائی اگر میں انڈا کھاؤں تو میری بیوی کو طلاق، اتفاق سے اس کی بیوی آستین میں رکھ کر انڈا لائی، اس نے کہا جو کچھ تیری آستین میں ہے اسے اگر نہ کھاؤں تو تمہیں طلاق، اس کو معلوم نہیں تھا کہ آستین میں انڈا ہی ہے ، امام صاحب سے مسئلہ پوچھا گیا کہ کس طرح یہ آدمی اپنی قسم سے بری ہو سکتا ہے ؟ امام صاحب نے فرمایا: انڈے مرغی کے نیچے رکھے جائیں، جب بچے نکل آئیں تو ذبح کرکے، بھون کر کھائے یا پکا کر شورباپی لے تو حانث نہ ہو گا، اس طرح جو کچھ آستین میں تھا، اسے کھا لیا، خول اور چھلکے کا اعتبار نہیں، اس لیے کہ یہ کھائے نہیں جاتے ہیں۔ ( تذکرة النعمان، ص:253)

حسن تدبیر کی بہترین مثال
ابوبکر محمد بن عبدالله نے روایت کی ہے کہ ” لو لو یہ“ قبیلہ کے چند لوگ کوفہ آئے، ان میں سے ایک کی بیوی بہت خوب صورت تھی، ایک کوفی شخص اس سے چمٹ گیا اور دعوی کیا کہ یہ میری بیوی ہے، عورت نے بھی کہہ دیا کہ میں اس کی بیوی ہوں، دوسری طرف لولوی نے بھی دعوی کیا کہ یہ میری بیوی ہے، لیکن گواہ نہیں پیش کر سکا، امام صاحب کے سامنے مسئلہ پیش ہوا، امام صاحب قاضی ابن ابی لیلیٰ اور دیگر علماء کو ساتھ لے کر وہاں گئے اور کچھ عورتوں کو حکم دیا کہ لولوی کے خیمہ میں جائیں، جب عورتیں قریب گئیں تو لولوی کے کتے نے حملہ کر دیا، عورتیں واپس ہو گئیں، پھر امام صاحب نے اس عورت کو لولوی کے خیمہ میں جانے کا حکم دیا، جب وہ عورت قریب گئی تو کتا اس کے چاروں طرف دم ہلا ہلا کر گھومنے لگا، امام صاحب نے فرمایا: حق ظاہر ہو گیا، تب عورت نے بھی اعتراف کر لیا اور مرد کے سامنے جھک گئی۔ ( تذکرة النعمان،ص:255)

Flag Counter