Deobandi Books

قافلہ جنت کی علامت

ہم نوٹ :

6 - 26
قافلۂ جنّت کی علامت
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی اَمَّا بَعْدُ
فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ اَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفۡسَ عَنِ  الۡہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾
فَاِنَّ  الۡجَنَّۃَ  ہِیَ الۡمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾آج ایک بہت اہم مضمون بیان کرنا ہے جو ابھی دل میں آیا ہے اور وہ یہ کہ جنت میں جانے کا راستہ کیا ہے؟ جنت کس کا ٹھکانہ ہے؟ منزلِ جنت کے باشندے، جنت میں رہنے والے کون لوگ ہیں؟ یعنی جنت جن کے لیے مقدر ہے وہ کون لوگ ہیں؟ ’’قافلۂ جنت کی علامت‘‘ کیا ہے؟ کیسے معلوم ہو کہ یہ آدمی جنتی ہے اور قافلۂ جنت والا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ اُس کی علامت بیان فرمارہے ہیں کہ وَ اَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفۡسَ عَنِ  الۡہَوٰی  جو اپنے رب کے سامنے حساب کے لیے کھڑے ہونے سے ڈرے کہ اللہ تعالیٰ پوچھیں گے تو کیا جواب دوں گا اور نفس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے تمام تقاضوں سے روکے یعنی اپنا دل توڑ دے،        اللہ پاک کے قانون کو نہ توڑے لہٰذا جب آپ کے دل میں کوئی خواہش پیدا ہو تو اپنے دل ہی سے پوچھو۔ میں آپ ہی کو مفتی بنارہا ہوں کہ اپنے دل سے پوچھو کہ اگر یہ خواہش ہم پوری کرلیں تو ہمارا دل تو خوش ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوگا یا نہیں؟ جب آپ کا دل کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ تو ناخوش ہوجائے گا تو آپ دل کو توڑ دیں، اللہ تعالیٰ کے قانون کو نہ توڑیں۔ جو عظمتِ الٰہیہ کا احترام کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اُسے دنیا میں اور آخرت میں معظم، معزز اور مکرم کرتے ہیں اور جو اپنے دل کی حرام خوشیوں کو نہیں توڑتا اور اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑ کر اپنا دل خوش کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کو توڑ دیتا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
_____________________________________________
1؎   النّٰزعٰت:  41-40
Flag Counter