Deobandi Books

قربانی کے فضائل ومسائل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

4 - 20
’’قَالَ الْحَسَنُ صَلوٰۃُ یَوْمِ النَّحْرِ وَنَحْرُ الْبَدَنِ …قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ ھٰذَاالتَّاوِیلُ یَتَضَمَّنُ مَعْنَیَیْنِ؛اَحَدُھُمَا اِیْجَابُ صَلوٰۃِ الْاَضْحیٰ وَالثَّانِیْ وُجُوْبُ الْاُضْحِیَّۃِ‘‘(احکا م القر آن للجصا ص ج3ص 419 تحت سورۃ الکوثر)
ترجمہ: حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فر مایاکہ اس آیت ’’فَصَلِّ لِرَ بِّکَ‘‘ میں جو نماز کا ذکر ہے اس سے عید کی نماز مراد ہے اور ’’وانحر‘‘سےقربانی مراد ہے۔ حضرت ابو بکر جصا ص رحمہ اللہ فر ماتے ہیں کہ اس سے دو با تیں ثا بت ہو تی ہیں :
1: عید کی نماز واجب ہے۔ 2: قربانی واجب ہے۔
(3) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
’’اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ کَا نَ لَہُ سَعَۃٌ وَلَمْ یُضَحِّ فَلاَ یَقْرَبَنَّ مُصَلَّا نَا‘‘
(سنن ابن ماجہ ص226باب الاضاحی ھی واجبۃ ام لا،مسنداحمد ج2ص321 رقم8254، السنن الکبریٰ ج9ص260کتاب الضحایا،کنز العمال رقم 12261)
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کر ے تو وہ ہما ری عید گاہ کے قر یب نہ بھٹکے۔
وسعت کے با وجود قربانی نہ کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سخت وعید ارشاد فر ما ئی اور وعید ترک واجب پر ہو تی ہے۔ تومعلوم ہوا قربانی واجب ہے۔
(4) حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
’’کُنَّاوُ قُوْفاً عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَۃَ فَقَالَ یَااَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ عَلٰی کُلِّ اَہْلِ بَیْتٍ فِیْ کُلِّ عَامٍ اُضْحِیَۃً وَعَتِیْرَۃً‘‘
(سنن ابن ماجہ ص226باب الاضاحی ھی واجبۃ ام لا،سنن نسا ئی ج2ص 188)
تر جمہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:اے لوگو ! ہرگھروالوں پر ہر سال قربانی اور عتیرہ واجب ہے۔
اس حدیث سے دوقسم کی قربانیوں کا حکم معلوم ہوا ایک عید الاضحیٰ کی قربانی اور دوسرا عتیرہ۔

Flag Counter