Deobandi Books

قربانی کے فضائل ومسائل - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

15 - 20
گوشت کا حکم:
افضل یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں ایک حصہ اپنے گھر کے لیے،ایک حصہ رشتے داروں اور دوست واحباب کے لیے اور ایک حصہ فقرا ء ومساکین میں تقسیم کیا جائے، ہاں اگر عیال زیادہ ہوں تو سارا گوشت خودبھی رکھ سکتے ہیں۔(فتاویٰ عالمگیریہ ج5ص370)
اگر قربانی کے جانور میں کئی حضرات شریک ہوں تو گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جا ئے اندازے سے تقسیم کر نا جائز نہیں۔(البحرالرائق:ج8ص198)
قربانی کا گو شت فروخت کرنا یا اجرت میں دینا جائز نہیں۔(بدائع الصنائع ج4ص225)
قربانی کی کھال:
اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتے ہیں مثلاً مصلیٰ، مشکیزہ وغیرہ بنا سکتے ہیں البتہ اس کو فروخت کرکے قیمت استعمال میں لانا جائز نہیں بلکہ فقراء کو دینا واجب ہے۔(عالمگیری ج3 ص 372)
نیزکھال کی قیمت مسجد کی تعمیر میں نہیں لگا ئی جا سکتی اسی طرح کسی فلاحی ادارہ میں بھی اس کا خرچ کرنا درست نہیں کیو ں کہ اس میں ضروری ہے کہ اس کا فقرا ء ومساکین کو مالک بنا دیا جا ئے ،لہذا بہتر یہ ہے کہ قربانی کی کھال کسی دینی مدرسہ اور جامعہ کے طلبا ء کو دی جائے کیوں کہ اس میں ان کی امداد کر نے کا ثواب بھی ہے اور علم دین کے احیاء کا سبب بھی۔
تکبیراتِ عیدین
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز دو رکعت ہے جوچھ زائد تکبیروں کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قرأت سے پہلے تین زائد تکبیریں کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد تین زائد تکبیریں کہہ کررکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جاتے ہیں۔
پہلی رکعت میں تین زائد تکبیرات چونکہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر ثناء کے متصل بعد کہی جاتی ہیں اور دوسری رکعت میں یہ تکبیرات کہہ کر متصل رکوع کی تکبیر کہی جاتی ہے، اس لیے اس اتصال کی وجہ سے پہلی رکعت 
Flag Counter