ترجمہ: حضرت کردوس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت ابو مسعود اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے پاس تہائی رات گزرنے کے بعد پیغام بھیجاکہ یہ مسلمانوں کی عید کا دن ہے، اس میں نماز کا کیا طریقہ ہے؟ ان سب نے کہا: ابو عبد الرحمٰن یعنی عبد اللہ بن مسعود سے پوچھو۔
چنانچہ قاصد نے ان سے پوچھاتو آپ نے فرمایا: کھڑے ہو کر چار تکبیریں(ایک تکبیر تحریمہ اور تین تکبیرات زائدہ) کہے۔پھر سورۃ الفاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، یہ پانچ تکبیریں ہوئیں۔ پھر(دوسری رکعت میں) کھڑے ہو کر سورت فاتحہ اور مفصل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑھے، پھر چار تکبیریں کہے جن میں سے آخری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے، عید الفطر اور عید الاضحی میں یہ نو تکبیریں بنتی ہیں۔ان سب حضرات میں سے کسی نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔[جو کہ ان حضرات کی طرف سے زبر دست تائید ہے کہ یہی طریقہ صحیح ہے]
5: حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تکبیراتِ جنازہ کے چارہونے پر تمام صحابہ اورکا اتفاق ہوا۔ حدیث کے الفاظ ہیں:فَاجْمَعُوْا اَمْرَھُمْ عَلٰی اَنْ یَجْعَلُوْا التَّکْبِیْرَ عَلَی الْجَنَائِزِ مِثْلَ التَّکْبِیْرِ فِی الْاَضْحیٰ وَالْفِطْرِ اَرْبَعَ تَکْبِیْرَات۔
(شرح معانی الآثار ج1ص319 باب التکبیر علی الجنائز کم ھو ؟)
ترجمہ: تو انہوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ نماز عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر کی چار تکبیروں کی طرح جنازہ کی بھی چار تکبیریں ہیں۔
6: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ:فِی الْاُوْلٰی خَمْسُ تَکْبِیْرَاتٍ بِتَکْبِیْرَۃِ الرَّکْعَۃِ وَ بِتَکْبِیْرَۃِ الْاِسْتِفْتَاحِ وَ فِی الرَّکْعَۃِ [الْاُخْرٰی] اَرْبَعَۃٌ بِتَکْبِیْرَۃِ الرَّکْعَۃِ(مصنف عبد الرزاق: ج3 ص166رقم الحدیث 5702باب التکبیر فی صلوۃ العید)
ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز عید کی پہلی رکعت میں رکوع اور تحریمہ کی تکبیر کو ملا کرپانچ تکبیریں ہوتی ہیں اور دوسری رکعت میں رکوع والی تکبیر کو ملا کر چار تکبیریں بنتی ہیں[خلاصہ یہ کہ ہر رکعت میں زائد تکبیروں کی تعداد تین ہے۔]