Deobandi Books

ماہنامہ الفاروق کراچی ذوالقعدہ 1429

ہ رسالہ

6 - 15
***
مغرب طالبان سے مذاکرات پر تیار، ہمیں جنگ کی تلقین کیوں؟
محترم ثروت جمال اصمعی
”بادشاہتوں کا قبرستان“ کہلانے والاافغانستان ایک بار پھر اپنی تاریخ دہرارہا ہے ۔ سات سال پہلے اس جری اور غیور قوم کو غلام بنانے کی آرزو لے کر اس پر یلغار کرنے والی استعماری طاقتیں پکار اٹھی ہیں کہ یہ لوہے کہ چنے چبائے نہیں جاسکتے۔ برطانوی کمانڈر اور سفیر سے لے کر ، امریکی وزیر دفاع، اقوام متحدہ کے مندوب، وائٹ ہاؤس کے ترجمان اور ڈنمارک کے وزیر خارجہ تک سب کہہ رہے ہیں کہ اس جنگ میں فتح ناممکن ہے اور اب طالبان سے بات چیت کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے ہیں اور یکے بعد دیگرے سب ہی چیخ اٹھے ہیں۔ اس سلسلے کا آغاز افغانستان میں برطانوی سفیر شیررڈ کو پرکولز کے ایک فرنچ ڈپلومیٹک ٹیلی گرام میں مذکورہ تبصرے سے ہوا جو فرانس کے تحقیقی ہفت روزہ جریدے Le Canard Enchaine کے ہاتھ لگ جانے کی بنا پر منظر عام پر آگیا۔ دو صفحات پر مشتمل یہ ٹیلی گرام دو ستمبر کو کابل میں مقیم فرانس کے نائب سفیر Francois Fitou نے اپنی حکومت کو بھیجا تھا۔ نیویارک ٹائمز نے چار اکتوبر کو اس کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی۔ اخبار کے مطابق اس تبصرے میں برطانوی سفیر نے کہا:
” افغانستان میں مزید فوج بھیجنے سے صورت حال بہتر ہونے کے بجائے اور خراب ہو جائے گی۔“ اور یہ کہ ” افغانستان میں موجود نیٹو افواج، پارٹ آف دی پرابلم ہیں، پارٹ آف دی سلوشن نہیں۔“ برطانوی سفیر نے اپنے تبصرے میں مزید کہا:” موجودہ صورت حال خراب ہے۔ سیکورٹی کی کیفیت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ یہی حال کرپشن کا ہے ۔ حکومت پر اعتبار بالکل ختم ہو چکا ہے … کولیشن کی موجودگی، بالخصوص اس کی فوجی موجودگی، مسئلے کا حصہ ہے ، اس کا حل نہیں۔ بیرونی افواج ایک ایسی حکومت کی زندگی کا باعث ہیں جو ان کے بغیر تیزی سے زمین بوس ہو جائے گی ۔ اب تک وہ محض اس بحران کی رفتار کو کم کرنے اور پیچیدہ بنانے کا کام کر رہی ہیں، جسے امکانی طور پر ظہور میں آنا ہے… امریکا کے صدارتی امیدواروں کو افغانستان کی دلدل میں مزید دھنستے چلے جانے سے لازماً باز رکھا جانا چاہیے۔ اس کے (مزید فوج بھیجنے کے) نتائج الٹے ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں قابض طاقت کی حیثیت سے ہماری شناخت مزید پختہ ہو گی اور مزاحمت کاروں کا ہم اور بھی زیادہ ہدف بنیں گے… ہمیں (امریکیوں کو) بتا دینا چاہیے کہ ہم شکست کی نہیں، فتح کی حکمت عملی کا حصہ بننا چاہتے ہیں ۔“ اس تبصرے میں برطانوی سفیر نے افغانستان کے مسئلے کا حل ایک قابل قبول ڈکٹیٹر شپ کا قیام تجویز کیا ہے۔ 
برطانوی سفیر کا یہ تبصرہ تو خفیہ تھا جو ایک اخبار کی سراغرسانی کے سبب سامنے آگیا۔ مگر افغانستان میں برطانوی فوج کے اس مہینے سبکدوش ہونے والے کمانڈر بریگیڈیئر مارک کارلٹن اسمتھ نے تو علی الاعلان کہہ دیا ہے کہ ” ہم طالبان کو شکست نہیں دے سکتے۔“ لندن ٹائمز نے چھ اکتوبر کو اپنے آن لائن ایڈیشن میں شائع ہونے والے ان کے انٹرویو کی یہی سرخی لگائی ہے۔ اخبار کے مطابق برطانوی کمانڈر سمجھتے ہیں کہ ” طالبان کو کبھی شکست نہیں دی جاسکے گی۔ “ (Taliban willnever be defeated)۔ لندن ٹائمز کے مطابق بریگیڈیئر اسمتھ نے طالبان کے ساتھ سیاسی سمجھوتے کے لیے بات چیت کی ضرورت کا اظہار کیا۔ افغان مزاحمت کے ہاتھوں بھاری نقصان اٹھانے والے برطانوی افواج کے کمانڈر نے مزید کہا کہ ”طالبان کے مقابلے میں فوجی فتح نہ تو قابل عمل ہے نہ قابل تائید۔“ اس مہینے کی چھ تاریخ کو کابل میں اقوام متحدہ کے سفیرKai Eidi نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا” ہم سب جانتے ہیں کہ ہم فوج کے ذریعے سے نہیں جیت سکتے۔ یہ جنگ سیاسی ذرائع سے جیتنا ہوگی۔“ اس سے پہلے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس ایسے ” قابل مفاہمت باغیوں“ سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں جنہیں القاعدہ سے تعلق توڑنے اور امریکی اور نیٹو افواج سے جنگ ختم کرکے مستقبل کی افغان حکومت میں شمولیت پر راضی کیا جاسکے۔ امریکی وزیر دفاع نے اس سلسلے میں سعودی عرب کی مبینہ کوششوں کی تائید کا اعلان بھی کیا ہے ۔ سی این این کے مطابق سعودی فرماں روا شاہ عبدالله کی خصوصی کوششوں سے یہ بات چیت مکہ مکرمہ میں رمضان کے آخری عشرے میں ہوئی اور چار دن جاری رہی ۔ اس میں طالبان کے گیارہ، گلبدین حکمت یار کی جانب سے ایک اور کرزئی حکومت کے دو نمائندے شریک تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کو بات چیت پر تیار کرنے میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جو سعودی عرب میں دو ہفتے قیام کے بعد حال ہی میں وطن واپس آئے ہیں۔
عین ان ہی دنوں حامد کرزئی نے ٹی وی پر خطاب میں بتایا کہ وہ شاہ عبدالله کو دو سال سے خط لکھ کر اس جانب متوجہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ عالم اسلام کے لیڈر کی حیثیت سے وہ افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور اس مقصد کے لیے طالبان کے ساتھ افغان حکومت کی بات چیت کا بندوبست کرائیں۔ انہوں نے اپنی اس کوشش کے بار آور ہونے کے بارے میں امید کا اظہار بھی کیا۔ اسی خطاب میں صدر کرزئی نے طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر سمیت تمام طالبان رہنماؤں کو ” اپنے ملک واپس آنے“ کی دعوت بھی دی۔ طالبان کی جانب سے اگرچہ سعودی عرب میں کسی باقاعدہ مذاکراتی عمل میں شرکت سے انکار کیا گیا ہے، مگر گمان کیا جاتا ہے کہ وہ اس عمل میں غیر رسمی طور پر شریک رہے ہیں ۔ ایشیا ٹائمز آن لائن کی آٹھ اکتوبر کی ایک رپورٹ کے مطابق ” اگر کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے میں کام یابی حاصل ہو جاتی ہے تو افغانستان میں آئندہ سال ہونے والے انتخابات نیٹو کے بجائے اسلامی ملکوں کی امن افواج کے زیر اہتمام کرائے جاسکتے ہیں ۔“ اس کے باوجود طالبان قیادت انتہائی ہوش مندی سے کام لے رہی ہے اور یہ مشکل ہے کہ انہوں نے جنگ کے میدان میں جو کچھ حاصل کیا ہے ، مغربی شاطر مذاکرات کی میز پر انہیں اس سے محروم کرنے میں کام یاب ہو سکیں۔ چناں چہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف امریکا کے مطابق ملا محمد عمر نے اپنے پیغام عید میں افغانستان کی سرکاری فوج کو چور، اسمگلر اور جرائم پیشہ قرار دیتے ہوئے اپنے وطن سے غیر ملکی افواج کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ طالبان کی جانب سے کسی بھی مفاہمت کے لیے غاصب افواج کی واپسی لازمی شرط رہی ہے اور امید یہی ہے کہ یہ شرط افواج کی عملاً واپسی تک برقرار رہے گی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بڑی سے بڑی سامراجی طاقت عوامی مزاحمت کے سامنے کبھی نہیں ٹھہر سکی، جب کہ افغانستان کوتو مورخ کے قلم نے ”بادشاہتوں کا قبرستان“ لکھا ہے۔ کل یہاں ایک سپر طاقت جس ذلت انگیز انجام سے دو چار ہوئی تھی ،آج دوسری سپر طاقت اپنے اتحادیوں سمیت وہاں پہنچ چکی ہے ۔ان شاء الله وہ دن جلد آئے گا جب سویت فوجوں کی طرح امریکی اور نیٹو افواج بھی افغانستان سے بصد سامان رسوائی رخصت ہوں گی۔ تمام آثار بتاتے ہیں کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مذاکرات کی کوششیں بنیادی طور پر واپسی کے کسی محفوظ راستے کی تلاش کے لیے ہیں ۔ جنگ میں ناکامی کے بعد وہ مذاکرات کی میز پر معاملات طے کرکے کسی قدر عزت سے جانے کے لیے کوشاں ہیں ۔ شاید اسی لیے ہم سے ان کا مطالبہ ہے کہ ہم طالبان سے بات چیت کے بجائے زیادہ سے زیادہ جارحانہ انداز میں جنگ کریں، تاکہ وہ ہمیں الجھا کر خود واپسی کا محفوظ راستہ پاسکیں۔ پاکستانی قوم کو اس جال میں ہر گز نہیں پھنسنا چاہیے اورحکومت پاکستان کو فاٹا میں جاری فوجی آپریشن بلاتاخیر بند کرکے امریکی استعمار کے خلاف مزاحمت کرنے والی قوتوں سے بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے چاہئیں۔ (بشکریہ جنگ، کراچی)

Flag Counter