Deobandi Books

دربار نبوت کی حاضری

9 - 82
و مورخانہ انداز میں نہیں بلکہ عاشقانہ اور مستانہ لَے میں، مگر علم و ادب کی چاشنی اور شرعی و فقہی بصیرت اور تفسیری و حدثنی نکات و تحقیقات کے ساتھ اُن لوگوں کو سُنائی ہے جن کو ابھی تک یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی، یا نصیب ہوئی ہے لیکن کسی محرم عقل و عشق کی زبان سے وہ سننا چاہتے ہیں۔ میں نے یہ مضمون اُسی زمانے میں پڑھا تھا جب یہ پہلی بار "الفرقان" کے حج نمبر میں ۹۶۳۱؁ھ میں شائع ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ طیّبہ کے طویل قیام میں جب میں "جامعہ اسلامیہ" کے خطبات کے لئے ٹھہرا ہوا تھا، ایک دن طبیعت میں کچھ بے کیفی محسوس ہوئی اور دل کا تقاضا ہوا کہ اس میں تحریک پیدا کرنے والی کوئی نظم ملے، میں نے کہیں سے "الفرقان" کا وہ نمبر حاصل کر لیا اس میں ان کی مگدھی یا بہاری زبان کی نعت شائع ہوئی ہے، جس کا مطلع ہے ؂
پیارے محمد جگ کے سجن       تم پر واروں تن من دھن
قمری صورتیا من موہن             کیہو کرا ہو تم درشن 
جیا کنھڑے    دلوا ترسے 
کر پا کے بدوا      کہیا برسے 
خوب یاد ہے جب یہ شعر پڑھے 
 تمری دواریا کیسے چھوڑوں       تم سے توڑوں سے کس سے جوڑوں 
تمری گلی کی دھول بٹوروں       تمرے نگر میں دم بھی توڑوں 
جی کا اب ارمان یہی ہے 
آٹھوں پہر اب دھیان یہی ہے

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تقریب 5 1
3 پیش لفظ 7 1
5 بقیع کا ایک واقعہ 79 1
6 11 1
Flag Counter