Deobandi Books

دربار نبوت کی حاضری

8 - 82
پھر اگر کسی شخصیّت میں کلیمی کے ساتھ حکیمی اور عشق کے ساتھ عقل بھی جمع ہو جائے اور اس کو حکیمی اور کلیمی کے ساتھ قلم کی شکل میں وہ "عصائے کلیمی" بھی مل جائے جس کے متعلق خود اقبال نے کہا ہے۔؏
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا؟
تو پھر نہ صرف وہ خود اپنے عشق ومستی کے مزے اٹھاتا ہے بلکہ اس دولت کو اپنے قلم کی ضرب کلیمی سے دوسروں پر بھی لٹاتا ہے، اور لوگوں کو گھر بیٹھے منیٰ و عرفات، صفا و مروہ اور مدینہ کی گلیوں کے اسی طرح سے عالم بتخیل میں پھیرے کرا دیتا ہے جیسے خود اقباؔل نے " ارمغان حجاز" کے خیالی سفر میں کئے تھے۔
ہمارے علم و تجربہ میں (اور راقم سطور اس کا شاہد عینی ہے) مولانا سید مناظر احسن صاحب گیلانیؒ ان صفات کے (جن کو بہت سے لوگوں نے متضاد سمجھا ہے) جامع تھے، اور اس مشہور شعر کے مصداق ؂ 
در کفےِ جام شریعت درکفے سندان عشق 
ہر ہوسنا کے نداندجام و سندان بافتن
انہوں نے اسی جذب و شوق کے پروں سے اڑ کر ( جس کی داستان انہوں نے مزے لے لے کر اپنے سفر نامہ حج اور پیش نظر مضمون" دربار نبوت کی حاضری " میں سنائی ہے) 7291؁ء میں حج بیت اللّٰہ اور زیارت مدینہ کا سفر کیا، پھر چونکہ اللّٰہ نے ان کو عشق کے ساتھ علم اور قلب کے ساتھ قلم بھی دیا ہے اس سفر کی حکایت مصنفانہ

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تقریب 5 1
3 پیش لفظ 7 1
5 بقیع کا ایک واقعہ 79 1
6 11 1
Flag Counter