گڑگڑائیے گا، روئیے گا"۔
ـــــــــــــــــــــــ
رات کی تاریک فضاء کو بمبئی میل کا دیو ہیکل انجن چیرتا، پھاڑتا، چیختا چلاتا ہوا چلا جارہا تھا اور اسی طویل گاڑی کے ایک گوشہ میں خدا جانے کن کن آرزؤں پر لوٹے ہوئے ایک فقیر بے نوا بمبئی سے قریب ہوتا جارہا تھا، رات کٹ گئی، دن آیا وہ بھی گزرگیا، پھر رات آئی اور دوسرے دن کی صبح آٹھ بجے وکٹوریہ ٹرمینس پر گاڑی ٹھہر گئی۔ پلیٹ فارم پر مولانا عبدالماجد صاحب کی جھلک محسوس ہوئی، وہ پہلے تشریف لاچکے تھے، نوازش فرمائی تھی کہ جو تنہا آرہا ہے ا سکو اپنے ساتھ شہر لے جائیں، مرحوم مولانا شوکت علی کے ساتھ "خلافت ہاؤس" میں وہ ٹھہرے ہوئے تھے، فقیر کو بھی وہیں لے جا کر اس کمرے میں ٹھہرایا جس میں ہمارے فاضل قدیم دوست مولانا عرفان مرحوم قیام فرما تھے، اب اس وقت یاد نہیں رہا کہ بمبئی میں کتنے دن ٹھہرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ جہاز کا انتظار تھا، مولانا عبدالباری صاحب بھی لکھنّو سے تشریف لاچکے تھے، مجھے کچھ خبر نہ ہوئی کہ ٹکٹ کب لیا گیا اور پاسپورٹ کی کاروائی کب ہوئی، کیسے ہوئی، بظاہر شاید آٹھ دس دن بمبئی میں قیام رہا، کھانا دونوں وقت مولانا شوکت علی مرحوم کے ساتھ ہم لوگ کھاتے رہے۔ ٹونک کے ایک پرانے