ملنے والے مولانا ریاض النور بمبئی جمعیت العلماء کے رکن خاص تھے، اور کسی مسجد میں جس کا نام اب یاد نہ رہا اسی میں مولانا ریاض النور کا قیام تھا، کبھی کبھی ان سے ملنے چلا جاتا تھا، انہوں نے میرے ساتھ یہ دیکھ کر کہ پان کا عادی ہوں، چند سیر گٹکہ ( بھوپال والا) بنوا کر یہ کہتے ہوئے حوالے کر دیا کہ حجاز میں پان نہ ملے گا، اس وقت یہی گٹکا مغتنم ثابت ہو گا، سامان سفر میں ٹفن کیریر جو تھا بمبئی ہی میں اسے چھوڑ دیا گیا اور بجائے اس کے ایک کیمپ کارٹ جہاز پر لیٹنے پوٹنے کے لئے اور سمندر کے نظارے کے لئے کپڑے کی ایک آرام کرسی خریدی گئی، آخر وقت جہاز میں سوار ہونے کا آگیا، سمندر کا یہ پہلا سفر تھا کیمپ کارٹ اور آرام کرسی خوب کام آئی، دس دن جہاز میں گذرے ، ملّا علی قاری کی کتاب المناسک ساتھ تھی، اسی سے مسائل کا التفات کر کر کے ان حاجیوں کو بتا دیا جاتا تھا جو پوچھتے تھے، کبھی کبھی رات کی تاریکی میں جہاز کی آخری بالائی سطح پر تنہا چلا جاتا، سامنے سمندر کا پانی اور جگمگاتے تاروں سے بھرے ہوئے آسمان کا سنّاٹےکے اس عجیب و غریب وقت میں نظارہ، جہاز بڑھتا جا رہا تھا، اس خطہ اور پاک سر زمین کی طرف بڑھتا جا رہا تھا، دل کی گہرائیوں سے جس کے متعلق رہ رہ کر آواز آتی تھی
فرخا شہرے کہ تو باشی دراں اے خنک شہرے کہ تو باشی دراں