دس جوڑے کرتوں اور پائجاموں کے اور بنیائن وغیرہ رکھ دیئے۔ اب یہی دونوں تکیے میرے تکیے بھی تھے، اور یہی کپڑوں کا بقچہ بھی، ٹرنک بھی یہی سوٹ کیس بھی، یہ تو مختصر سا بسترا تھا، ایک ٹفن کیریر اور چمڑے کا پورٹ منٹو جیسا ایک بیگ بس یہی کل کائنات سامانِ سفر کی تھی۔
بمبئی میل رات کے تین چار بجے گیاؔ سے روانہ ہوتا ہے، مجھے میرے عزیز بھائی نے ریل کے ڈبے میں بٹھا دیا۔ اور ان کے سینے میں جو د بی ہوئی آواز تھی، گریہ اور بکا کی آواز کے ساتھ مل جل کر نکل رہی تھی، وہ کہ رہے تھے:۔
"سرکار کے دربار میں جا رہے ہیں اس غریب دور افتادہ امتی کا سلام عرض کر دیجئے گا، اور عرض کر دیجئے گا کہ اُمت جس حال میں ہے اس کی طرف توجہ فرمائی جائے، ایمان و اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہوئے بغاوت پر لوگ آمادہ نظر آرہے ہیں، عہد وفا بھلایا جا رہا ہے"۔
کچھ یہ اور اسی قسم کی باتیں بے ساختہ رخصت کرتے وقت وہ کہتے جا رہے تھے ، میرا دل بھی بھر آیا۔ گاڑی نے سیٹی دے دی، اپنے عزیز بھائی کے اس آخری پیغام کے سوا اب دماغ اور دل میں کچھ نہ تھا، گاڑی روانہ ہو گئی، دونوں بھائی ایک دوسرے سے یہ کہتے ہوئے جدا ہو گئے کہ " اُمت کے بکھرے ہوئے شیرازے کو جس کی دعا سمیٹ سکتی ہے وہاں جا کر کچھ پیروی کیجئے گا،۔