Deobandi Books

دربار نبوت کی حاضری

24 - 82
نہیں ہے"۔ یہ مولانا کے دل کی بات تھی چونکہ میری طرف سے کسی رجحان کو نہیں پاتے تھے وہ خاموش تھے، میرے اس عرض پر شگفتہ ہوگئے، مگر جس تالے کی کنجی گم ہے اس کے کھلنے کی کیا صورت ہوگی؟
اب کیا بتاؤں کہ جس تالے کی کنجی میری ناقص و جاہل عقل کے نزدیک گم شدہ تھی، وہ میرے سامنے کس رنگ میں لائی گئی؟ تفصیل سن کر کیا کیجئے گا "بیدہ الخیر" نے اپنا ہاتھ کھول دیا۔ نہ کسی سے قرض ہی لینا پڑا، اور نہ امداد و اعانت کی رسوائی و ذلت کی برداشت کی صلاحت اپنے اندر پیدا کرنے پر مجبور ہوا، کسی کو خبر بھی نہیں ہوئی، اسی ہفتہ عشرہ کے تنگ وقت میں ساری کاروائی نیچے سے اوپر تک طے پاگئی۔ اور ٹھیک جس دن مولانا لکھنؔؤ اس لئے روانہ ہوئے کہ والدین کو ساتھ لے کر حج پر روانہ ہوجائیں خاکسار بھی اپنے اعزہ و اقرباء سے ملنے اوررخصت ہونے کے لئے حیدرآباد سے راہی بہاؔر ہوا، ماہ رمضان المبارک کی آخری تاریخوں میں گھر پہونچا، عید کی نماز پڑھی، اور اہل وطن سے رخصت ہوکر بمبئی کے ارادے سے روانہ ہوگیا، میرے منجھلے بھائی برادرم مکارم احسن گیلانی سلمّہ گیاؔ تک بمبئی میل پر سوار کرنے کے لئے ساتھ آئے، صرف ایک دری ایک کمبل دو چادروں کے علاوہ دو تکیے بسترے میں رکھے گئے، ان تکیوں سے روئی نکال لی گئی تھی، اور یہ ہمارے برادر عزیز مکارم سلمہ کی جدت طرازی تھی کہ روئی کی جگہ ان ہی دو تکیوں میں انہوں نے آٹھ

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تقریب 5 1
3 پیش لفظ 7 1
5 بقیع کا ایک واقعہ 79 1
6 11 1
Flag Counter