کے ابھرنے کا موقع کیا تھا؟ مولانا عبدالباری اپنے ملنے جلنے والوں سے جب مسئلہ حج پر گفتگو شروع فرماتے تو ندامت و خجالت کی زردی چہرے پر پھیل جاتی، زبان بھی بند ہو جاتی اور شاید شنوائی کا رشتہ بھی قلب کے ساتھ باقی نہ رہتا، لوگ مختلف مشورے مولانا کو دیتے، یہ کیجئے وہ کیجئے، حج کے پرانے تجربہ کار سفر کے نشیب و فراز اور ضرورتوں سے آگاہ کرتے اور دور پلنگ پر لیٹا ہوا ایک معذور و مجبور صرف کروٹوں پر کروٹیں بدلنے کے سوا کچھ نہ کرتا تھا نہ کچھ کر سکتا تھا۔
دن گزرتے رہے، قصے ہوتے رہے، تا اینکہ شاید ہفتہ عشرہ سے زیادہ وقفہ باقی نہ رہا کہ حیدر آباد سے حج کی رخصت کی کاروائی مکمل کرانے کے بعد مولانا عبدالباری اپنے رفیق کو اسی مکان میں چھوڑ کر روانہ ہو جائیں، ولولے اٹھتے تھے اور دب دب جاتے تھے لیکن وقت کی تنگی اپنے آخری حدود پر پہنچ گئی تھی کہ:۔
اچانک عزم کی بجلی سی تھی جو سینے میں چمک اٹھی ، شاید رات کی تاریکی میں اس عزم کا مقدس نور قلب میں پیدا کیا گیا، دوسرے دن وہی جو مہینوں سے اس مسئلہ کے متعلق مولانا عبدالباری کے لئے کچھ اجنبی اجنبی سا بنا ہوا تھا، اسی نےمولانا سے عرض کیا کہ" فرمائیے اپنی ہمرکابی میں اس کو بھی شریک ہونے کی اجازت مل سکتی ہے جس کی شرکت کا بہ ظاہر کوئی ذریعہ سردست پیش نظر