Deobandi Books

دربار نبوت کی حاضری

22 - 82
الغرض علالت کے اس دوران میں منجملہ دوسری نعمتوں کے ایک اس غیر مترقبہ نعمت سے بھی سرفرازی ہوئی کہ مولانا عبدالماجد اور مولانا عبدالباری ان دونوں بزرگوں کے ساتھ روابط میں غیر معمولی استحکام و استواری پیدا ہوگئی اور امید اسی کی ہے کہ ان بزرگوں کی ذرؔہ نوازیوں سے دنیا کے ساتھ "الآخرہ" میں بھی استفادہ کا موقع انشاء اللہ عطا کیا جائے گا کہ ان رواسم و روابط کی بنیاد "تقویٰ" پر قائم ہے، ساری خلتیں جس دن عداوتوں سے بدل جائیں گی۔ الا المتقین کو اس عام قانون سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
ـــــــــــــــــــــ
خلاصہ یہ ہے کہ حیدرآباد کے جس مکان میں خاکسار اور مولانا عبدالباری مقیم تھے، اب اس مکان میں صبح و شام حج اور اس کے مقدمات و تمہیدات کا تذکرہ چھڑا، اور اس طرح چھڑا کہ جیسے جیسے سفر کا زمانہ قریب آتا جاتا تھا اس تذکرے کے سوا دوسرے تذکروں کی گنجائش کم ہوتی جاتی تھی، سامنے یہ قصّہ تھا اور اس عرصہ میں مولانا عبدالماجد صاحب کے مکاتیب میں بھی حج ہی کے ارادے اور تیاریوں کا ذکر ہوتا، سمند ناز پر جو مسلسل تازیانے کا کام کررہا تھا، ہوک دل میں اٹھتی تھی علالت کے طویل سلسلے نے جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے میری مالی حالت کو زبوئی کی آخری حدود تک پہنچا دیا تھا، قرض اور دیوؔن  کے بار ہی سے پیٹھ جھکی ہوئی تھی، ایسی صورت میں دبی ہوئی آرزو

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تقریب 5 1
3 پیش لفظ 7 1
5 بقیع کا ایک واقعہ 79 1
6 11 1
Flag Counter