تمری دواریا کیسے چھوڑوں
تم سے توڑوں تو کس سے جوڑوں
تمری گلی کی دھول بٹوروں
تم رے نگر میں دم بھی توڑوں
جی کا اب ارمان یہی ہے
آٹھوں پہر اب دھیان یہی ہے
"تم سے توڑوں تو کس سے جوڑوں"؟ اس استفہائی مصرعہ کو بار بار دہراتے اور بے قرار ہو ہوکر بلبلاتے، اور ہے بھی یہ سوال کچھ اس قسم کا، آج انسانیت زمین کے اس خاکی کرے پر تڑپ رہی ہے، زندگی کا مطلب کیا ہے؟ اس سوال کو حل کرنا چاہتی ہے، ایک ڈیوڑھی کے سوا خود ہی سوچئے کہ دنیا میں کون سا آشیانہ ایسا باقی رہا ہے جہاں واقعی اس سوال کے جواب کی صحیح توقع کی جائے؟ اس تنہا واحد آستانے سے ٹوٹنے والا خود سوچے کہ کہاں جائے گا۔ کن کے پاس جائے گا؟ موسیٰ علیہ السلام ہوں، یا عیسیٰ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام ہوں یا یعقوب علیہم السلام یا ان کے سوا کوئی اور، اس راہ کے ان سب راہبروں نے اپنے اپنے وقتوں میں جو راہ پیش کی تھی۔ جب وہ ساری راہیں مسدود ہوچکی ہیں، تاریخ جانتی ہے کہ ڈھونڈنے والوں کو ان بزرگوں کی بتائی ہوئی راہ نہیں مل سکتی تو اب دنیا کہاں جائے اور اس کے سوا کہ ع
جلؤہ ات تعبیر خواب زندگی (اقباؔل)