اُن کھر پتوا تمرے سے چلی ہے
ان کا پتہ تم سے چلے گا
کھوجو ابھی ان کا تمرے سے ملی ہے
سراغ ان کا آپ ہی سے ملے گا
پی کی پتیا تم ہی لے لہو
محبوب کا خط آپ ہی لائے
ان کھربتیا تم ہی سنی لہو
ان کی باتیں آپ ہی نے سنائیں
ہنی کے نندیا سے تم جگے لہو
ہم لوگوں کو نیند سے آپ ہی نے جگایا
مرل تھلبئی تم ہی جلے لہو
مرے ہوئے تھے تم ہی نے جلایا
دھرمی بھے لوں تم ری دیا سے
مومن ہوئے تمھاری مہربانی سے
مکتی بھی ہوا سی ہی تمری وددا سے
نجات بھی ہوگی آپ ہی کی دعا سے
"درشن" کی آرزو اس عجیب و غریب اضطراری نظم کی روح تھی، بہاؔر کے نائب امیر شریعت مولانا سجاد مرحوم اگرچہ بہ ظاہر فقیہ النفس والصورت تھے، مگر ذاتی تجربے کے بعد یہ ماننا پڑتا ہے کہ باطن ان کا فقیہ سے زیادہ فقیر تھا۔ قرابت کے تعلقات کی وجہ سے گیلان بھی تشریف لاتے تھے، اسی زمانے میں اتفاقاً ان کی تشریف آوری ہوئی، اس نظم کے سننے کا موقعہ ان کو بھی ملا۔ سنتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے، خصوصیت کے ساتھ اس بندؔ پر تڑپ تڑپ گئے، ہچکیاں ان کی بندھ گئیں، یعنی دوسرا بند ؎