Deobandi Books

دربار نبوت کی حاضری

20 - 82
کا فیصلہ کرتے ہوئے"تم سے توڑوں تو کس سے جوڑوں"؟ کہا ہوا اسی چوکھٹ کے ساتھ چمٹ جائے، جس کے سوا شہادت والوں کو غیب تک پہونچنے اور پہونچانے کا کوئی دوسرا ذریعہ باقی نہیں رہا ہے۔
بہر حال ہسپتال سے نکلنے کے بعد ڈاکٹروں کے حسب مشورہ چھوٹا ناگپور کے شہر ہزاری باغ میں کچھ دن گذارے کہ نسبتاً وہاں کا موسم اس زمانے میں ٹھنڈا سمجھا جاتا ہے کہ آب و ہوا وہاں کی عموماً صحت پرور ہے۔ ہزاری باغ ہی میں پہلے اٹھنے بیٹھنے اور آخر میں کچھ چلنے پھرنے کی قوت بتدریج واپس ملنے لگی، پھر اپنے دیہاتی مستقر گیلانی کی طرف واپس ہوگیا، تقریباً چھ مہینے اس سلسلے میں ختم ہوئے جامعہ عثمانیہ سے اتنے دنوں تک غائب رہا۔ تنخواہ بھی نصف ملتی رہی، اور ڈاکٹری علاج میں مصارف کا غیر معمولی بار عائد ہوا ؂۱۔ غالباً جنوری ۸۲۹۱؁ء میں پھر جامعہ عثمانیہ میں رجوع ہو گیا، اور کام کرنے لگا۔ تقریباً یہ سال بھی پورا ہوا، مولانا عبدالباری ندوی استاذ جامعہ اور فقیرکچھ دن سے ایک ہی مکان میں رہنے لگے تھے۔ بیماری کے نازک دنوں میں مولانا نے زبانی ہی نہیں بلکہ عملی ہمدردی بھی فرمائی۔ واپسی کے بعد پھر ان ہی کے ساتھ قیام رہا کیوں کہ تعلقات 
------------------------------
؂۱ والد مرحوم حافظ سیّد ابو الخیر فرمایا کرتے تھے کہ ڈاکٹری علاج میں جسم اور روپے کی تھیلی دونوں میں بہ یک وقت آپریشن کے عمل کی ضرورت ہوتی ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تقریب 5 1
3 پیش لفظ 7 1
5 بقیع کا ایک واقعہ 79 1
6 11 1
Flag Counter