علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کیوں اطلاع نہ دی گئی؟ تب لوگوں نے کچھ اِدھر اُدھر کی باتیں کیں۔ راوی کا بیان ہے کہ اس (مرنے والے مسلمان) کو ہیچ میزر قرار دیا۔ یعنی فقیر، مگر رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قبر مجھے بتاؤ کہ کہاں ہے؟ قبر کی نشان دہی کی گئی، آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس (کسمپرس غریب مسلمان) کی قبر پر تشریف لائے اور قبر ہی پر اس کی آپؐ نے نماز پڑھی (یعنی جنازے کی نماز پڑھی)
(بخاری جلد1 ، 187 مجتبائی)
شاید کچھ اسی قسم کےواقعات کی طرف اشارہ کیا ہے کہنے والے نے اس مشہور شعر میں
دو عالم بہ کا کل گرفتار داری بہ ہر موہزاراں سیہ کارداری
زسر تا بپا رحمتی یا محمدؐ نظر جانب ہر گنہ گار داری
صبح ہوئی، عجیب صبح تھی، یہ دیکھنے کے لئے کہ پاؤں کا زخم پک کر آپریشن کے قابل ہو چکا؟ ڈاکٹر آئے، آ کر جہاں درد اور ٹیس کی کیفیت تھی ہاتھ رکھا گیا، جو نشتر کی نوک کو تیز کرتے ہوئے آئے تھے، متحیر ہو کو پوچھ رہے تھے کی قصّہ کیا ہوا؟ پھوڑا کہاں پر تھا؟ وہ ڈھونڈھتے تھے اور نہیں ملتا تھا، مریض خستۂ جسم و جاں سے پوچھا جا رہا تھا اور وہ خاموش تھا، آخر اس فیصلہ پر مجبور ہوئے