کہ آٹھویں آپریشن کی ضرورت باقی نہ رہی، کیوں باقی نہ رہی؟ یہ ایک راز تھا جس سے نہ اس وقت وہ واقف ہوئے اور نہ ہو سکتے تھے، سیہ کار پر نظر رحمت پڑ چکی تھی ، کالے حقیر سمجھے جانے والے حبشی کی ڈھیر پر کھڑے ہو کر عالمین کی جس رحمت نے دعا کی تھی، مغفرت کی وہی دعا آج ایک سیاہ کار کے لئے کارگر ثابت ہوئی۔
ہر ہر عضو گرا ہوا تھا، چلنا پھرنا تو دور کی بات ہے، قسم ہے اسی خدائے زندہ و توانا کی، جو مُردوں سے زندوں کو اور زندوں سے مُردوں کو نکالتا ہے کہ ایک سیکنڈ دو سیکنڈ کے لئے ابھی بیٹھنے کی آرزو جس سیاہ بخت کے لئے مہینوں سے صرف آرزو بنی ہوئی تھی، بخت کی بیداری کے بعد دیکھا جا رہا تھا کہ اب وہ اٹھ رہا ہے اٹھتا چلا جا رہا ہے، جس کی موت کا فیصلہ کیا جا چکا تھا، وہ دوبارہ گویا زندوں میں پھر شریک کر دیا گیا۔ ہسپتال والوں نے چند ہی دنوں بعد حکم دے دیا کہ اب یہاں رہنے کی ضرورت نہیں ہے، حکم کی تعمیل کی گئی، پھر آگے کیا قصے پیش آئے ان کی تفصیل غیر ضروری ہے، شعور اور احساس میں ایک خیال کے سوا دوسرا خیال، یا ایک جذبے کے سوا دوسرا کوئی جذبہ باقی نہ رہا تھا، اس زمانے میں میں بہاؔر میں تھا، بہؔار کی دیسی آبادی جو دیہاتوں میں رہتی ہے ایک خاص قسم کی زبان بولتی ہے، اس زبان میں اور کچھ ہو یا نہ ہو، لیکن التجا و التماس کے اس کا پیرایہ حد سے زیادہ موزوں اور مناسب ہے، بے ساختہ اسی زبان میں کچھ مصرعے ابلنے لگے، سن کر تو اردو زبان کے