کا مسئلہ کافی دشوار تھا۔
ایک کھٹولے کو موٹر میں، موٹر سے ریل میں، لوگ جنازے یا تابوت کی طرح منتقل کر رہے تھے، کیوؔل جنکشن پر ایک گاڑی سے دوسری گاڑی میں یہی کھٹولا جب قلیوں کے کندھوں پر منتقل ہو رہا تھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک مرے ہوئے کتّے کو پھینکنے کے لئے لوگ لےجا رہے ہیں۔ بہرحال پٹنہ یہی کھٹولا بیمار کے ساتھ پہنچا۔ ہسپتال میں داخل ہوا، دو۲ ڈھائی مہینےکی مدت میں سات آپریشن مختلف اعضاء پر کئے گئے، تماشا یہ تھا کہ آپریشن کر کے مواد ایک عضو سے جب ڈاکٹر خارج کرتے تھے ، تو دو تین دن کے وقفہ کے بعد کسی دوسرے عضو میں ٹیس اور درد کا زور شروع ہوتا، اور یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہتا، تا اینکہ ساتویں آپریشن کے بعد پاؤں کی ایک حصّہ میں پھر درد اور ٹیس کی کیفیت شروع ہوئی،گویا آٹھویں آپریشن کی تمہید شروع ہو چکی تھی کہ پھر کیا ہوا؟ اسے کیا بتاؤں؟ بخاری شریف کی روایت جس کا حاصل یہ ہے کہ :۔
مر گیا ایک حبشی (راوی کہتا ہے) یا حبشیہ ، لوگوں نے اس کو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اطلاع کے بغیر دفن کر دیا۔ رسول ؐاللّٰہ نے اس کے متعلق دریافت فرمایا تو عرض کیا گیا کہ یا رسولؐ اللّٰہ اس کا تو انتقال ہو گیا، یہ سن کر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ