Deobandi Books

دربار نبوت کی حاضری

12 - 82
عضو داغدار تھا، اور ایسے داغوں سے داغدار تھا ، جن کا علم دوسروں کو صرف آپریشن کے بعد ہوا، لیکن اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جو اِن پنہانی زخموں کے انگاروں پر لوٹ رہا تھا، اس کا حال کیا ہوگا؟ مگر سبقت رحمتی علی غضبی کی شاید ایک شکل یہ بھی تھی کہ دماغی تعطل نے تکلیف کی شدت کے احساس کو ایک حد تک کند کر رکھا تھا، چالیس دن تک مختلف امراض کے شبہات و شکوک کے تحت اطباء و ڈاکٹروں کا تختۂ مشق اپنے گاؤں گیلانی ہی میں بنا رہا۔ مگر ایک ڈاکٹر جو  بحمد اللّٰہ ! ابھی زندہ ہیں، انہوں نے ابتداء ہی میں مرض کی صحیح تشخیص کر لی تھی کہ نقیح الدم یا پامیا کی بیماری ہے۔ دوسرے اطباء اور ڈاکٹروں کو انہوں نے زبردستی الگ کر دیا۔ اور اپنے اختیار تمیزی سے گویا یوں سمجھئے کہ انہوں نے اپنے زیر علاج ہی رکھا۱؂ جب یہ اندرونی پھوڑے پک گئے ، تب انہوں نے مشورہ دیا کہ دیہات میں اس قسم کے پھوڑوں کا آپریشن ناممکن ہے پٹنہ کا شہر قریب ترین شہر تھا، جہاں جنرل اسپتال کی آسانی تھی طے کیا گیا کہ مجھے پٹنہ پہنچایا جائے ، مگر ایسے بیمار کو کیسے پہنچایا جائے جس کے دونوں ہاتھ بھی بے کار، دونوں پاؤں بھی بے کار، حتیّٰ کہ پشت پر سونے کا مطلب جس کے لئے یہ تھا کہ زخموں پر پڑا رہے ، ایسے بیمار کی منتقلی 
------------------------------
؂۱ ان کا اسم گرامی ڈاکٹر زاہد خاں ہے آج کل شیخوپورہ (ضلع مونگیر) میں خانگی پریکٹس کرتے ہیں۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 تقریب 5 1
3 پیش لفظ 7 1
5 بقیع کا ایک واقعہ 79 1
6 11 1
Flag Counter